Back to مختار ثقفی

مختار صحابی رسول ص یا مدعی نبوت؟ Post-2

مختار بن ابی عبید، صحابی رسول خدا (ص)، یا مدعی نبوت؟ 

 

Post 2/2

 

🔴 مختار قبیلہ ثقیف میں سے ہے، لہذا حجۃ الوداع کے موقع پر حاضر تھا:

 

گذشتہ مطالب کی روشنی میں مختار قطعا رسول خدا کے اصحاب میں سے ہے، کیونکہ اسکا تعلق قبیلہ ثقیف سے ہے اور حجۃ الوداع میں بھی حاضر تھا۔ اسی وجہ سے ابن حجر عسقلانى نے اسکے بارے میں کہا ہے کہ:

 

📜 وقد تقدم غير مرة أنه لم يبق بمكة ولا الطائف أحد من قريش وثقيف إلا شهد حجة الوداع فمن ثم يكون المختار من هذا القسم.

 

📃 اس سے پہلے بھی کئی مرتبہ بیان ہو چکا ہے کہ سن 10 ہجری میں مکہ اور طائف میں، قبیلہ ثقیف اور قریش میں سے کوئی فرد بھی ایسا باقی نہیں تھا کہ جو حجۃ الوداع میں رسول خدا کے ساتھ شریک نہ ہوا ہو، اسی وجہ سے مختار اس قسم کے اصحاب میں شمار ہوتا ہے۔

 

📚 العسقلاني الشافعي، أحمد بن علي بن حجر ابو الفضل (متوفى852هـ)، الإصابة في تمييز الصحابة، ج6، ص350، تحقيق: علي محمد البجاوي، ناشر: دار الجيل - بيروت، الطبعة: الأولى، 1412هـ - 1992م.

 

اور اسی طرح ابن حجر نے دوسروں کے بارے میں کہا تھا کہ:

 

📜 وهذا القدر كاف في ثبوت صحبة هذا.

 

📃 اور یہ بات اسکے صحابی ثابت ہونے کے لیے کافی ہے۔

 

📚 العسقلاني الشافعي، أحمد بن علي بن حجر ابو الفضل (متوفى852هـ)، الإصابة في تمييز الصحابة، ج2، ص98 تحقيق: علي محمد البجاوي، ناشر: دار الجيل - بيروت، الطبعة: الأولى، 1412هـ - 1992م.

 

پس اہل سنت کے صحابہ کے بارے میں عقیدے کے مطابق، مختار رسول خدا (ص) اصحاب میں سے ایک صحابی ہے۔

 

🔴 پیدا ہونے والے ہر بچے کو خیر و برکت کے لیے، رسول خدا (ص) کی خدمت میں لایا جاتا:

 

ابن حجر عسقلانى نے اپنی كتاب «الاصابۃ في تمييز الصحابہ» میں کہا ہے کہ:

 

🔵 میں نے صحابہ کا ترجمہ (زندگی نامہ و تعارف) حروف تہجی کی ترتیب پر ذکر کیا ہے اور ہر حرف کے ذیل میں چار قسم کے صحابہ کو ذکر کیا گيا ہے:

 

📜 فالقسم الأول - فيمن وردت صحبته بطريق الرواية عنه أو عن غيره، سواء كانت الطريق صحيحة أو حسنة أو ضعيفة، أو وقع ذكره بما يدل على الصحبة بأي طريق كان....

 

📜 القسم الثاني - من ذكر في الصحابة من الأطفال الذين ولدوا في عهد النبي صلي الله عليه وسلم لبعض الصحابة من النساء والرجال، ممن مات صلي الله عليه وسلم وهو في دون سن التمييز؛ إذ ذكر أولئك في الصحابة، إنما هو على سبيل الإلحاق: لغلبة الظن على أنه صلي الله عليه وسلم رآهم لتوفر دواعي أصحابه على إحضارهم أولادهم عنده عند ولادتهم ليحنكهم ويسميهم ويبرك عليهم.

 

📃 قسم اول: میں ان صحابہ کا تعارف ہے کہ جہنوں نے بصورت مستقیم یا واسطے کے ساتھ رسول خدا سے روایت کو نقل کیا ہے، چاہے روایت کا طریق و سند صحیح ہو یا حسن ہو یا ضعیف ہو۔

 

یا قسم اول ان صحابہ کے تعارف کے بارے میں ہے کہ جنکے بارے میں کوئی ایسی چیز نقل ہوئی ہو کہ جو دلالت کرے کہ فلاں شخص صحابی ہے۔۔۔۔۔

 

📃 قسم دوم : میں بعض صحابہ کے ذکر کے بارے میں ہے۔ جیسے صحابہ کے وہ بچے کہ جو رسول خدا کے زمانے میں پیدا ہوئے تھے۔ وہ بچے کہ جو رسول خدا کی شہادت کے وقت ممیّز نہیں تھے۔ (یعنی انکی عمر ابھی زیادہ نہیں تھی) ایسے بچوں کو صحابہ کے دائرے میں شمار کرنا، یہ ملحق کرنے کے مترادف ہے، کیونکہ غالب گمان یہ ہے کہ رسول خدا نے انکو دیکھا ہے، اسلیے کہ اصحاب اپنے بچوں کو مختلف مقاصد اور بہانوں سے رسول خدا کے پاس لے جایا کرتے تھے، جیسے ولادت کے وقت صحابہ اپنے بچوں کو ان حضرت کے پاس لے جاتے تھے، تا کہ وہ خیر و برکت کے لیے انکو گھٹی دیں اور خود ان بچوں کا نام رکھیں۔

 

📚 العسقلاني الشافعي، أحمد بن علي بن حجر ابو الفضل (متوفى852هـ)، الإصابة في تمييز الصحابة، ج1، ص3، تحقيق: علي محمد البجاوي، ناشر: دار الجيل - بيروت، الطبعة: الأولى1412هـ - 1992م.

