Back to مختار ثقفی

ائمہ اطہار (ع) کی نظر میں مختار کی شخصیت

*ائمہ اطہار (ع) کی نظر میں مختار کی شخصیت:*

 

مقدس اردبیلی مندرجہ ذیل روایت کو امیر المومنین علی (ع) سے نقل کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا:

 

سیقتل ولدی الحسین و سیخرج غلام من ثقیف و یقتل من الذین ظلموا۔

 

بہت جلد میرے بیٹے حسین کو قتل کیا جائے گا لیکن زیادہ دیر نہیں ہو گی کہ قبیلہ ثقیف سے ایک جوان قیام کرے گا اور ان ستمگروں سے بدلہ لے گا۔

 

حدیقۃ الشیعہ، مقدس اردبیلی، ص 405

 

قیام مختار کی بشارت امام حسین (ع) کی زبانی:

 

علامہ مجلسی روز عاشورا کے حالات میں ذکر کرتے ہیں کہ:

 

امام حسین علیہ السلام نے لشکر کوفہ و شام کے لیے خطبہ ارشاد فرمایا: آپ نے خطبہ کے ذیل میں کوفیوں اور شامیوں کی اس طرح سے ملامت کی:

 

و یسلط علیھم غلام ثقیف یسقیھم کاساً مصبرۃ و لا یدع فیھم احداً الا قتلہ قتلۃ بقتلۃ و ضربۃ بضربۃ ینتقم لی و لاولیائی و اھل بیتی و اشیاعی منھم۔

 

بہت جلد ایک ثقفی جوان مرد ان پر مسلط ہو گا تا کہ انہیں موت و ذلت کا تلخ جام چکھائے، ہمارے قاتلوں میں سے کسی کو معاف نہیں کرے گا، ہر قتل کے بدلے میں قتل اور ہر ضربت کے بدلے میں ضربت، میرا، میرے دوستوں کا، میرے اہل بیت کا اور میرے شیعوں کا ان سے انتقام لے گا۔

 

تنقیح المقال، مامقانی، ج 3 ص 205

 

عمرو ابن علی ابن الحسین علیہما السلام ( امام سجاد کے بیٹے ) فرماتے ہیں: جب مختار نے ابن زیاد اور عمر سعد کا سر امام کے پاس بھیجا تو آپ سجدہ میں گر گئے اور سجدہ شکر میں خدا کی اس طرح حمد کی:

 

الحمد للہ الذی ادرک لی ثأری من اعدائی و جزی اللہ المختار خیراً

 

تمام تعریف ہے اس خدا کی جس نے ہمارے دشمنوں سے ہمارا انتقام لیا خدا مختار کو جزائے خیر عطا کرے۔

 

رجال کشی ص 127

 

امام باقر علیہ السلام مختار کے کام کی تجلیل کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

 

کیا مختار کے علاوہ کوئی اور تھا جس نے ہمارے برباد گھروں کو پھر سے آباد کیا ؟ کیا وہ ہمارے قاتلوں کا قاتل نہیں ہے ؟ خدا اس پر رحمت کرے، خدا کی قسم میرے بابا نے مجھ کو بتایا ہے کہ جب بھی مختار، فاطمہ علیھا السلام بنت امیر المومنین کے گھر میں داخل ہوتے تھے، آپ ان کا احترام کرتی تھیں۔ آپ کے لیے فرش بچھاتیں اور تکیہ لگاتی تھیں، آپ بیٹھتے تو آپ کی باتیں سنتی تھیں۔

 

پھر امام باقر علیہ السلام نے مختار کے بیٹے کی طرف رخ کیا اور فرمایا:

 

رحم اللہ اباک، رحم اللہ اباک، ما ترک لنا حقاً عند احد الا طلبہ قتل قتلتنا و طلب بدمائنا ۔

 

