Back to مختار ثقفی

جناب مختارؓ پر چند اعتراضات اور انکا جواب

*جناب مختارؓ پر چند اعتراضات اور انکا جواب* 

 

*اعتراضات:*

 

امام سجادؑ کے مختار کے ساتھ اچھے تعلقات نہیں تھے 

 

امامؑ سجادؑ کی مختار کے قیام کو حمایت حاصل نہیں تھی

 

امام سجادؑ کی طرف سے مختار کے بھیجے ہوئی ہدیوں کو امامؑ واپسی کر دیتے تھے۔

 

*جواب*

 

آیہ اللہ خویی[1] اور عبداللہ مامقانی[2] نے قیام مختار کو امام زین العابدین کی خاص اجازت کے ساتھ انجام پانے کی تصریح کی ہے۔

 

1: معجم الرجال، ج۱۸ص ۱۰۰

2: تنقیح المقال، ج۳ص ۲۰۶

 

*امام سجادؑ کا اپنے چچا کے زریعے مختار کی رہنمائی کرنا* 

 

روایت میں آیا ہے کہ کوفہ کے اشراف میں سے بعض امام سجادؑ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپؑ سے مختار کے قیام کے متعلق سوال کیا تو آپ نے انہیں بھی "محمد بن حنفیہ" کی طرف بھیجا اور فرمایا:‌ اے میرے چچا! اگر کوئی سیاہ فارم غلام بھی ہم اہل بیتؑ کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کرے تو لوگوں پر واجب ہے کہ اس کی ہر ممکن حمایت کرے اس بارے میں جو کچھ مصلحت جانتے ہو انجام دیں میں اس کام میں آپ کو اپنا نمائندہ قرار دیتا ہوں۔[3][4]

 

3: بحار الأنوار، ج‌۴۵، ص۳۶۵

4: ریاض الأبرارج‌۱، ص: ۲۹۸

 

بنی امیہ اور آل زبیر نے جو حالات اسلامی ملکوں میں ایجاد کر رکھی تھی اس وجہ سے آپؑ کھل کر مختار کی حمایت نہیں کر سکتے تھے اسی لئے آپؑ نے اپنے چچا "محمد بن حنفیہ" کو اپنا نائب بنایا تھا اور مختار کو ان کی طرف رہنمائی کیا تھا۔

 

اس بات کو رھبر انقلاب اسلامی حضرت آیت الله العظمی سید علی حسینی خامنائی صاحب اس طرح بیان کرتے ہیں کہ 

 

امام زین العابدین علیہ السلام مختار ثقفی کے معاملے میں کھل کر کسی طرح کی ہم آہنگی کا اعلان نہیں کرتے اگر چہ بعض روایتیں اس بات کی شاہد ہیں کہ آپ علیہ السلام کا مختار ثقفی سے خفیہ طور پر رابطہ قائم تھا چنانچہ یہ ایک کھلی حقیقت ہے کہ امام نے علی الإعلان ان سے کبھی کسی طرح کا رابطہ نہیں رکھا بلکہ بعض روایتیں تو کہتی ہیں کہ آپ ع عام نشستوں میں مختار سے اپنی ناراضگی کا اظہار بھی کرتے تھے اور یہ چیز بالکل فطری ہے ظاہر ہے آپ علیہ السلام اس سلسلے میں تقیہ سے کام لے رہے تھے تاکہ دشمن کو ان کے درمیان کسی خفیہ رابطے کا شک بھی نہیں ہو.

 

حوالہ.

ڈھائی سو سالہ انسان.