 

🔴 مختار اصحاب کی اس قسم میں بھی داخل ہے:

 

اصحاب کی اس تقسیم بندی کی بناء پر ابن حجر نے بہت سے مردوں اور عورتوں کو صحابہ کے دائرے میں ذکر کیا ہے، کہ ان میں سے ایک مختار ابن عبيد ثقفى بھی ہے۔ وہ جب مختار کے تعارف کو ذکر کرتا ہے تو کہتا ہے کہ: ابن عبد البر نے اسی دلیل کی وجہ سے اسکو صحابہ میں شمار کیا ہے:

 

📜 ... وكان المختار ولد بالهجرة وبسبب ذلك ذكره بن عبد البر في الصحابة لأنه له رؤية في ما يغلب على الظن.

 

📃 مختار ہجرت کے پہلے سال پیدا ہوا، اسی وجہ سے ابن عبد البر نے اسے صحابہ کے دائرے میں ذکر کیا ہے، کیونکہ بہت غالب امکان ہے کہ اس نے رسول خدا کو دیکھا ہے۔

 

📚 العسقلاني الشافعي، أحمد بن علي بن حجر ابو الفضل (متوفى852 هـ)، لسان الميزان، ج6، ص6، تحقيق: دائرة المعرف النظامية - الهند، ناشر: مؤسسة الأعلمي للمطبوعات - بيروت، الطبعة: الثالثة، 1406هـ – 1986م.

 

🔵 سعد ابن حذيفۃ ابن اليمان:

 

سعد ابن حذيفہ بھی توابین اور سلیمان ابن صرد خزاعی کے ساتھیوں میں سے تھا کہ جو عین الوردہ کی جنگ کے بعد اپنے ساتھیوں کے ساتھ مدائن واپس چلا گیا، لیکن بعد میں مختار کے ساتھ جا کر مل گیا۔

 

ابن كثير نے کتاب البدايہ میں لکھا ہے کہ:

 

📜 وكتب سليمان بن صرد إلى سعد بن حذيفة بن اليمان وهو أمير على المدائن يدعوه إلى ذلك فاستجاب له ودعا إليه سعد من أطاعه من أهل المدائن فبادروا إليه بالاستجابة والقبول وتمالؤا عليه وتواعدوا النخيلة فى التاريخ المذكور.

 

📃 سليمان ابن صرد نے مدائن کے امیر سعد ابن حذيفہ کو خط لکھا اور اسکو امام حسین کے خون کا انتقام لینے کے لیے دعوت دی۔ سعد نے اسکی دعوت کو قبول کر لیا اور سعد نے اپنے یمنی پیروکاروں کو سلیمان کی طرف آنے کی دعوت دی، تو انھوں نے بھی اسکی دعوت کو قبول کر لیا اور سب کا سلیمان پر اتفاق ہو گیا اور ایک مقررہ تاریخ کو نخیلہ کے مقام پر جمع ہونے کا وعدہ کیا۔

 

📚 ابن كثير الدمشقي، ابو الفداء إسماعيل بن عمر القرشي (متوفى774هـ)، البداية والنهاية، ج8، ص247،‌ ناشر: مكتبة المعارف – بيروت.

 

طبرى اور دوسرے مؤرخین نے لکھا ہے کہ سعد ابن حذيفہ مختار کی طرف سے شہر مدائن کا قاضی منصوب ہوا:

 

📜 وبعث سعد بن حذيفة بن اليمان على حلوان.

 

📃 مختار نے سعد ابن حذيفہ ابن يمان کو شہر حلوان بھیجا۔

 

📚 الطبري، أبو جعفر محمد بن جرير بن يزيد بن كثير بن غالب (متوفى310)، تاريخ الطبري، ج4،‌ ص509،‌ ناشر: دار الكتب العلمية - بيروت.

 

📚 البغدادي، ابوبكر أحمد بن علي بن ثابت الخطيب (متوفى463هـ)، تاريخ بغداد، ج9، ص123، ناشر: دار الكتب العلمية – بيروت.

 

🔵 سعد ، اصحاب امام علی (ع) میں سے تھا:

 

بزرگ شیعہ علماء نے لکھا ہے کہ سعد ابن حذيفہ امیر المؤمنین علی (ع) کے اصحاب میں سے تھا۔

 

نمازى شاہرودى نے لکھا ہے کہ:

 

📜 سعد بن حذيفة بن اليمان: من أصحاب أمير المؤمنين عليه السلام.

 

📚 الشاهرودي، الشيخ علي النمازي ( متوفي1405هـ ) ، مستدركات علم رجال الحديث، ج4 ، ص 27،‌ ناشر : ابن المؤلف ، چاپخانه: شفق – طهران، الأولى 1412هـ

 

آيت الله العظمى خويى نے بھی لکھا ہے کہ:

 

📜 5026 - سعد بن حذيفة: اليمان، من أصحاب علي عليه السلام، رجال الشيخ.

 

📚 الموسوي الخوئي، السيد أبو القاسم (متوفى1411هـ)، معجم رجال الحديث وتفصيل طبقات الرواة، ج9، ص59، الطبعة الخامسة، 1413هـ ـ 1992م

 

🔵 ابراہيم ابن مالک اشتر:

 

جیسا کہ بیان ہوا کہ قیام مختار میں بہت سے شیعہ بزرگان کا بہت کلیدی کردار تھا، لیکن جرات سے کہا جا سکتا ہے کہ ان میں سے کوئی چہرہ بھی ابراہیم ابن مالک اشتر کی طرح مختار کے دوستوں اور لشکر میں نہ تھا کہ جس نے مختار کے قیام میں سے سب سے زیادہ جرات اور بہادری کا مظاہرہ کیا تھا۔

 

ابن نماى حلى نے اسکے بارے میں لکھا ہے کہ:

 

📜 وَكَانَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَالِكٍ الْأَشْتَرُ مُشَارِكاً لَهُ فِي هَذِهِ الْبَلْوَى وَمُصَدِّقاً عَلَى الدَّعْوَى وَلَمْ يَكُ إِبْرَاهِيمُ شَاكّاً فِي دِينِهِ وَلَا ضَالًّا فِي اعْتِقَادِهِ وَيَقِينِهِ وَالْحُكْمُ فِيهِمَا وَاحِد.