خدا تمہارے باپ مختار پر رحمت نازل کرے، خدا تمہارے باپ مختار پر رحمت نازل کرے، انھوں نے ہمارا حق واپس لیا، ہمارے قاتلوں کو قتل کیا اور ہمارے خون کا انتقام لینے کے لیے قیام کیا۔

 

۔

 

۔

 

حضرت مختار ثقفی زانوۓ امیرالمومنینؑ پر با حوالہ اہل سنت مصادر👇

 

حافظ عطا الدین حسام الواعظ بحوالہ شیخ ابو جعفر ابن بابویہ القمی یوں تحریر فرماتے ہیں کہ :

 

ایک روز حضرت امیر المومنین علی بن ابی طالبؑ مدینہ کی ایک ایسی گلی سے گذررہے تھے جس میں چھوٹے چھوٹے بچے کھیل رہے تھے ۔ انہیں کھیلنے والوں میں مختار بھی تھے ۔ مختار کے کندھوں پر گیسو لہرا رہے تھے ۔

 

حضرت علی علیہ السلام کی جونہی نگاہ مختار پر پڑی آپ ٹھہر گئے اور آپ نے پوچھا یہ بچہ کس کا ہے ۔ کہا گیا کہ ابو عبیدہ صحابی رسول کا ہے ۔

 

یہ سن کر حضرت علی۴ آگے بڑھے اور بڑھ کر مختار کو آغوش میں اٹھا لیا پھر اپنے زانو پر بیٹھا کر دست مبارک ان کے سر پر پھرنے لگے ۔

 

اس کے بعد فرمایا :

 

اے پسرمن کے باشند کہ تو خون مارا ازا عادی ما باز خواہی۔

 

اے میرے فرزند وہ زمانہ کب آئے گا کہ ہمارے دشمنوں سے بدلا لے گا ۔

 

الســلام علیــک یا مســر محــمــد المصطفــى

الســلام علیــک یا مســر عــــلی المــــرتضــى

الســــلام علیــــک یا مســر فاطمــــة الــزهــراء

الســلام علیــک یا مســــر الحســــــن المجتبــى

الســلام علیــک ایهــا الاخــذ بثــأر الامــام الحسیــن

السلام علیک یامن ترحم علیه الائمه من ذریة الحسین

الســــــلام عــــــلى المختــــار ورحمــــة الله وبرکاتــــه

جــزاکــــ الله الــف خیـــــــر اخـــی صــــــدری وافتخــــر

 

1) - رو ضۃ المجاہدین صفحہ_۳ طبع ایران

 

2) - تاریخ طبری جلد _٤، صفحہ_۶۵۷

۔

۔

۔

 

امام باقر علیہ السلام نے فرمایا 

لا تسبوا المختار۔

 

‎عن يعقوب، عن ابن أبي عمير، عن هشام بن المثنى عن سدير، عن أبي جعفر عليه السلام قال: لا تسبوا المختار فإنه قد قتل قتلتنا وطلب بثأرنا وزوج أراملنا، وقسم فينا المال على العسرة

امام باقر علیہ السلام نے فرمایا 

مختار کو برا مت کہو اس نے ہمارے قاتلوں کو قتل کیا اور ہمارے خون کا بدلہ طلب کیا۔اس نے ہمارے خاندان کی بیواؤں کی شادی کروائی اور مشکل حالات میں ہمارے درمیان مال تقسیم کیا۔ 

 

اس روایت کی سند حسن ہے

علامہ حلی خلاصۃ الاقوال ۲۷۶

سید ابن طاؤس التحریر الطاؤس ۵۵۸

----------

رجال الكشي ص 125, رجال ابن داود ص 513, رجال العلامة الحلي ص 168, الوافي ج 25 ص 693, بحار الأنوار ج 45 ص 351, رياض الأبرار ج 1 ص 289

 

رجال کشی ۔۲۰۲ جِبْرِيلُ بْنُ أَحْمَدَ، قَالَ حَدَّثَنِى الْعَبِيدِيُّ، قَالَ حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ أَسْبَاطِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَمَّادٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ حَزَوَّرٍ، عَنِ الْأَصْبَعِ، قَالَ رَأَيْتُ الْمُخْتَارَ عَلَى فَخِذِ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ (ع) وَ هُوَ يَمْسَحُ رَأْسَهُ وَ يَقُولُ يَا كَيْسُ يَا کیس.

