🔴 قیام مختار ۔
آٹھویں صدی ہجری میں پیدا ہونے والے اہل سنت کے معتبر عالم نور الدین الهيثمى نے مجمع الزوائد ومنبع الفوائد نامی کتاب تالیف کی .
کتاب هذا کی تالیف کا مقصد یہ تھا کہ باعتبار ترتیب موضوعات کے ذیل میں گزشتہ عامی علما کی کتب سے صحیح روایات کو ایک ہی جگہ اکٹھا کر دیا جائے ، اور یہی وجہ ہے کہ اپنی کتاب مجمع میں انہوں نے روایات کی اسناد کو حذف کر دیا ہے اور مقدمہ میں ان کے صحیح ہونے کے متعلق بیان درج کیا ہے .
چنانچہ ، علامہ هيثمي ، اپنی کتاب مجمع کی جلد نو میں کتاب معجم طبرانی سے ایک روایت ١٥١٥١ نمبر پر یوں درج کرتے ہیں :
ترجمہ:
بحذف اسناد ، شعبی کہتا ہے کہ میں نے خواب میں آسمان سے ایک فوج کو نازل ہوتے دیکھا کہ جن کے ہاتھوں میں نیزے تھے ، اور وہ قاتلان امام حسین ص کا تعاقب کر رہے تھے ، پھر میں نے دیکھا کہ مختار آسمان سے اترے اور انہوں نے قاتلان امام حسین ص کو قتل کر دیا.
اس روایت کو الهيثمي کے بعد بھی علمائے عامہ نقل کرتے رہے ہیں ، مثال کے طور پر ماضی قریب میں سنی علامہ ابی الفضل الغماری نے اسے اپنی کتاب الحجج البینات فی اثبات الکرامات میں تخریج کیا ہے .
اب خدا جانے آج تک یہ لوگ خواب میں مختار ثقفی ع اور الله کی فوج کو کس کس کو قتل کرتے ہوۓ دیکھ لیتے ہیں ، جو خواب سے بیدار ہو کر قیاسی فتوے دینا شروع ہو جاتے ہیں .
مختار ع کی عظمت کو سلام کہ وہ ان کے خوابوں میں آ کر بھی ایک ہی کام کرتے ہیں ،یعنی قتل قاتلان حسین ص .
۔
🔴 اہل سنت نے بھی ایسے ایسے اقوال نقل کیے ہیں جو آپ ہمیں کسی غیر شیعہ کی زبان سے پوری تاریخ اسلام میں کہیں دکھا دیں ۔۔ جیسے ابن خلدون نے لکھا اور علامہ مجلسی نے بھی بحار کی زینت قرار دیا ہے ۔۔
وقال المختار: لو قتلت ثلاثة أرباع قريش لما وفوا بأنملة من أنامل الحسين عليه السلام
مختار کہا کرتا تھا کہ خدا کی قسم اگر قریش کا دو تہائی حصہ بھی قتل کیا جائے تو امام حسین (ع) کی ایک انگلی کے برابر بھی نہیں ہو گا۔
حوالہ جات:
بحار الأنوار، ج 45 ، الصفحة 379
تاریخ ابن خلدون، ج 2 ص 44
الفخری،ص: 122
۔
🔴 قیام مختار میں مختار کے لشکر کا علم دار کون تھا ۔۔
بغدادى لکھتا ہے :
وكان من وجوه شيعته وله منه محلٌّ خاص يستغنى بشهرته عن ذكره. ثم خرج طالباً بدم الحسين رضي الله عنه مع المختار بن أبي عبيد وكان معه حتّى قتل المختار.
ابو الطفيل بزرگان شیعیانِ علی میں سے تھا، اسکو علی (ع) کے نزدیک ایک خاص منزلت حاصل تھی۔ ابو طفیل نے حسین (ع) کے خون کا بدلہ لینے کے لیے مختار کے ساتھ خروج کیا اور وہ مختار کے قتل ہونے تک، اسی کے ساتھ تھا۔
حوالہ : خزانة الأدب ولب لباب لسان العرب، ج4، ص39،
▪️ المعارف میں ابن قتیبہ لکھتا ہے :
أبو الطفيل الكناني رضى الله عنه هو أبو الطفيل عامر بن وائلة رأى النبي وكان آخر من رآه موتا ومات بعد سنة مائة وشهد مع علي المشاهد كلها وكان مع المختار صاحب رأيته...