 

📃 ابراہيم ابن اشتر تمام حالات میں مختار کے ساتھ شریک تھا اور وہ مختار کے دعووں کی تصدیق کرتا تھا۔ ابراہیم اپنے دین میں شک نہیں کرتا تھا اور وہ اپنے اعتقاد اور یقین میں گمراہ نہیں تھا۔ مختار اور ابراہیم ایک ہی تھے۔

 

📚 ابن نما الحلي، جعفر بن محمد بن جعفر بن هبة الله (متوفي645هـ)، ذوب النضار في شرح الثار،‌ ص58، تحقيق: فارس حسون كريم، ناشر: مؤسسة النشر الإسلامي التابعة لجماعة المدرسين بقم المشرفة،‌ الطبعة‌ الاولي 1416

 

ابراہيم امیر المؤمنین علی (ع) کا باوفا اور مخلص صحابی تھا کہ جس نے اپنے والد کے ساتھ جنگ صفین میں شرکت کی تھی اور دشمن کے خلاف ڈٹ کر مقابلہ کیا تھا۔

 

سيد محسن نے كتاب اعيان الشيعہ میں کہا ہے کہ:

 

📜 إبراهيم بن مالك بن الحارث الأشتر النخعي قتل سنة 71.... وكان مع أبيه يوم صفين مع أمير المؤمنين عليه السلام وهو غلام وابلى فيها بلاء حسنا وبه استعان المختار حين ظهر بالكوفة طالبا بثار الحسين عليه السلام وبه قامت امارة المختار وثبتت أركانها.

 

📃 ابراہيم ابن مالک ابن حارث اشتر نخعى سن 71 ہجری میں قتل ہوا اور اپنے والد کے ہمراہ جنگ صفین میں اس حال میں کہ وہ نوجوان تھا امیر المؤمنین کے لشکر میں شریک ہو کر جنگ کی اور اس نے وہ اس امتحان سے سرخرو ہوا تھا اور جب مختار نے کوفہ میں قیام کیا تو اس نے امام حسین کے قاتلوں سے انتقام لینے کے لیے، ابراہیم سے مدد مانگی اور اسی کے ذریعے سے مختار کی حکومت قائم اور محکم ہوئی۔

 

📚 محسن (متوفي1371هـ)، أعيان الشيعة، ج2، ص 200، تحقيق وتخريج: حسن الأمين، ناشر: دار التعارف للمطبوعات - بيروت – لبنان، سال چاپ: 1403 - 1983 م

 

مؤرخین کے مطابق ابراہیم نے جب عبید اللہ ابن زیاد کو واصل جہنم کیا تو مختار نے اسکو شہر موصل اور آذربائیجان کا والی مقرر کر دیا:

 

📜 وأقام واليا على الموصل وأرمينية وأذربيجان من قبل المختار وهو على العراق وال.

 

📃 ابراہيم شہر موصل ، ارمنيہ اور آذربيجان پر مختار کی طرف سے والی کے عنوان سے انتخاب کیا گیا در حالیکہ خود مختار اس وقت عراق کا والی تھا۔

 

📚 اليعقوبي، أحمد بن أبي يعقوب بن جعفر بن وهب بن واضح (متوفى292هـ)، تاريخ اليعقوبي، ج2، ص259، ناشر: دار صادر – بيروت.

 

🔵 عبد الله ابن حارث:

 

امیر المؤمنین کے اصحاب میں سے ایک مالک اشتر کا بھائی، عبد الله ابن حارث ہے۔

 

شيخ طوسى نے اسکو امیر المؤمنین علی کے اصحاب میں سے شمار کیا ہے:

 

📜 7 - عبد الله بن الحارث، أخو مالك الأشتر.

 

📚 الطوسي، الشيخ ابو جعفر، محمد بن الحسن بن علي بن الحسن (متوفى460هـ)، رجال الطوسي، ص70، تحقيق: جواد القيومي الأصفهاني، ناشر: مؤسسة النشر الاسلامي ـ قم، الطبعة: الأولى، 1415هـ.

 

آیت اللہ خويى اور علم رجال کے دوسرے علماء نے لکھا ہے کہ:

 

📜 عبد الله بن الحارث أخو مالك: الأشتر: من أصحاب علي (عليه السلام)، رجال الشيخ.

 

📚 الموسوي الخوئي، السيد أبو القاسم (متوفى1411هـ)، معجم رجال الحديث وتفصيل طبقات الرواة، ج11، ص164، الطبعة الخامسة، 1413هـ ـ 1992م

 

📚 الشاهرودي، الشيخ علي النمازي (متوفي1405هـ )، مستدركات علم رجال الحديث، ج4، ص508، ناشر: ابن المؤلف، چاپخانه: شفق – طهران، الأولى 1412هـ

 

🔵 یہ مختار کے قیام میں اسکے ساتھ شریک تھا اور اسکے بعد مختار کی طرف سے ارمنیہ کا والی مقرر ہوا۔

 

طبرى نے نقل كیا ہے کہ:

 

📜 قال أبو مخنف حدثني حصيرة بن عبد الله الأزدي وفضيل بن خديج الكندي والنضر بن صالح العبسي قالوا: أول رجل عقد له المختار راية عبد الله بن الحارث أخو الأشتر عقد له على أرمينية..

 

📃 ابو مخنف نے حصیرہ، فضیل اور نضر سے نقل کیا ہے کہ مالک اشتر کا بھائی عبد اللہ ابن حارث وہ پہلا بندہ ہے کہ جسکو مختار نے ارمینہ کا والی منصوب کیا تھا۔

 

📚 الطبري، أبو جعفر محمد بن جرير بن يزيد بن كثير بن غالب (متوفى310)، تاريخ الطبري، ج3، ص448، ناشر: دار الكتب العلمية - بيروت.

 

🔵 احمر ابن شميط البجلی:

 

مختار کے ایک دوسرے لشکری کا نام احمر ابن شمیط بجلی ہے۔ جاحظ اور بلاذری کی نقل کے مطابق یہ بھی امیر المؤمنین علی (ع) کے شیعوں میں سے تھا کہ ان حضرت کی خلافت کے دوران اس نے بہت سے فرائض کو انجام دیا تھا۔

 

جاحظ اور بلاذرى نے شبيب ابن كريب کے بارے میں بیان کرتے ہوئے، احمر ابن شميط کے بارے میں بھی لکھا ہے کہ:

 

📜 وقال أبو الحسن عن علي بن سليمان كان شبيب بن كريب الطائي يصيب الطريق في خلافة علي بن أبي طالب كرم الله تعالى وجهه فبعث اليه احمر بن شميط العجلي واخاه في فوارس فهرب شبيب.