 

کیوں کہ امام سجادؑ محمد بن حنفیہ کے ذریعے مختار کی رہنمائی کر رہے تھے۔ اسلئے یہ دونوں ہر وقت رابطے میں تھے جیسا کہ تاریخ میں ہے کہ 

 

عبد اللہ بن زبیر کو جب مختار کے قیام پتہ چلا تو اس نے "محمد بن حنفیہ" اور ان کے قریبی افراد پر پریشر ڈالنے لگا تاکہ اس کی بیعت کرے بصورت دیگر انہیں زندہ جلائے جانے کی دھمکی دی گئی۔ محمد بن حنفیہ نے مختار کو ایک خط لکھا اور اس سے مدد کی درخواست کی۔[5] مختار نے 400 افراد پر مشتمل ایک گروہ کو مکہ روانہ کیا اور محمد بن حنفیہ کو نجات دلا دی۔[6]

 

5: أخبار الدولۃ العباسیۃ، ص:۱۰۰

6: آفرینش و تاریخ/ترجمہ، ج‌۲، ص:۹۱۱

 

امام سجادؑ نے خدا سے مختار کے کام کے بدلے میں اسے جزائے خیر کی دعا کی ہے۔ [7][8]

 

7: رجال کشی، ص۱۲۷

8: تنقیح المقال، ج۳ص ۲۰۴

 

کیوں کہ اعتراض کیا گیا کہ 

 

امام سجادؑ کی طرف سے مختار کے بھیجے ہوئی ہدیوں کو امامؑ واپسی کر دیتے تھے۔ اس پر 2 عدد روایت ملاحظہ کیجئے۔

 

مختار نے ۲۰۰۰۰ دینار امامؑ کی خدمت میں بھیجا اور امام نے اسے قبول کیا اس کے ذریعے عقیل بن ابی طالب اور دوسرے بنی ہاشم کے خراب شدہ گھروں کی تعمیر فرمائی۔[9]

 

اسی طرح مختار نے ۳۰۰۰۰ درہم میں ایک کنیز خرید کر امام سجادؑ کو ہدیہ دیا جس کے بطن سے زید بن علی متولد ہوا۔[10]

 

9: معجم الرجال ج۱۸ص ۹۶

10: مقاتل الطالبیین،ص:۱۲۴

 

لہذا یہ چند روایت سے پتا چلتا ہے کہ امام زین العابدینؑ کا مختار کی کھل کر حمایت ناں کرنا مخصوص حالات کا تقاضا تھا۔

 

عبدالرزاق مقرم جیسے حضرات مختار پر لگائے جانے والے الزامات اور تہمتوں سے برئ الذمہ قرار دیتے ہیں اور ان سب کو جھوٹ پر مبنی اور دشمنوں کی سازش قرار دیتے ہیں۔[11] باقر شریف قرشی بھی قیام مختار کو جہاد مقدّس قرار دیتے ہوئے اس بات کے معتقد ہیں کہ مختار جس قدرت اور سلطنت کے پیچھے تھا وہ اس کی جاہ طلبی اور ریاست طلبی کی وجہ سے نہیں تھی بلکہ اہل بیت پیغمبرؑ کے قاتلوں سے ان کے خون کا بدلہ لینے کیلئے وہ ایسی قدرت اور سلطنت کے درپی تھا۔[12] اس مناسبت سے نجم الدین طبسی جو معاصر مورخین میں سے ہیں مختار کی دفاع کی خاطر مختار پر لگائے گئے الزامات کو مختار ستیزی کی خاطر بنی امیہ کی سازش قرار دیتے ہیں۔ ان کے بقول امام باقرؑ نے جس روایت میں مختار کیلئے طلب رحمت کی ہے وہ حدیث بہت معتبر حدیث ہے اور یہ روایت ایک طرح سے مختار کے قیام اور ان کے امام حسینؑ کے قاتلوں سے انتقام لینے کی صحت پر واضح دلیل ہے۔ [13]

 

11: پيامدہاى عاشورا، ص135

12: پيامدہاى عاشورا، ص: 133

13: پایگاہ اطلاع رسانی شیخ نجم الدین طبسی

 

#اَلّٰلھُمَّ_لْعَنْ_قَتَلَۃَ_اَلحُسَیِنَؑ_وَ_اُولاَدِ_اَلحُسَیِنَؑ_وَ_اَصحَابِ_الحُسینؑ #تعلیمات_اہلبیت #talimaat_e_ahlbait #PlzShare #sharethispost #share #تاریخ #روایت #tareekh #karbala #Tareekh #کوفہ #مختار #مختار_ثقفی #MukhtarSaqfi #التماس_دعا