ابو الطفيل كنانى وہی ابو الطفيل عامر ابن واثلہ ہے کہ جس نے رسول خدا کو دیکھا تھا اور وہ آخری صحابی تھا کہ جو دنیا سے گیا تھا، وہ سن 100 ہجری میں فوت ہوا تھا اور اس نے تمام جنگوں میں شرکت کی تھی اور وہ لشکر مختار کا علمدار تھا۔
المعارف، ج1، ص99
▪️ ابن كثير البدایہ میں بھی تائید کرتا ہے ۔۔
ويقال أنه كان حامل رأيته.
ابو الطفيل لشكر مختار کے پرچم کا حمل کرنے والا تھا۔
ابن كثير الدمشقي، البداية والنهاية، ج9
طبرى، ابو مخنف سے مختار کے ساتھیوں کے نام یوں نقل کرتا ہے :
قال [ابومخنف] ولما نزل المختار داره عند خروجه من السجن اختلف إليه الشيعة واجتمعت عليه واتفق رأيها على الرضا به وكان الذي يبايع له الناس وهو في السجن خمسة نفر السائب بن مالك الأشعري ويزيد بن أنس وأحمر بن شميط ورفاعة بن شداد الفتياني وعبدالله بن شداد الجشمي.
ابو مخنف نے کہا ہے کہ: مختار جب زندان سے آزاد ہو گیا تو وہ اپنے گھر آیا۔ کوفہ کے شیعہ اسکے پاس آئے اور سب نے مختار کی رائے پر اتفاق کر لیا۔ مختار ایسا شخص تھا کہ جب وہ زندان میں تھا تو پانچ بندوں نے اسکی بیعت کر لی تھی، وہ بندے سائب ابن مالک اشعرى، يزيد ابن انس، احمر ابن شميط ، رفاعہ ابن شداد فتيانى اور عبد الله ابن شداد جشمى تھے۔
تاريخ الطبري، ج3، ص434
۔
🔴 وہ افراد جنہوں نے مختار کا ساتھ دیا ان کا مذہب کیا تھا ۔۔
سعد ابن حذيفہ :
شیعہ علماء نے لکھا ہے کہ سعد ابن حذيفہ امام علی (ع) کے اصحاب میں سے تھا۔
سعد بن حذيفة بن اليمان: من أصحاب أمير المؤمنين عليه السلام.
حوالہ : الشاهرودي، مستدركات علم رجال الحديث، ج4 ، ص 27
سعد بن حذيفة اليمان، من أصحاب علي عليه السلام، رجال الشيخ.
حوالہ : معجم رجال الحديث وتفصيل طبقات الرواة، ج9، ص59
طبرى اور دوسرے مؤرخین نے بھی لکھا کہ سعد ابن حذيفہ مختار کی طرف سے شہر مدائن کا قاضی لگایا گیا تھا :
وبعث سعد بن حذيفة بن اليمان على حلوان.
مختار نے سعد ابن حذيفہ ابن يمان کو شہر حلوان بھیجا۔
حوالہ جات :
تاريخ الطبري، ج4، ص509
تاريخ بغداد، ج9، ص123
جنابِ ابراہیم بن مالک اشتر :
ابن نماى حلى لکھتے ہیں۔۔
وَكَانَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَالِكٍ الْأَشْتَرُ مُشَارِكاً لَهُ فِي هَذِهِ الْبَلْوَى وَمُصَدِّقاً عَلَى الدَّعْوَى وَلَمْ يَكُ إِبْرَاهِيمُ شَاكّاً فِي دِينِهِ وَلَا ضَالًّا فِي اعْتِقَادِهِ وَيَقِينِهِ وَالْحُكْمُ فِيهِمَا وَاحِد.
ابراہيم ابن مالک اشتر تمام حالات میں مختار کے ساتھ شریک تھے اور وہ مختار کے دعووں کی تصدیق کرتے تھے، ابراہیم اپنے دین میں شک نہیں کرتے تھے اور وہ اپنے اعتقاد اور یقین میں گمراہ نہیں تھے یہاں تک کہ مختار اور ابراہیم ایک ہی تھے۔
جعفر بن هبة الله، ذوب النضار في شرح الثار، ص58
صاحبِ اعيان الشيعہ لکھتے ہیں:
إبراهيم بن مالك بن الحارث الأشتر النخعي قتل سنة 71.... وكان مع أبيه يوم صفين مع أمير المؤمنين عليه السلام وهو غلام وابلى فيها بلاء حسنا وبه استعان المختار حين ظهر بالكوفة طالبا بثار الحسين عليه السلام وبه قامت امارة المختار وثبتت أركانها.