 

📃 ابو الحسن (مدائنی) نے على ابن سليمان سے نقل کیا ہے کہ شبيب ابن كريب طائى على ابن ابى طالب عليہ السلام کی خلافت کے زمانے میں ڈاکے مارا کرتا تھا۔ ان حضرت نے احمر ابن شميط عجلى اور اسکے بھائی کو ایک لشکر کے ساتھ ، اسکے پیچھے بھیجا، اس پر شبیب فرار ہو گیا۔

 

📚 الجاحظ (متوفي255هـ)، البيان والتبيين، ج1، ص430، تحقيق: فوزي عطوي،‌ دار النشر: دار صعب - بيروت

 

بلاذرى نے بھی اسکے بارے میں لکھا ہے کہ:

 

📜 المدائني عن عوانة بن الحكم قال: كانت شبيب بن عمرو بن كريب الطائي يصيب الطريق، فبعث إليه علي أحمر بن شميط وأخاه فنذر بهم فركب فرساً له يقال له العصا وهرب.

 

📃 شبيب ابن عمرو ڈاکے مارتا تھا، حضرت على عليہ السلام نے احمر ابن شميط کو اسکے ساتھ مقابلہ کرنے کے لیے بھیجا، جب احمر وہاں پہنچا تو شبیب اپنے گھوڑے پر سوار ہو کر فرار کر گیا۔

 

📚 البلاذري، أحمد بن يحيي بن جابر (متوفى279هـ)، أنساب الأشراف، ج1، ص292، طبق برنامه الجامع الكبير.

 

🔴 صحابہ کا مختار کی اقتداء میں نماز ادا کرنا 🔴

 

ابن تیمیہ اور اسکے پیروکاروں کی مختار پر بہت سی تہمتوں میں سے ایک تہمت یہ ہے کہ اس نے نبوت کا دعوی کیا تھا۔ لیکن اہل سنت کی روایات اور انکے علماء کے اقرار کے مطابق ، صحابہ مختار کی اقتداء میں نماز ادا کیا کرتے تھے ! کیا نبوت کا دعوی کرنے والے ایک کافر کے پیچھے نماز پڑھی جا سکتی ہے ؟

 

كافر کی اقتداء میں نماز ادا کرنے کا حکم:

 

اہل سنت کے مذہب کے مطابق کافر کی امامت میں نماز پڑھنے کے شرعی حکم کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ تمام مذاہب اسلامی میں امام جماعت کی خاص شرائط کو ذکر کیا گیا ہے۔ ممکن ہے بعض شرائط مختلف ہوں، لیکن تمام مذاہب اسلامی کا اتفاق ہے کہ امام جماعت کو مسلمان ہونا چاہیے۔

 

امام شافعى نے کہا ہے کہ:

 

📜 إمَامَةُ الْكَافِرِ - ( قال الشَّافِعِيُّ ) رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى وَلَوْ أَنَّ رَجُلًا كَافِرًا أَمَّ قَوْمًا مُسْلِمِينَ ولم يَعْلَمُوا كُفْرَهُ أو يَعْلَمُوا لم تَجْزِهِمْ صَلَاتُهُمْ

 

📃 امامت كافر: شافعى نے کہا ہے کہ اگر ایک کافر مسلمانوں کے امام جماعت بننے کا عہدہ اپنے ذمہ لے لے، مسلمان اسکے کافر ہونے کو جانتے ہوں یا نہ جانتے ہوں، تو انکی نماز اس کافر کے پیچھے صحیح نہیں ہے !

 

📚 الشافعي، محمد بن إدريس أبو عبد الله (متوفي204هـ)، الأم، ج1، ص 168، دار النشر: دار المعرفة - بيروت، الطبعة: الثانية 1393 

 

آبى ازہرى نے لکھا ہے کہ:

 

📜 فاعلم أن الذكورة المحققة شرط في صحة الإمامة، ويزاد على هذا الشرط شروط أخر وهي: الاسلام، فلا تصح إمامة الكافر.

 

📃 آگاہ ہو جاؤ کہ امام جماعت کی امامت کے صحیح ہونے کے لیے اس کا مرد ہونا، شرط (ضروری) ہے۔ اس شرط کے علاوہ دوسری شرائط کا بھی امام جماعت میں ہونا ضروری ہے۔ ان شرائط میں سے ایک، اسلام ہے، پس امام جماعت کا کافر ہونا صحیح نہیں ہے۔

 

📚 الآبي الأزهري، صالح عبد السميع (متوفي9999هـ)، الثمر الداني في تقريب المعاني شرح رسالة ابن أبي زيد القيرواني،‌ ص148، دار النشر: المكتبة الثقافية - بيروت

 

ابراہيم شيرازى نے بھی شافعى کے قول کو اس بارے میں بیان کیا ہے کہ:

 

📜 ولا تصح إمامة الكافر لانه ليس من أهل الصلاة فلا يجوز أن يعلق صلاته على صلاته...

 

📃 کافر کا امام جماعت ہونا صحیح نہیں ہے، کیونکہ وہ اہل نماز نہیں ہے، پس کسی مسلمان کا اپنی نماز کو اس (کافر) کی نماز پر موقوف کرنا، جائز نہیں ہے۔۔۔۔۔

 

📚 الشيرازي الشافعي، ابو إسحاق إبراهيم بن علي بن يوسف (متوفى 476هـ)، المهذب في فقه الإمام الشافعي، ج1، ص97، ناشر: دار الفكر – بيروت.

 

سيف الدين شاشى نے کتاب حليۃ العلماء فى معرفۃمذاہب الفقہاء، میں کہا ہے کہ:

 

📜 ولا تصح إمامة الكافر فإذا صلى بقوم لم يحكم بإسلامه.

