🔴 *جناب مختار پر اعتراضات اور انکا جواب* 🔴
*اعتراضات*
❌ جناب مختار محمد بن حنفیہ کی امامت کے قائل تھے
❌ جناب مختار کیسانیہ فرقہ سے تعلق رکھتے تھے
❌ جناب مختار کا دعویٰ نبوت کرنا
✅ *جوابات*
بعض روایات سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ مختار لوگوں کو محمد بن حنفیہ کی امامت کی طرف دعوت دیتے تھے اور اسے " مہدی" کے نام سے پکارتے تھے۔
لیکن *مقدس اربلی* نے اپنی کتاب *کشف الغمہ* میں اس رابطے کو ظاہری اور مختار کے قیام میں محمد بن حنفیہ کی دخالت کو امام زین العابدینؑ کی مخصوص سیاسی حالات کا تقاضا قرار دیتے ہیں۔ تا کہ کسی کو ظاہر نہ ہو کہ انہیں امام سجاد کی پشت پناہی حاصل ہے
📚 *کشفہ الغمہ، ص۲۵۴*
*محمد بن اسماعیل مازندرانی حائری اپنی کتاب منتہی المقال* میں مختار کی محمد بن حنفیہ کی امامت پر عقیدہ رکھنے کو قبول نہیں کرتے اور اسے امام سجادؑ کی امامت کے قائلین میں سے قرار دیتے ہیں۔
📚 *منتہی المقال کملہ مختار*
❌ *فرقہ کیسانیہ*
یہ فرقہ محمد بن حنفیہ کی موت کے بعد ان کی امامت کا قائل ہو گیا تھا
بعض حضرات مختار کو کیسانیہ مذہب کا بانی قرار دیتے ہوئے کہتے ہیں: چونکہ مختار ملقب بہ کیسان تھا اس لئے اس کے ماننے والوں کو کیسانیہ کہا جاتا تھا۔
📚 آفرینش وتاریخ/ترجمہ،ج۲،ص:۸۲۰
عبداللہ مامقانی مختلف دلایل کی روشنی میں اس مطلب کو قبول نہیں کرتے اور مختار کے کیسانی ہونے کو رد کرتے ہیں۔
📚 *تنقیح المقال، ج۳ص ۲۰۵و۲۰۶*
آیہ اللہ خویی نیز ان الزامات کو غیر شیعہ علماء کی طرف سے مختار کی شخصیت کشی کی سازش قرار دیتے ہیں اور ان کے خلاف موجود روایات سب جعلی اور مردود ہیں اور مذہب کیسانیہ کی تأسیس کو مختار اور محمد بن حنفیہ کی موت کے بعد قرار دیتے ہیں۔
📚 *معجم الرجال، ج۱۸ص ۱۰۲و ۱۰۳*
علامہ امینی بھی مذہب کیسانیہ کی نسبت مختار کی طرف دینے کو رد کرتے ہیں۔
📚 *الغدیر، ج۱ص ۳۴۳*
مختار کو کیسانیہ فرقے کا بانی کہنا اسلئے غلط ہے کیوں کہ
یہ فرقہ محمد بن حنفیہ کے بعد پیدا ہوا
جب کہ جناب مختار کی شہادت محمد بن حنفیہ کی زندگی میں ہی ہو گیئی تھی۔
جیسا کہ روایت ہے
محمد بن حنفیہ کا مختار کی موت کے بعد اور وہ بھی عبداللہ بن زبیر کے دربار میں مختار کو کذاب قرار دینے سے انکار کرنا
📚 *انساب الاشراف ج ۳ص ۲۸۷*
جناب مختار کا لقب کیسان تھا۔
📚 *تاریخ طبری، ج۶ص ۷*
کیسان زیرک و باہوش کے معنی میں ہے۔ اصبغ بن نباتہ نقل کرتے ہیں کہ ایک دن حضرت علیؑ نے جب مختار بچپنے کی عمر تھا اپنے زانووں پر بٹھایا ہوا تھا اور اسے کیس کا لقب دیا۔
📚 *معجم الرجال، ج۱۸ص ۱۰۲*
چون حضرت علیؑ نے دو دفعہ اسے کیس کہہ کر پکارا اسی وجہ سے انہیں کیسان کہا جاتا تھا۔ بعض کا خیال ہے کہ کیسان کا لقب ان کے کسیی کمانڈر اور مشاور کے نام سے لیا گیا ہے جسکی کنیت ابوعمرہ کیسان تھا۔
📚 *رجال کشی، ص۱۲۸*
❌ *ادعای نبوت*
اہل سنت مورخ ابن خلدون مدعی ہے کہ مختار نبوت کا دعوا کرتا تھا۔
📚 تاریخ ابن خلدون/ترجمہ متن،ج۱،ص:۳۵۶
چونکہ احنف زبیریوں کا طرفدار تھا اس لئے ان عبارات کو بہانہ بنا کر مختار پر دعوائے نبوت کا الزام لگایا یہاں تک کہ اس کی موت کے بعد بھی ان الزامات سے باز نہیں آتے تھے۔
📚*انساب الاشراف ج۶ص۴۱۸*
محمد بن حنفیہ کا مختار کی موت کے بعد اور وہ بھی عبداللہ بن زبیر کے دربار میں مختار کو کذاب قرار دینے سے انکار کرنا خود اس تہمت اور الزام تراشیوں کی وہابیت کے کارخانوں میں جعل ہونے کی دلیل ہے۔
#اَلّٰلھُمَّ_لْعَنْ_قَتَلَۃَ_اَلحُسَیِنَؑ_وَ_اُولاَدِ_اَلحُسَیِنَؑ_وَ_اَصحَابِ_الحُسینؑ #تعلیمات_اہلبیت #talimaat_e_ahlbait #PlzShare #sharethispost #share #تاریخ #روایت #tareekh #karbala #Tareekh #کوفہ #مختار #مختار_ثقفی #MukhtarSaqfi #التماس_دعا
Gallery
Tap any image to view full screen