مختار کے قیام میں ایرانیوں کا کردار
مختار کے قیام کے دوران ایرانیوں کو بنو امیہ اور عربوں کے خلاف خروج (بغاوت) کا ایک مناسب موقع ملا۔ اس زمانے میں کوفہ ایرانیوں اور حضرت علیؑ کے شیعوں کا ایک بڑا مرکز تھا، جو بنو امیہ سے شدید دشمنی رکھتے تھے۔ یہ شہر حضرت علیؑ کے دورِ خلافت کا دارالحکومت بھی رہا تھا، اسی لیے ان کے بہت سے پیروکار اور حامی یہاں آباد ہو گئے تھے۔ ایرانی سپاہیوں (اساوره) کی ایک بڑی تعداد بھی قادسیہ کی شکست کے بعد کوفہ میں باقی رہ گئی تھی۔
یہ وہ دیلمی تھے جو پہلے ایرانی فوج میں خدمت کرتے تھے اور جنگِ قادسیہ کے بعد اسلام قبول کر کے کوفہ میں آباد ہو گئے تھے۔ مزید یہ کہ کوفہ حیرہ کے قریب قائم تھا، اور یہ علاقہ قدیم زمانے سے ساسانی بادشاہوں کے زیرِ اثر رہا تھا۔ خورنق کے محل اور نعمان و منذر کے واقعات کی یادیں ان ایرانیوں کے دلوں میں، جو کوفہ کے اطراف میں رہتے تھے، ابھی تک زندہ تھیں۔ اسی لیے کوفہ بنو امیہ (تازیان) کے خلاف بغاوت کے لیے ایک موزوں مرکز سمجھا جاتا تھا۔
📚 حوالہ: دو قرن سکوت، صفحہ 87
درحقیقت مختار نے موالی (غیر عرب مسلمانوں، خاص طور پر ایرانیوں) کے ساتھ بہت زیادہ حسنِ سلوک کیا، خاص طور پر ان کے ساتھ جو بنو امیہ کے دور میں ظلم اور ذلت کا شکار تھے۔ بنو امیہ کے عمال عربی تعصب رکھتے تھے اور ان موالی کی سخت توہین کرتے تھے۔ پہلے ان موالی کو جنگوں میں پیدل رکھا جاتا تھا اور مالِ غنیمت میں بھی ان کو حصہ نہیں دیا جاتا تھا۔ لیکن مختار نے انہیں گھوڑوں پر سوار کیا اور مالِ غنیمت میں حصہ دیا، جس کی وجہ سے وہ اس کے حامی بن گئے۔
📚 حوالہ: دو قرن سکوت، صفحہ 91
ابراہیم اشتر کا لشکر اس قدر ایرانیوں سے بھرا ہوا تھا کہ جب ایک شامی سردار مذاکرات کے لیے اس کے لشکر میں داخل ہوا تو وہ جہاں سے اندر داخل ہوا وہاں سے لے کر سردار کے خیمے تک اسے ایک لفظ بھی عربی زبان کا سنائی نہ دیا۔
📚 حوالہ: دو قرن سکوت، صفحہ 92
Gallery
Tap any image to view full screen