 

📃 کافر کا امام جماعت ہونا صحیح نہیں ہے۔ وہ جب بھی جماعت کے ساتھ نماز پڑھے تو اس سے اس پر مسلمان ہونے کا حکم نہیں لگایا جا سکتا۔

 

📚 الشاشي، سيف الدين أبي بكر محمد بن أحمد الشاشي القفال (متوفي507هـ)، حلية العلماء في معرفة مذاهب الفقهاء، ج2، ص169،‌ تحقيق: د. ياسين أحمد إبراهيم درادكة، دار النشر: مؤسسة الرسالة / دار الأرقم - بيروت / عمان،‌ الطبعة: الأولى1980م 

 

نفراوى مالكى نے بھی لکھا ہے کہ:

 

📜 وَاعْلَمْ أَنَّ الْإِمَامَةَ لها شُرُوطُ صِحَّةٍ وَشُرُوطُ كَمَالٍ فَشُرُوطُ صِحَّتِهَا ثَلَاثَةَ عَشَرَ أَوَّلُهَا الذُّكُورَةُ... ثَانِيهَا الْإِسْلَامُ فَلَا تَصِحُّ إمَامَةُ الْكَافِرِ وَإِنْ حُكِمَ بِإِسْلَامِهِ إنْ نَطَقَ بِالشَّهَادَتَيْنِ...

 

📃 امامت جماعت کے صحیح ہونے کی اور اسکے کامل ہونے کی بھی کچھ شرائط ہیں۔ اسکے صحیح ہونے کی 13 شرائط ہیں، پہلی شرط، مرد ہونا ہے۔۔۔۔۔ دوسری شرط، اسلام ہے، پس کافر کی امامت (امام جماعت) صحیح نہیں ہے، اگرچہ شہادتین کے کہنے کی وجہ سے اسکے مسلمان ہونے کا حکم ہی کیوں نہ کیا جاتا ہو۔ 

 

📚 النفراوي المالكي، أحمد بن غنيم بن سالم (متوفي1125هـ)، الفواكه الدواني على رسالة ابن أبي زيد القيرواني، ج1، ص205،‌ دار النشر: دار الفكر - بيروت – 1415

 

🔴نبوت کا دعوی کرنے والا كافر ہے:

 

اسی طرح علمائے اہل سنت کے اعتراف کے مطابق نبوت کا دعوی کرنے والا انسان کافر ہوتا ہے۔ مذہب امامیہ کی طرح دوسرے مذاہب اسلامی بھی منکر نبوت اور مدعی نبوت کو کافر قرار دیتے ہیں۔ اس بارے میں اہل سنت کے بعض علماء کے اقوال کو ذکر کیا جا رہا ہے:

 

كشميرى عالم اہل سنت کہ جس نے کتاب سنن ترمذی کی شرح بھی لکھی ہے، اس نے کہا ہے کہ علماء کا اجماع (اتفاق) ہے کہ مدعی نبوت کافر ہے اور واضح طور پر کہا ہے کہ اسکو قتل کرنا واجب ہے:

 

📜 مدعي النبوة كافر إجماعاً وواجب القتل.

 

📚 الكشميري، محمد أنورشان ابن معظم شان (الوفاة: لا يوجد)، العرف الشذي شرح سنن الترمذي، ج4، ص11،‌ تحقيق: الشيخ محمود شاكر، دار النشر: دار احياء التراث العربي - بيروت/لبنان،‌ الطبعة: الأولى1425هـ-2004م

 

يوسف حنبلى نے کہا ہے کہ:

 

📜 ويحصل الكفر بأحد أربعة أمور:... أو ادعاء النبوة أو الشرك له تعالى...

 

📃 کفر چار چیزوں میں سے کسی ایک کے ساتھ وجود میں آتا ہے:۔۔۔۔۔ ان میں سے ایک نبوت کا دعوی کرنا ہے یا خداوند کے ساتھ کسی کو شریک ٹہرانا ہے، (شرک)۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

📚 الحنبلي، مرعي بن يوسف (متوفي1033هـ)، دليل الطالب على مذهب الإمام المبجل أحمد بن حنبل، ج1، ص317، دار النشر: المكتب الإسلامي – بيروت،‌ الطبعة: الثانية1389

 

🔴 صحابہ کا مختار کی اقتداء میں نماز ادا کرنا:

 

 اہل سنت کے بہت ہی نامور عالم ابن حزم اندلسى کہ شمس الدين ذہبى نے ان الفاظ میں اسکی شخصیت علمی کا تعارف کرایا ہے:

 

📜 ابن حزم الإمام الأوحد البحر ذو الفنون والمعارف أبو محمد علي ابن أحمد بن سعيد بن حزم..

 

📜 قال أبو عبدالله الحميدي كان ابن حزم حافظا للحديث وفقهه مستنبطا للأحكام من الكتاب والسنة متفننا في علوم جمة عاملا بعلمه ما رأينا مثله فيما اجتمع له من الذكاء وسرعة الحفظ وكرم النفس والتدين۔

 

ابن حزم امام بے مثال، بحر علوم و فنون ہے۔

 

📃 ابو عبد الله الحميدى: ابن حزم حافظ روايات، علم میں مہارت رکھنے والا، قرآن و سنت سے احکام کو استنباط کرنے والا، علم پر عمل کرنے والا تھا، میں (ذہبی) نے ذہانت، حافظے کے تیز ہونے، شریف النفس ہونے اور دیندار ہونے میں اس جیسا کوئی نہیں دیکھا۔

 

📚 الذهبي الشافعي، شمس الدين ابو عبد الله محمد بن أحمد بن عثمان (متوفى748 هـ)، سير أعلام النبلاء، ج18، ص 188- 184، تحقيق: شعيب الأرنؤوط، محمد نعيم العرقسوسي، ناشر: مؤسسة الرسالة - بيروت، الطبعة: التاسعة، 1413هـ.