 

 اصبغ نے بیان کیا میں نے مختار کو امام امیر المومنین کی ران پر دیکھا، آپ اس کے سر کو مسح کرتے تھے اور فرماتے ؛ اے ذہین اے ہوشمند ۔

 

رجال کشی ۔۲۰۳ إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْخُتَلِيُّ، قَالَ حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ إِدْرِيسَ الْقُمِّيُّ، قَالَ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ، قَالَ حَدَّثَنِي الْحَسَنُ بْنُ عَلِيُّ الْكُوفِيُّ، عَنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَامِرٍ، عَنْ سَيْفِ بْنِ عَمِيرَةَ، عَنْ جَارُودِ بْنِ الْمُنْذِرِ، عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ (ع) قَالَ مَا امْتَشَطَتْ فِينَا هَا شِمِيَّةٌ وَ لَا اتْ إِلَيْنَا الْمُخْتَارُ بِرُءُوسِ حَتَّى بَعَثَ الَّذِينَ قَتَلُوا الْحُسَيْنَ (ع). 

 

جارود بن منذر نے امام صادق علیہ السلام سے روایت کی آپ نے فرمایا؛ ہم میں کسی ہاشمی عورت نے نہ کنگھی کی اور نہ مہندی لگائی یہاں تک کہ ہمارے پاس مختار نے ان لوگوں کے سر بھیجے جنہوں نے امام حسین علیہ السلام کو شہید کیا۔

 

رجال کشی رقم ۲۰۲-۲۰۳

 

رقم ۲۰۳ کی سند آیت اللہ خوئی کے نزدیک صحیح ہے

معجم رجال الاحادیث ج ۲۸ ص ۹۳ رقم ۱۲۱۸۵

 

رجال کشی ۔ ۱۹۹ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَن وَ عُثْمَانُ بْنُ حَامد، قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَزْدَادَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْحُسَيْنِ، عَنْ مُوسَى بْنِ يَسَارٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَرِيكَ، قَالَ دَخَلْنَا عَلَى أَبِي جَعْفَرٍ (ع) يَوْمَ النَّحْرِ وَ هُوَ مُتَّكِي وَ قَدْ

أُرْسِلَ إِلَى الْحَلَّاقِ، فَقَعَدْتُ بَيْنَ يَدَيْهِ إِذْ دَخَلَ عَلَيْهِ شَيْخٌ مِنْ أَهْلِ الْكُوفَة فَتَنَاوَلَ يَدَهُ لِيُقَبِّلَهَا فَمَنَعَهُ، ثُمَّ قَالَ مَنْ أَنْتَ قَالَ أَنَا أَبُو الْحَكَمِ بْنُ الْمُخْتَارِ بْنِ أبي عبيد الثقفى، وَ كَانَ مُتباعداً من أبي جعفر (ع) فَمَدَّ يَدَهُ إِلَيْهِ حَتَّى كَادَ يقعده في حجره بَعْدَ مَنْعه يَدَهُ، ثُمَّ قَالَ أَصْلَحَكَ اللَّهُ إِنَّ النَّاسِ قَدْ أَكْثَرُوا فِي أبي وَ قَالُوا وَ الْقَوْلُ وَ اللَّهِ قَوْلُكَ قَالَ وَ أَيُّ شَيْءٍ يَقُولُونَ قَالَ يَقُولُونَ كَذَّابٌ، وَ لَا تَأْمُرُنِي بِشَيْءٍ إِلَّا قَبلْتُهُ، فَقَالَ سُبْحَانَ الله أَخْبَرَنِي أَبِي وَ اللَّهِ إِنَّ مَهْرَ أُمِّي كَانَ مِمَّا بَعَثَ به الْمُخْتَارُ أَ وَ لَمْ يَبْن دُورَنَا وَ قَتَلَ قَاتَلَنَا وَ طَلَبَ بِدمَائِنَا فَرَحْمَهُ اللَّهُ، وَ أَخْبَرَني وَ الله أبي أَنَّهُ كَانَ لَيَمُرُّ عِنْدَ فَاطِمَةَ بِنْتَ عَلَى يُمَهِّدُهَا الْفِرَاشِ وَ يُثْنِي لَهَا الْوَسَائِدَ وَ مِنْهَا أَصَابَ الْحَدِيثَ، رَحِمَ اللَّهُ أَبَاكَ رَحِمَ اللَّهُ أَبَاكَ مَا تَرَكَ لَنَا حَقًّا عِنْدَ أَحَد إِلَّا طَلَبَهُ قَتَلَ قَتَلَتَنَا وَ طَلَبَ بدمائنا.