ابراہيم ابن مالک ابن حارث اشتر نخعى سن 71 ہجری میں شہید ہوئے، انہوں نے اپنے والد کے ہمراہ جنگ صفین میں اس حال میں کہ وہ نوجوان تھے امیرالمومنین (ع) کے لشکر میں شریک ہو کر جنگ کی اور سرخرو ہوئے اور جب مختار نے کوفہ میں قیام کیا تو انہوں نے امام حسین (ع) کے قاتلوں سے انتقام لینے کے لیے ابراہیم سے مدد مانگی اور انہی کے توسط سے مختار کی حکومت قائم و محکم ہوئی۔
أعيان الشيعة، ج2، ص 200
عبد الله ابن حارث:
امیر المؤمنین کے اصحاب میں سے ایک مالک اشتر کا بھائی، عبد الله ابن حارث ہے۔
شيخ طوسى نے ان کو امام علی کے اصحاب میں سے شمار کیا ہے
الطوسي، رجال الطوسي، ص70
سید خوئی اورعلامہ شاھرودی نمازی نے ابھی انہیں اصحاب امیر میں لکھا ہے:
عبد الله بن الحارث أخو مالك: الأشتر: من أصحاب علي (عليه السلام)، رجال الشيخ.
حوالہ جات:
معجم رجال الحديث وتفصيل طبقات الرواة، ج11، ص164
الشاهرودي، مستدركات علم رجال الحديث، ج4، ص508
🔴 وہ افراد جنہوں نے مختار کا ساتھ دیا ان کا مذہب کیا تھا ۔۔
سائب ابن مالک اشعری :
سائب نے مختار کی بیعت کی تھی اور وہ شیعیان علی میں سے تھا۔ جب ابن زبیر کی طرف سے ابن مطیع کوفے کا حاکم بن کر آیا تو اس نے خطبہ دیتے ہوئے کہا: مجھے ابن زبیر نے حکم دیا ہے کہ میں تم لوگوں کے درمیان سیرت شیخین (ابوبکر و عمر) اور سیرت عثمان کے مطابق عمل کروں۔ یہ سن کر سائب ابن مالک کھڑا ہوا اور کہا:
فقال: لا نرضى إلا بسيرة على بن أبى طالب التى سار بها فى بلادنا ولا نريد سيرة عثمان وتكلم فيه ولا سيرة عمر وان كان لا يريد للناس إلا خيرا وصدقه على ما قال بعض أمراء الشيعة فسكت الأمير وقال إنى سأسير فيكم بما تحبون من ذلك وجاء صاحب الشرطة وهو إياس بن مضارب البجلى إلى ابن مطيع فقال: إن هذا الذى يرد عليك من رؤس أصحاب المختار ولست آمن من المختار فابعث إليه فاردده إلى السجن.
ہم علی ابن ابی طالب کی وہ سیرت کہ جو ہمارے شہروں میں رائج تھی، اسی پر ہی ہم راضی ہیں، اور اگر تم لوگوں سے نیک سلوک کرنا چاہتے ہو تو عثمان اور عمر کی سیرت کے بارے میں بات نہ کرو۔ اسکی اس بات کی بعض شیعہ عمائدین نے بھی تصدیق کی اور اس پر ابن مطیع خاموش ہو گیا اور کہا: جس سیرت کو تم پسند کرتے ہو، میں بھی اسی کے مطابق تہمارے ساتھ عمل کروں گا۔ اسی جگہ پر لشکر کے سالار اياس ابن مضارب نے ابن مطیع سے کہا: یہ جو تم پر اعتراض کر رہا ہے، یہ مختار کے دوستوں میں سے ہے اور مجھے مختار پر کوئی اعتماد نہیں ہے، لہذا کسی کو مختار کے پیچھے بھیجو تا کہ وہ اسے دوبارہ زندان میں لا کر ڈال دے۔
البداية والنهاية، ج8، ص265
رفاعہ ابن شداد فتيانى بجلی :
علامہ شاہرودى نے رفاعہ کو امیرالمومنین (ع) کا صحابی گردانا ہے ۔۔
رفاعة بن شداد البجلي: من أصحاب أمير المؤمنين عليه السلام وشهد معه في حرب الجمل... وهو ممن كتب إلى الحسين عليه السلام من أهل الكوفة. ولما ورد الحسين عليه السلام كربلاء، دعا بدواة وبيضاء وكتب إلى أشراف الكوفة: بسم الله الرحمن الرحيم من الحسين بن علي إلى سليمان بن صرد، و المسيب بن نجية، ورفاعة بن شداد، وعبد الله بن وأل، وجماعة المؤمنين - الخ.
