🔴 مختار ثقفی علماء کی نظر میں
واضح ہوکہ ہمارے وہ علماء جن کا وجود بنیادی نقطہ نگاہ سے ہمارے مذہب میں عظیم سمجھا جاتا ہے ان میں سے تقریباً کل کے کل کی نظروں میں حضرت مختارؓ کو اونچا مقام نصیب ہوا ہے میری نظر سے ہمارے کسی بڑے عالم کی ایک تحریر بھی ایسی نہیں گزری جس میں انہوں نے اپنا نظریہ مختار کے خلاف پیش کیا ہو یہ اور بات ہے کہ انہوں نے نقل قول یا نقل روایات اپنی کتابوں میں کی ہو یعنی ایسا تو ضرور ہے کہ روایات مدح و ذم دونوں نقل کردی گئی ہیں لیکن اپنا ذاتی نظریہ کسی نے بھی مخالفت مختار میں نہیں پیش کیا بلکہ اکثر نے ایسا کیا ہے کہ مخالفت کی روایات کی تاویلات کی ہیں البتہ بعض علماء روایت حب شخین سے نجات کلی میں متوقف ہوگئے ہیں لیکن انہوں نے کارنامہ مختار میں ان کے نیک نیتی پر کسی قسم کا شبہ نہیں کیا میرے نزدیک روایت حب شخین تاویل شدہ ہے اور ان کے حسن عقیدہ میں گنجائش کلام نہیں ہے۔ علامہ شہید ثالث رحمة اللہ علیہ رقمطراز ہیں درحسن عقیدہ اور در شیعہ راسخنی نیست حضرت مختار کے حسن عقیدہ میں کسی شیعہ کو کلام و اعتراض کی گنجائش نہیں علامہ کا بیان ہے کہ حضرت علامہ حلی کے نزدیک حصرت مختار مقبول اصحاب میں تھے۔
📚 مجالس المومنین ص ۳۵۶
علامہ مجلسی کتاب خلاصة المقال فی علم الرجال کے ص 32 پر تحریر فرماتے ہیں کہ مختار ابن ابی عبیدہ ثقفی ثقہ تھے،
علامہ معاصر مولانا سعادت حسین مجتہد رقمطراز ہیں کہ علامہ مامقانی تنقیح القال کی جلد 3 میں حضرت مختار کے متعلق طویل بحث کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ اس کے بارے میں تحقیق اس کی مقتضی ہے کہ ہم دو حیثیتوں سے بحث کریں پہلی یہ کہ جناب مختار کا عقیدہ اور مذہب کیا تھا اس میں کوئی شک نہیں کہ وہ مسلمان بلکہ شیعہ امامی تھے اس پر شیعہ، سنی دونوں کا اتفاق ہے میرے نزدیک امرحق یہ ہے کہ جناب مختار امامت حضرت زین العابدین (ع) کے قائل تھے اس کی دلیل یہ ہے کہ انہوں نے حضرت امیرالمومنین (ع) سے یہ سنا تھا کہ اتنے ہزار اعوان و انصار بنی امیہ کو موت کے گھاٹ اتاردیں گے یہ کھلی ہوئی حقیقت ہے کہ کوئی سنی امیرالومنین (ع) کے لیے یہ عقیدہ نہیں رکھتا کہ آپ عواقب و انجام کو خداوندعالم کے اذن سے جانتے تھے یہ مخصوص عقیدہ مذہب شیعہ کا ہے اس لیے جناب مختار کا حتم و جزم ویقین سے یہ خبر دینا کہ میں کوفہ کا حاکم بنوں گا۔ عبیداللہ ابن زیاد مجھے قتل نہیں کر سکتا۔ جب تک میں بنی امیہ کی مددگاروں میں اتنے آدمیوں کو قتل نہ کردوں. اگر یہ مجھے قتل بھی کر دے گا تو خداوند مجھے زندہ کر لے گا، یہ عقیدہ اہل سنت کے مذہب کے موافق نہیں ہے اور فرقہ حقہ مذہب امامیہ کے لیے مخصوص ہے اس لیے کہ آئمہ کے لیے قائل ہیں کہ وہ عواقب و انجام سے باخبر ہیں۔ جیسا کہ آئمہ کے حا لات کو دیکھنے کے بعد وجدان صحیح اس کو معلوم کر سکتا ہے۔ بلکہ حالات کے دیکھنے سے یہ بھی معلوم ہو سکتا ہے کہ آئمہ نے اپنے مخصوص اصحاب کو بھی بعض امور کے اسرار و رموز وانجام کو بتلا دیا تھا اور مطلع کر دیا تھا..