 

ابن حزم کہ جو علمائے اہل سنت کا مورد اکرام عالم ہے، اس نے اپنی کتاب میں واضح کہا ہے کہ: میں نے کسی صحابی کو نہیں دیکھا کہ جس نے مختار ابن عبید کے پیچھے نماز نہ پڑھی ہو۔ یہ بات اس چیز کی علامت ہے کہ صحابہ مختار کو مسلمان مانتے تھے۔

 

پس ابن تیمیہ ناصبی اور اسکے پیروکاروں کی طرف سے مختار پر نبوت کا دعوی وغیرہ کرنے والی تمام تہمتیں جھوٹی اور غلط ہیں۔ بنی امیہ کا دفاع کرنے والوں کی طرف سے مختار پر تمام تہمتیں صرف اور صرف اہل بیت (ع) کا دفاع کرنے اور خاص طور پر یزیدیوں سے امام حسین (ع) کے خون کا انتقام لینے کی وجہ سے لگائی گئی ہیں۔

 

ابن حزم اندلسى نے کتاب المحلى میں کہا ہے کہ:

 

📜 قال عَلِيٌّ: ما نَعْلَمُ أَحَدًا من الصَّحَابَةِ رضي الله عنهم امْتَنَعَ من الصَّلاَةِ خَلْفَ الْمُخْتَارِ وعبيد اللَّهِ بن زِيَادٍ وَالْحَجَّاجِ وَلاَ فَاسِقَ أَفْسَقُ من هَؤُلاَءِ.

 

📃 على ابن حزم نے کہا ہے کہ: میں صحابہ میں سے کسی صحابی کو نہیں جانتا کہ جس نے مختار، عبيد الله ابن زياد، حجاج اور ان سے بھی فاسق تر بندے کے پیچھے نماز پڑھنے سے انکار کیا ہو۔

 

📚 إبن حزم الأندلسي الظاهري، ابو محمد علي بن أحمد بن سعيد (متوفى456هـ)، المحلي، ج4، ص214، تحقيق: لجنة إحياء التراث العربي، ناشر: دار الآفاق الجديدة - بيروت.

 

اسی طرح ابن سعد نے کتاب الطبقات الكبرى میں سند معتبر کے ساتھ نقل کرتے ہوئے کہا ہے کہ:

 

📜 قال حدثنا أبو شهاب (الحناط) عن يونس (بن عبيد بن دينار) عن نافع (مولی‌ ابن عمر) قال قيل لابن عمر زمن بن الزبير والخوارج والخشبية أتصلي مع هؤلاء ومع هؤلاء وبعضهم يقتل بعضا قال فقال من قال حي على الصلاة اجبته ومن قال حي على الفلاح أجبته ومن قال حي على قتل أخيك وأخذ ماله قلت لا.

 

📃 عبد اللہ ابن زبیر، خوارج اور خشبیہ کے زمانے میں عبد اللہ ابن عمر سے کہا گیا کہ: کیا تم ان، ان کے ساتھ نماز پڑھتے ہو، حالانکہ وہ آپس میں ایک دوسرے کو قتل کرتے ہیں ؟ اس نے جواب دیا: جو بھی کہے: جلدی آؤ نماز کی طرف، میں اسکی آواز پر لبیک کہتا ہوں، اور جو کہے: جلدی آؤ فلاح و کامیابی کی طرف، میں اسکی ندا پر لبیک کہتا ہوں، لیکن جو کہے جلدی آؤ اپنے بھائی کو قتل کرنے کے لیے اور اسکا مال لوٹنے کے لیے، تو میں اسکی بات کو نہیں مانتا۔

 

📚 الزهري، محمد بن سعد بن منيع ابو عبد الله البصري (متوفى230هـ)، الطبقات الكبرى، ج4، ص 169، ناشر: دار صادر - بيروت.

 

🔵ان بزرگان کے اقوال سے معلوم ہوتا ہے کہ:

 

1- ایک کافر انسان کا امام جماعت بننا جائز نہیں ہے،

 

2- اور یہ بھی معلوم ہوا کہ نبوت کا دعوی کرنے والا انسان کافر ہوتا ہے۔

 

ان دو نکات کو ذہن میں رکھتے ہوئے، ابن تیمیہ اور ابن کثیر نے کہا ہے کہ مختار نے نبی ہونے کا دعوی کیا تھا، پس وہ کافر ہے، اور اس طرف سے ابن حزم نے صراحت سے کہا ہے کہ مختار کے زمانے میں موجود تمام صحابہ، مختار کی اقتداء میں نماز ادا کیا کرتے تھے۔

 

ان مطلب کی روشنی میں اب ہم ابن تیمیہ ناصبی اور اسکے کند ذہن پیروکاروں سے سوال کرتے ہیں کہ:

 

اگر مختار نے واقعا اپنے نبی ہونے کا دعوی کیا تھا اور وہ کافر تھا تو، پھر کیوں تمام صحابہ اسکی اقتداء میں نماز ادا کیا کرتے تھے ؟

 

کیا مختار نے کسی اندھیری غار میں نبوت کا دعوی کیا تھا کہ کسی کو اسکے نبی ہونے کا علم نہیں تھا ؟ اگر مختار نے کسی دنیاؤی غرض و مال دنیا کے لیے ایسا دعوی کیا تھا تو عقل کہتا ہے کہ اسکو یہ دعوی سب مسلمانوں کے سامنے کرنا چاہیے تھا، تا کہ وہ اپنے مطلوبہ اہداف تک پہنچ پاتا، اور ایسا دعوی اس وقت کے تمام صحابہ کو معلوم ہونا تھا، پس اگر صحابہ کی نظر میں بھی ایسا دعوی کرنے والا شخص کافر ہوتا تو وہ مختار کے پیچھے نماز کیوں پڑھتے ؟

 

جیسا کہ امام شافعی کا فتوی ذکر ہوا کہ صحابہ کو کسی کے مدعی نبوت ہونے کا علم ہو یا علم نہ بھی ہو تو ، اسکے کفر کی وجہ سے انکی نماز قبول نہیں ہوتی ! کیا کوئی مسلمان یہ بات قبول کرنے کے لیے تیار ہے کہ صحابہ کی نماز قبول نہیں ہوتی ؟!!!

 

🔵 دو صحابہ کا مختار کے ہدئیے کو قبول کرنا:

 

مؤرخین کے مطابق مختار اپنے دور حکومت میں رسول خدا کے دو صحابہ ابن عباس اور ابن عمر کے لیے ہدایا بھیجا کرتا تھا اور وہ بھی ان ہدایا کو قبول کر لیا کرتے تھے !

 

 اہل سنت کے سیرت نویس عالم شيبانى نے لکھا ہے کہ:

 

📜 فكان ابن عباس وابن عمر رضي الله عنهم يقبلان هدية المختار.