قيام هؤلاء الجماعة لطلب ثار الحسين عليه السلام. وكانوا رؤساء على جند المختار وجاهدوا، وله أشعار في الرجز. قاتل رفاعة، قتال الشديد البأس، القوى المراس، حتى قتل.
رفاعہ ابن شداد بجلى، امیر المؤمنین علی (ع) کے شیعوں میں سے تھا کہ جس نے جنگ جمل میں آپ (ع) کے ساتھ شرکت کی تھی۔ رفاعہ ان لوگوں میں سے تھا کہ جس نے امام حسین (ع) کو خط لکھا تھا اور جب امام حسین (ع) کربلا پہنچ گئے تو امام نے کوفہ کے بزرگان کے نام لکھا کہ: بسم اللہ الرحمن الرحیم، یہ خط حسین ابن علی کی طرف سے سلیمان ابن صرد، مسيب ابن نجيہ، رفاعۃ ابن شداد، عبد الله ابن وال اور دوسرے مؤمنین کے نام ہے۔۔۔۔۔ وہ ایسے لوگ تھے کہ جہنوں نے امام حسین (ع) کے خون کا انتقام لینے کے لیے قیام کیا اور وہ لشکر مختار کے سالار تھے اور انھوں نے مختار کے ساتھ مل کر جہاد کیا۔ رفاعہ کے جنگوں کے رجز کے بارے میں اشعار بھی ہیں، رفاعہ نے زبردست جنگ کی، یہاں تک کہ وہ شہید ہو گیا۔
مستدركات علم رجال الحديث، ج3، ص403، رقم 5647
سید خوئى نے بھی لکھا:
رفاعة بن شداد: رجال الشيخ في أصحاب علي عليه السلام، وفي أصحاب الحسن عليه السلام.
رفاعہ ابن شداد شیخ طوسی کے نقل کردہ راویوں میں سے ہے اور شیخ طوسی نے اسکو حضرت علی (ع) اور امام حسین (ع) کے اصحاب میں شمار کیا ہے۔
معجم رجال الحديث وتفصيل طبقات الرواة، ج8، ص203
یہاں تک کہ اہل سنت علماء نے بھی اسے اصحاب امیر (ع) میں شامل کیا ہے
خير الدين زركلى لکھتا ہے :
رفاعة بن شداد البجلي: قارئ، من الشجعان المقدمين، من أهل الكوفة. كان من شيعة علي. ولما قتل الحسين وخرج المختار يطالب بدمه انحاز إليه رفاعة.
رفاعۃ ابن شداد بجلى، قارى قرآن، اہل کوفہ کا بہت شجاع اور شیعیان علی (ع) میں سے تھا۔ جب حسین قتل ہو گئے اور مختار نے جب امام حسین کے خون کا بدلہ لینے کے لیے قیام کیا تو رفاعہ بھی اس کے ساتھ آ کر مل گیا۔
الزركلي الأعلام، ج3، ص29
۔
🔴
#اَلّٰلھُمَّ_لْعَنْ_قَتَلَۃَ_اَلحُسَیِنَؑ_وَ_اُولاَدِ_اَلحُسَیِنَؑ_وَ_اَصحَابِ_الحُسینؑ #تعلیمات_اہلبیت #talimaat_e_ahlbait #plzshare #sharethispost #share #تاریخ #روایت #tareekh #karbala #tareekh #کوفہ #مختار #مختار_ثقفی #mukhtarsaqfi #التماس_دعا #بدر_علی #تبدیلی_ممنوع
Gallery
Tap any image to view full screen