۔
۔
🔴 علامہ خوئی کے مطابق جو بعض روایات مختار کی مذمت میں آئی ہیں وہ تقیہ پر محمول ہیں۔
علامہ مجلسی علیہ رح فرماتے ہیں:
"وان كانت اخبار مدحه اكثر"
کہ اکثر روایات حضرت مختار ثقفی کی مدح میں ہیں۔
ان العلامة المجلسي قدس سره ذكر في كتابه ملاذ الاخيار الاخبار المادحة والذامة للمختار الثقفي ثم بالاخير يظهر رايه الشريف ولم يتفاعل مع الاخبار لا المادحة ولا الذامة بل يقول صريحا في هذا الكتاب ج3 ص315 ( واقول : لعل التوقف فيه احوط واولى وان كانت اخبار مدحه اكثر) فيظهر منه التوقف مع انه ينص على كثرة مدح المختار الثقفي في الاحاديث المروية عن الائمة (عليهم السلام).
۔
۔
🔴 *ایک اعتراض اور اسکا جواب*
ابن ادریس حلی نے روایت نقل کی ہے:
أَبَانُ بْنُ تَغْلِبَ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ عَنْ زُرْعَةَ عَنْ سَمَاعَةَ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا عَبْدِ اَللَّهِ عَلَيْهِ السَّلاَمُ يَقُولُ: إِذَا كَانَ يَوْمُ اَلْقِيَامَةِ مَرَّ رَسُولُ اَللَّهِ بِشَفِيرِ اَلنَّارِ وَأَمِيرُ اَلْمُؤْمِنِينَ وَاَلْحَسَنُ وَاَلْحُسَيْنُ فَيَصِيحُ صَائِحٌ مِنَ اَلنَّارِ يَا رَسُولَ اَللَّهُ أَغِثْنِي يَا رَسُولَ اَللَّهِ ثَلاَثاً قَالَ فَلاَ يُجِيبُهُ قَالَ فَيُنَادِي يَا أَمِيرَ اَلْمُؤْمِنِينَ يَا أَمِيرَ اَلْمُؤْمِنِينَ ثَلاَثاً أَغِثْنِي فَلاَ يُجِيبُهُ قَالَ فَيُنَادِي يَا حُسَيْنُ يَا حُسَيْنُ يَا حُسَيْنُ أَغِثْنِي أَنَا قَاتِلُ أَعْدَائِكِ قَالَ فَيَقُولُ لَهُ رَسُولُ اَللَّهِ قَدِ اِحْتَجَّ عَلَيْكَ قَالَ فَيَنْقَضُّ عَلَيْهِ كَأَنَّهُ عُقَابٌ كَاسِرٌ قَالَ فَيُخْرِجُهُ مِنَ اَلنَّارِ قَالَ فَقُلْتُ لِأَبِي عَبْدِ اَللَّهِ عَلَيْهِ السَّلاَمُ وَمَنْ هَذَا جُعِلْتُ فِدَاكَ قَالَ اَلْمُخْتَارُ قُلْتُ لَهُ وَلِمَ عُذِّبَ بِالنَّارِ وَقَدْ فَعَلَ مَا فَعَلَ قَالَ إِنَّهُ قَالَ كَانَ فِي قَلْبِهِ مِنْهُمَا شَيْءٌ وَاَلَّذِي بَعَثَ مُحَمَّداً بِالْحَقِّ لَوْ أَنَّ جَبْرَئِيلَ وَمِيكَائِيلَ كَانَ فِي قَلْبَيْهِمَا شَيْءٌ لَأَكَبَّهُمَا اَللَّهُ فِي اَلنَّارِ عَلَى وُجُوهِهِمَا .