 

📃 ابن عباس اور ابن عمر مختار کے ہدايا کو قبول کیا کرتے تھے۔

 

📚 الشيباني، محمد بن الحسن(متوفي 198هـ)، السير الكبير، ج1، ص99، تحقيق: د. صلاح الدين المنجد، دار النشر: معهد المخطوطات – القاهرة. طبق بر نامه الجامع الكبير.

 

عالم بزرگ اہل سنت ابن حزم اندلسى نے حبيب ابن ابى ثابت سے ایسے نقل کیا ہے کہ:

 

📜 وَمِنْ طَرِيقِ الْحَجَّاجِ بن الْمِنْهَالِ نَا عبد اللَّهِ بن دَاوُد هو الْخُرَيْبِيُّ عن الأَعْمَشِ عن حَبِيبِ بن أبي ثَابِتٍ قال: رَأَيْت هَدَايَا الْمُخْتَارِ تَأْتِي ابْنَ عَبَّاسٍ وَابْنَ عُمَرَ فَيَقْبَلاَنِهَا.

 

📃 حبيب ابن ثابت نے کہا ہے کہ: میں نے دیکھا تھا کہ ابن عباس اور ابن عمر کے لیے مختار کی طرف سے ہدایا آتے تھے اور وہ بھی انکو قبول کر لیا کرتے تھے۔

 

📚 إبن حزم الأندلسي الظاهري، ابو محمد علي بن أحمد بن سعيد (متوفى456هـ)، المحلي، ج9، ص153،‌ تحقيق: لجنة إحياء التراث العربي، ناشر: دار الآفاق الجديدة – بيروت

 

ابن بطال نے کتاب شرح صحيح البخارى میں اور بدر الدين عينى نے کتاب عمدة القارى شرح صحيح البخاری میں حبيب ابن ثابت سے اسی روایت کو نقل کیا ہے۔

 

📚 إبن بطال البكري القرطبي، ابو الحسن علي بن خلف بن عبد الملك (متوفى449هـ)، شرح صحيح البخاري، ج3، ص508، تحقيق: ابوتميم ياسر بن إبراهيم، ناشر: مكتبة الرشد - السعودية / الرياض، الطبعة: الثانية، 1423هـ - 2003م.

 

📚 العيني الغيتابي الحنفي، بدر الدين ابو محمد محمود بن أحمد (متوفى 855هـ)، مغاني الأخيار، ج3، ص508، طبق برنامه الجامع الكبير.

 

ابن اثير نے کتاب اسد الغابہ میں لکھا ہے کہ:

 

📜 وكان يرسل المال إلى ابن عمر، وابن عباس، وابن الحنفية وغيرهم، فيقبلونه منه.

 

📃 مختار ابن عمر ، ابن عباس اور ابن حنفيہ (محمد ابن علی) وغیرہ کے لیے اموال (ہدایا) آتے تھے اور وہ بھی انکو قبول کر لیا کرتے تھے۔

 

📚 ابن أثير الجزري، عز الدين بن الأثير أبي الحسن علي بن محمد (متوفى630هـ)، أسد الغابة في معرفة الصحابة، ج5، ص128،‌ تحقيق عادل أحمد الرفاعي، ناشر: دار إحياء التراث العربي - بيروت / لبنان، الطبعة: الأولى، 1417 هـ - 1996 م.

 

اہل سنت کے بزرگ علماء سے نقل کردہ ان معتبر روایات کے مطابق، اگر مختار مدعی نبوت اور کافر تھا، تو پھر رسول خدا (ص) کے بزرگ صحابہ ابن عباس اور ابن عمر وغیرہ کو اسکی طرف سے بھیجے گئے ہدایا کو ہرگز قبول نہیں کرنا چاہیے تھا۔

 

🔴 بزرگ صحابہ کا مختار کی مدح و ثناء کرنا:

 

بلاذرى نے مختار کے بارے میں ابن عباس کی رائے کے بارے میں دو روایات کو ذکر کیا ہے:

 

📜 وقال عبد الله بن الزبير لابن عباس وأخبره بأمر المختار فرأى منه توجعاً وإكباراً لقتله أتتوجع لأبن أبي عبيد وتكره أن تسميه كذاباً؟ فقال له: ما جزاؤه ذلك منا، قتل قتلتنا وطلب بدمائنا وشفى غليل صدورنا.

 

📃 عبد الله ابن زبير نے ابن عباس سے بات کی اور اسے مختار کے قتل ہونے کے بارے میں خبر دی، ابن زبیر نے دیکھا کہ ابن عباس یہ خبر سن کر غمگین ہو گیا۔ ابن زبیر نے اس سے کہا: کیا تم مختار کے قتل ہونے کی وجہ سے غمگین ہو گئے ہو ؟ اور کیا تم اسکو کذّاب نہیں کہنا چاہتے ؟ یہ سن کر ابن عباس نے کہا: ہمارا اسکو ایسا کہنا بالکل مناسب نہیں ہے، اس لیے کہ اس نے ہمارے قاتلوں کو قتل کیا اور وہ ہمارے خون کا انتقام لینے والا ہے اور اس نے ہمارے سینے میں موجود غموں کو سکون بخشا ہے۔

 

📚 البلاذري، أحمد بن يحيي بن جابر (متوفى279هـ)، أنساب الأشراف، ج2، ص371، طبق برنامه الجامع الكبير.

 

📜 وقد روي عن ابن عباس إنه ذكر عنده المختار، فقال: صلّى عليه الكرام الكاتبون.

