🔵 حضرت مختار ثقفی رض ، علماء و محققین کی نگاہ میں 🔵
سید علی بروجردی رح جناب مختار سے متعلق لکھتے ہیں :
📜 أن الرجل قد صدر منه الامر العظيم والفعل الجسيم الذي قد عجز عنه الاثبات والثقات، خصوصا مع صدور الترحم من الإمام عليه السلام عليه من طريق حسن، فلا يعبأ بما ورد من الروايات الذامة.
📝 مختار سے ایک عظیم و بڑا امر صادر ہوا جو بہت بڑے اور ثقہ لوگ بھی نہ کر سکے، خصوصاً اسکے ساتھ جو امام ع نے اس پر رحمت کی دعاء کی ہے جو حسن سند سے ہے، پس اسکی طرف توجہ نہ کی جائے جو اسکی مذمت میں روایات وارد ہوئی ہیں
📚 طرائف المقال، ج ۲، ص ۵۸۹
آیت اللہ خوئی رح لکھتے ہیں :
📜 أن خروج المختار وطلبه بثار الحسين عليه السلام، وقتلة لقتلة الحسين عليه السلام لا شك في أنه كان مرضيا عند الله، وعند رسوله والأئمة الطاهرين عليهم السلام، وقد أخبره ميثم، وهما كانا في حبس عبيد الله بن زياد، بأنه يفلت ويخرج ثائرا بدم الحسين عليه السلام، ويأتي في ترجمة ميثم... ويظهر من بعض الروايات أن هذا كان بإذن خاص من السجاد عليه السلام.
📝 مختار کا خروج اور امام حسین ع کے خون کا بدلہ لینا اور حسین ع کے قاتلین کو قتل کرنا بلا شک اللہ کی رضاجوئی میں ہے اور اسکے رسول اور ائمہ طاہرین ع کے نزدیک بھی، اور میثم نے مختار کو بتا دیا تھا جب وہ دونوں عبید اللہ بن زیاد کی قید میں تھے کہ مختار رہا ہوجائے گا اور امام حسین ع کے خون کا بدلہ لے گا، میثم کے ذکر میں یہ بات ہم ذکر کریں گے۔۔۔ اور بعض روایات سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ (مختار کا خروج) امام سجاد ع کی خاص اجازت سے تھا۔
📚 معجم الرجال الحدیث ، ج ۱۹ ، ص ۱۰۹
آیت اللہ آصف محسنی کہتے ہیں :
📜 ولا شك ان عمل المختار صار سببا لمسرّة أهل البيت عليهم السلام ومساءة أعدائهم وهذا لايحتاج فهمه الى رواية وهي فضيلة عظيمة للمختار لكنّها لا تتعلق بوثاقته وصدقه.
📝 اور اس میں شک نہیں کہ مختار کا عمل اہل بیت ع کی خوشی کا سبب بنا اور انکے دشمنوں کے غم کا بھی، اس کو سمجھنے کیلئے روایت کی ضرورت نہیں ہے اور یہ بہت عظیم فضیلت ہے مختار کیلئے، مگر یہ چیز وثاقت اور سچائی سے تعلق نہیں رکھتی۔
📚 معجم الاحادیث المعتبرہ ، ج ۱ ، ص ۱۹۰
آیت اللہ صادق روحانی لکھتے ہیں :
📝 الغرض انہوں ( مختار ) نے چن چن کر دشمنان اہل بیت ع کو قتل کیا اس لیے آل محمد ع کے دشمنوں نے آپ کی مذمت میں روایات اختراع کیں.اور شیعوں کی نظر میں انہیں بےوقعت بنانے کےلیے آئمہ معصومین علیہم السلام کی زبانی روایات بھی گھڑیں لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کی تمام کوششوں کو ناکام بنایا اور مختار کی شخصیت کو عزت و احترام عطا کیا
📚 قربان الشہداء ، ص ۶۴
سید علی خامنہ ای لکھتے ہیں:
📜 لذا میبینیم امام سجاد (ع) در قضیة مختار اعلام هماهنگی نمیکنند، گرچه در بعضی از روایات آمده است که ارتباطاتی پنهانی با مختار داشتند... وحتی در بعضی از روایات گفته میشود که امام سجاد نسبت به مختار بدگویی میکنند، و این هم خیلی طبیعی به نظر میرسد که این یک عمل تقیه آمیزی باشد که رابطهای بین آنها احساس نشود. البته اگر مختار پیروز میشد حکومت را بهدست اهلبیت میداد، اما در صورت شکست اگر آن، دامن امام بین امام سجاد و او رابطة مشخص و واضحی وجود می داشت یقینا نِقمتِ سجاد (ع) و شیعیان مدینه را هم میگرفت و رشتة تشیع قطع میشد. لذا امام سجاد هیچگونه رابطة آشکاری را با او برقرار نمیکنند.
📝 پس ہم دیکھتے ہیں کہ امام سجاد ع مختار کے معاملے میں ہمآہنگی کھل کر نہیں بتاتے، اگرچہ بعض روایات میں آیا ہے کہ امام ع کے پوشیدہ تعلقات تھے مختار کے ساتھ۔۔۔ اور حتی کہ بعض روایات میں کہا گیا ہے کہ امام سجاد ع مختار کی برائی کرتے تھے، اور یہ بھی بہت طبیعی چیز لگتی ہے کہ یہ تقیہ میں ہوگا تاکہ امام ع اور مختار کے درمیان کے رابطے کا (کسی کو) احساس نہ ہو۔ البتہ اگر مختار کامیاب ہوگا تو وہ حکومت کو اہل بیت ع کے ہاتھ میں دیتا، لیکن اگر ناکام ہوتا اور امام سجاد ع اور اسکے درمیان واضح رابطہ وجود رکھتا تو یقیناً امام سجاد ع اور شیعوں کی نقمت مدینہ کو بھی پہنچ جاتی اور تشیع کا تعلق ٹوٹ جاتا۔ اس وجہ سے امام سجاد ع نے کسی طرح کا واضح رابطہ نہیں رکھا اسکے ساتھ۔۔۔
📚 اڑھائی سو سالہ انسان ، ص ۲۴۶ ، ۲۴۷
#اَلّٰلھُمَّ_لْعَنْ_قَتَلَۃَ_اَلحُسَیِنَؑ_وَ_اُولاَدِ_اَلحُسَیِنَؑ_وَ_اَصحَابِ_الحُسینؑ #تعلیمات_اہلبیت #talimaat_e_ahlbait #PlzShare #sharethispost #share #تاریخ #روایت #tareekh #karbala #Tareekh #کوفہ #مختار #مختار_ثقفی #MukhtarSaqfi #التماس_دعا
Gallery
Tap any image to view full screen