ابان بن تغلب نے جعفر بن ابراہیم سے جس نے زرعہ سے جس نے سماعہ سے روایت کی جو کہتے ہیں: میں نے امام صادق ع کو فرماتے سنا: بروز قیامت رسول اللہ ص، امیر المؤمنین ع، حسن ع اور حسین ع جہنم کے کنارے سے گذریں گے تو ایک چیخنے والا آتش جہنم میں سے تین مرتبہ چیخے گا: یا رسول اللہ، میری مدد کیجئے، یا رسول اللہ! امام ع نے فرمایا: تو آپ اسکی اجابت نہیں فرمائیں گے۔ امام ع نے فرمایا: پس وہ تین مرتبہ نداء دے گا: یا امیر المؤمنین، یا امیر المؤمنین، میری مدد کیجئے، مگر وہ اسکی اجابت نہیں کریں گے۔ امام ع نے فرمایا: تو وہ نداء دے گا: یا حسین، یا حسین، یا حسین، میری مدد کیجئے، میں آپ کے دشمنان کا قاتل ہوں تو رسول اللہ ص اُن سے فرمائیں گے: اس نے تم سے احتجاج کیا ہے۔ امام ع فرماتے ہیں: تو حسین ع اس پر ایسے کودیں گے جیسے کوئی شکاری چیل ہوتا ہے اور امام فرماتے ہیں: حسین ع مختار کو جہنم سے نکال دیں گے۔ راوی نے کہا: تو میں نے امام صادق ع سے عرض کیا: یہ کون شخص ہوگا، میں آپ پر قربان جاؤں؟ امام ع نے فرمایا: مختار۔ میں نے ان سے عرض کیا: اسکو عذاب کیوں ہوگا حالانکہ اس نے جو کیا تھا وہ کیا تھا؟ راوی نے کہا: امام ع نے جواب دیا: اسکے دل میں ان دونوں کیلئے کوئی بات تھی، اور اس ذات کی قسم جس نے محمد ص کو حق کے ساتھ بھیجا، اگر جبرئیل و میکرائیل دونوں کے دلوں میں بھی کوئی بات ہوتی تو اللہ ان دونوں کو مُنہ کے بل جہنم میں پھینک دیتا۔
👈🏻 *جواب*
یہ روایت ابن ادریس حلی نے امام صادق ع کے صحابی ابان بن تغلب کی کتاب سے نقل کی ہے۔
اور سید خوئی نے ان دونوں روایات کو نقل کرکے لکھا ہے کہ یہ دونوں روایات ضعیف ہیں،
تہذیب الاحکام والی کی سند میں ارسال ہے اور امیہ بن علی قیسی راوی کی وجہ سے بھی ضعیف ہے،
اور ابن ادریس کی کتاب میں جو روایت ہے اسکی سند عجیب و غریب ہے،
اولاً جعفر بن محمد حضرمی کی وثاقت ثابت نہیں اور ابان کا جعفر بن محمد حضرمی سے روایت کرنا عجیب ہے بالاضافہ اسکے کہ جعفر کا زرعہ سے روایت کرنا بھی مشکوک ہے کیونکہ ان دونوں کا طبقہ الگ ہے،
اور سید خوئی کے مطابق ابن ادریس کی کتاب میں بہت سی غلطیاں ہیں۔
(معجم رجال الحديث / 19 / 108 / 12185)
ابن داود حلی نے اپنی رجال کی کتاب میں مختار کی مدح میں روایات نقل کرکے کشی کا قول نقل کیا ہے:
وما روي فيه مما ينافي ذلك قال الكشي نسبته إلى وضع العامة أشبه
اور جو مروی ہے جو کہ مدح کے منافی ہے اس پر شیخ کشی کہتے ہیں: اسکی نسبت عامہ (اہل سنت) کے گھڑنے سے ملتی ہے۔ (20)
مگر ہمیں شیخ کشی کی موجودہ کتاب میں یہ عبارت نہیں ملتی ان سے، ممکن ہے ابن داود کے پاس رجال کشی کا ایسا نسخہ تھا جس میں یہ عبارت موجود تھی، یہی بات سید خوئی نے کہی ہے اور کہا ہے کہ مذمت کی روایات کو تقیہ پر حمل کیا جا سکتا ہے۔
#اَلّٰلھُمَّ_لْعَنْ_قَتَلَۃَ_اَلحُسَیِنَؑ_وَ_اُولاَدِ_اَلحُسَیِنَؑ_وَ_اَصحَابِ_الحُسینؑ #تعلیمات_اہلبیت #talimaat_e_ahlbait #plzshare #sharethispost #share #تاریخ #روایت #tareekh #karbala #tareekh #کوفہ #مختار #مختار_ثقفی #mukhtarsaqfi #التماس_دعا #بدر_علی #تبدیلی_ممنوع