 

عبداللہ بن شریک کا بیان ہے کہ ہم امام باقر علیہ السلام کے پاس قربانی والے دن حاضر تھے آپ ٹیک لگائے ہوئے بیٹھے تھے اور سر مونڈھنے والے کے انتظار میں تھے میں آپ کے سامنے بیٹھ گیا اچانک ایک کوفی حاضر ہوا اس نے آپ کا ہاتھ چومنا چاہا آپ نے اسے روک دیا پھر فرمایا ؟ تو کون ہے ؟ اس نے کہا ابو الحکم ابن مختار بن ابی عبیدہ ثقفی ، وہ امام سے دور بیٹھا تھا امام نے پہلے تو اسے ہاتھ نہیں چومنے دیا تھا اب سے ہاتھ سے کھینچ کر اسے اپنی گود میں بٹھا یا پھر اس نے رض کی ؛ خدا آپ کا پ کا بھلا کرے لوگ میرے باپ کے متعلق بہت کچھ کہتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ سب آپ نے فرمایا ہے ، آپ نے پوچھا کیا کہتے ہیں ؟ اس نے عرض کی کہتے ہیں کہ وہ کذاب اور جھوٹا تھا ، اب آپ جو فرمائیں وہی قبول ہے ، آپ نے فرمایا ؛ سبحان اللہ میرے والد عرض نے مجھے خبر دی کہ میری ماں کا حق مہر اس مال سے ادا ہوا جو مختار نے بھیجا تھا کیا مختار نے ہمارے گھر تعمیر نہیں کرائے ، ہمارے قاتلوں کو قتل نہیں کیا ، ہمارے خون کا بدلہ نہیں لیا ، خدا اس پر رحم کرے خدا کی قسم مجھے والد گرامی نے خبر دی کہ مختار فاطمہ بنت علی کے پاس سے گزرتے تھے تو ان کے لیے بستر بچھاتے تکیہ لگاتے اور ان سے حدیث سنتے تھے ، خدا تیرے باپ پر رحم کرے ، خدا تیرے باپ پر رحم کرے اس نے ہمارا حق کسی کے پاس نہیں چھوڑا مگر اس کو طلب کیا اور ہمارے قاتلوں کو قتل کیا اور ہمارے خون کا بدلہ لیا۔

 

سید عمار حسینی

 

#اَلّٰلھُمَّ_لْعَنْ_قَتَلَۃَ_اَلحُسَیِنَؑ_وَ_اُولاَدِ_اَلحُسَیِنَؑ_وَ_اَصحَابِ_الحُسینؑ #تعلیمات_اہلبیت #talimaat_e_ahlbait #plzshare #sharethispost #share #تاریخ #روایت #tareekh #karbala #tareekh #کوفہ #مختار #مختار_ثقفی #mukhtarsaqfi #التماس_دعا #بدر_علی #تبدیلی_ممنوع