 

📃ابو صالح کہتا ہے کہ: ابن عباس مختار کے بارے میں کہتا تھا کہ: اس نے ہمارے خون کا بدلہ لیا اور ہمارے قاتلوں کو قتل کیا ہے، ہم مختار بہتر جانتے ہیں، پس تم بھی اسکی فقط اچھائی کو بیان کرو۔

 

روایت نقل ہوئی ہے کہ ابن عباس کے نزدیک مختار کا ذکر ہوا تو اس نے کہا: ملائکہ کراما کاتبین کا درود و سلام ہو مختار پر۔

 

📚 البلاذري، أحمد بن يحيي بن جابر (متوفى279هـ)، أنساب الأشراف، ج2، ص371، طبق برنامه الجامع الكبير

 

اسی طرح بلاذرى نے کتاب انساب الاشراف میں اور ابن اثير نے بھی کتاب الكامل فى‌التاريخ میں پہلی روایت کو ایسے نقل کیا ہے:

 

📜 وقال ابن الزبير لعبد الله بن عباس ألم يبلغك قتل الكذاب قال ومن الكذاب قال ابن أبي عبيد قال قد بلغني قتل المختار قال كأنك نكرت تسميته كذابا ومتوجع له قال ذاك رجل قتل قتلتنا وطلب ثأرنا وشفى غليل صدورنا وليس جزاؤه منا الشتم والشماتة

 

📃 ابن زبير نے عبد الله ابن عباس سے کہا: کیا تمہیں کذّاب کے قتل ہونے کی خبر ملی ہے ؟ ابن عباس نے کہا: جھوٹا کون ہے ؟ ابن زبیر نے کہا: ابن ابی عبید (مختار)، ابن عباس نے کہا: ہاں مجھے مختار کے قتل ہونے کی خبر ملی ہے۔ ابن زبیر نے اس سے کہا: کیا تم مختار کے قتل ہونے کی وجہ سے غمگین ہو گئے ہو ؟ اور کیا تم اسکو کذّاب نہیں کہنا چاہتے ؟

 

ابن عباس نے اس نے ہمارے قاتلوں کو قتل کیا اور وہ ہمارے خون کا انتقام لینے والا ہے اور اس نے ہمارے سینے میں موجود غموں کو سکون بخشا ہے، لہذا یہ اسکی جزا نہیں ہے کہ اسکو گالی دی اور برا بھلا کہا جائے۔

 

📚 البلاذري، أحمد بن يحيي بن جابر (متوفى279هـ)، أنساب الأشراف، ج1، ص444، طبق برنامه الجامع الكبير

 

📚 ابن أثير الجزري، عز الدين بن الأثير أبي الحسن علي بن محمد (متوفى630هـ) الكامل في التاريخ، ج4، ص72، تحقيق عبد الله القاضي، ناشر: دار الكتب العلمية - بيروت، الطبعة الثانية، 1415هـ.

 

اسی طرح علمائے اہل سنت نے کہا ہے کہ: عبد الله ابن عمر، مختار اور اسکے لشکر کو مسلمان اور اہل قبلہ جانتے تھے۔

 

📜 ولما قتل مصعب المختار ملك البصرة والكوفة... وأن مصعبا لقي عبدالله بن عمر فقال له ابن عمر: أنت القاتل سبعة آلاف من أهل القبلة في غداة واحدة فقال مصعب: إنهم كانوا كفرة سحرة. فقال ابن عمر: والله لو قتلت عدتهم غنما من تراث أبيك لكان ذلك سرفا.

 

📃 جب مصعب نے مختار کو قتل کر دیا تو وہ شہر بصرے اور کوفے کا حاکم بن گیا،۔۔۔۔۔ اور مصعب نے عبد الله ابن عمر کو دیکھا تو عبد الله ابن عمر نے اس سے کہا: تم وہ ہو کہ جس نے ایک دن صبح کے وقت 7 ہزار اہل قبلہ مسلمانوں کو بے دردی سے قتل کیا تھا۔ مصعب نے کہا: وہ سب کافر اور جادوگر تھے ! ابن عمر نے کہا: اگر تم نے اپنے باپ کی جائیداد میں سے اتنی ہی تعداد میں بھیڑوں اور بکریوں کو بھی ذبح کیا ہوتا تو یہ بھی اسراف اور فضول خرچی ہوتا !!!

 

📚 ابن الجوزي الحنبلي، جمال الدين ابو الفرج عبد الرحمن بن علي بن محمد (متوفى 597 هـ)، المنتظم في تاريخ الملوك والأمم، ج6، ص 66، ناشر: دار صادر - بيروت، الطبعة: الأولى، 1358.

 

اسی طرح شعبى کہ جو دشمنان مختار میں سے تھا، اس نے خود کہا ہے کہ:

 

📜 وعن الشعبي قال: رأيت في النوم كأن رجالا من السماء نزلوا معهم حراب يتتبعون قتلة الحسين فما لبثت أن نزل المختار فقتلهم رواه الطبراني وإسناده حسن.

 

📃 شعبى سے روايت ہوئی ہے کہ اس نے کہا: میں نے خواب میں دیکھا کہ چند مرد آسمان سے نازل ہوئے ہیں اور انکے ساتھ تلواریں بھی ہیں اور وہ امام حسین کے قاتلوں کی تلاش میں ہیں۔ ابھی زیادہ عرصہ نہیں گزرا تھا کہ مختار نے قیام کیا اور ان سب قاتلوں کو قتل کر دیا۔

 

اس روایت کو طبرانی نے نقل کیا ہے اور اس روایت کی سند حسن ہے۔

 

📚 الهيثمي، ابوالحسن علي بن أبي بكر (متوفى807 هـ)، مجمع الزوائد ومنبع الفوائد، ج9، ص 195، ناشر: دار الريان للتراث/‏ دار الكتاب العربي - القاهرة، بيروت – 1407هـ.

 

اس روايت سے معلوم ہوتا ہے کہ مختار ان آسمانی مردوں کی تعبیر ہے کہ جو خواب شعبی نے دیکھا تھا۔

 

🔴 نتيجہ:

 

خود مختار کے رسول خدا (ص) کے صحابی ہونے سے چشم پوشی کرتے ہوئے، رسول خدا (ص) اور حضرت امیر (ع) کے بہت سے صحابہ مختار کے قیام میں اور امام حسین (ع) کے خون کا انتقام لینے کے لیے، اسکے ساتھ شریک تھے اور مرتے دم تک مختار کے ساتھ رہے اور اسکے فرمان کی اطاعت کرتے رہے۔ حتی یہ صحابہ قیام مختار کی کامیابی کے بعد مختار کی حکومت میں اور لوگوں کی خدمت کرنے میں ساتھ ساتھ رہے، اور اسی طرح کتب اہل سنت میں مختار کی حمایت اور تائید میں صحابہ سے روایات ذکر ہوئی ہیں۔

 

التماس دعا

 

🖋 ولی العصر