Back to مختار ثقفی

مختار ثقفی نے ایرانیوں (موالی) کو وسیع پیمانے پر متحرک کر کے شیعی تحریک کو عربوں تک محدود رہنے سے نکالا اور اسے ایک عام اور فراگیر تحریک میں تبدیل کر دیا۔

مختار ثقفی نے ایرانیوں (موالی) کو وسیع پیمانے پر متحرک کر کے شیعی تحریک کو عربوں تک محدود رہنے سے نکالا اور اسے ایک عام اور فراگیر تحریک میں تبدیل کر دیا۔
مختار ثقفی نے ایرانیوں (موالی) کو وسیع پیمانے پر متحرک کر کے شیعی تحریک کو عربوں تک محدود رہنے سے نکالا اور اسے ایک عام اور فراگیر تحریک میں تبدیل کر دیا۔
مختار ثقفی نے ایرانیوں (موالی) کو وسیع پیمانے پر متحرک کر کے شیعی تحریک کو عربوں تک محدود رہنے سے نکالا اور اسے ایک عام اور فراگیر تحریک میں تبدیل کر دیا۔
مختار ثقفی نے ایرانیوں (موالی) کو وسیع پیمانے پر متحرک کر کے شیعی تحریک کو عربوں تک محدود رہنے سے نکالا اور اسے ایک عام اور فراگیر تحریک میں تبدیل کر دیا۔
مختار ثقفی نے ایرانیوں (موالی) کو وسیع پیمانے پر متحرک کر کے شیعی تحریک کو عربوں تک محدود رہنے سے نکالا اور اسے ایک عام اور فراگیر تحریک میں تبدیل کر دیا۔
مختار ثقفی نے ایرانیوں (موالی) کو وسیع پیمانے پر متحرک کر کے شیعی تحریک کو عربوں تک محدود رہنے سے نکالا اور اسے ایک عام اور فراگیر تحریک میں تبدیل کر دیا۔
مختار ثقفی نے ایرانیوں (موالی) کو وسیع پیمانے پر متحرک کر کے شیعی تحریک کو عربوں تک محدود رہنے سے نکالا اور اسے ایک عام اور فراگیر تحریک میں تبدیل کر دیا۔
مختار ثقفی نے ایرانیوں (موالی) کو وسیع پیمانے پر متحرک کر کے شیعی تحریک کو عربوں تک محدود رہنے سے نکالا اور اسے ایک عام اور فراگیر تحریک میں تبدیل کر دیا۔
مختار ثقفی نے ایرانیوں (موالی) کو وسیع پیمانے پر متحرک کر کے شیعی تحریک کو عربوں تک محدود رہنے سے نکالا اور اسے ایک عام اور فراگیر تحریک میں تبدیل کر دیا۔
مختار ثقفی نے ایرانیوں (موالی) کو وسیع پیمانے پر متحرک کر کے شیعی تحریک کو عربوں تک محدود رہنے سے نکالا اور اسے ایک عام اور فراگیر تحریک میں تبدیل کر دیا۔
مختار ثقفی نے ایرانیوں (موالی) کو وسیع پیمانے پر متحرک کر کے شیعی تحریک کو عربوں تک محدود رہنے سے نکالا اور اسے ایک عام اور فراگیر تحریک میں تبدیل کر دیا۔

🔴 مختار ثقفی نے ایرانیوں (موالی) کو وسیع پیمانے پر متحرک کر کے شیعی تحریک کو عربوں تک محدود رہنے سے نکالا اور اسے ایک عام اور فراگیر تحریک میں تبدیل کر دیا۔

 

▪️ مختار سے پہلے، شیعی تحریک توابین (۶۵ ہجری) تک مکمل طور پر عربی تھی اور غیر عرب عناصر (چاہے ایرانی ہوں یا دیگر) اس میں کسی طرح کا کردار ادا نہیں کرتے تھے۔

 

▪️ مختار پہلے شخص تھے جنہوں نے ایرانی موالی کو فعال طور پر شیعی قیام میں متحرک اور منظم کیا۔

 

▪️ اس اقدام نے عوامی بنیاد اور شیعہ تحریک کی کشش کو نمایاں طور پر وسعت دی اور اسے عرب قبائلی اور نسلی حدود سے آگے لے گیا۔

 

📚 The Origins and Early Development of Shi'a Islam

 

⭕ مختار ثقفی کی فوج میں فارسی (ایرانی) سپاہ: 

 

مختار کا قیام ان سلسلہ وار واقعات اور بحرانوں میں سے ایک تھا جن کے دوران ساتویں صدی عیسوی کے اواخر میں ایک نسبتاً الگ مگر ابھی غیر مستحکم اسلامی شناخت تشکیل پا رہی تھی۔ مختار کو موالی (غیر عرب نومسلموں) کی حمایت حاصل ہوئی اور اس نے ان کی طرف رجوع کیا، لیکن اس مسئلے کی اصل اہمیت ابھی پوری طرح واضح نہیں ہے۔

 

پہلے یہ دلیل دی جاتی رہی ہے کہ مختار کی فوج میں موالی کی نمایاں موجودگی اس بات کی علامت ہے کہ یہ قیام — اور وہ تشیع جس کی یہ تحریک ابتدائی صورتوں میں سے ایک ہے — شروع ہی سے ایک خاص غیر عرب یا فارسی رنگ رکھتا تھا۔

 

📚 حوالہ: The Formation of Islam, صفحہ 89

 

⭕ مختار ثقفی کی فوج میں فارسی سپاہ: 

 

دینوری (وفات 894ء) کی رپورٹ کے مطابق:

 

جو لوگ مختار کی دعوت پر لبیک کہتے تھے، ان میں زیادہ تر بنی ہمدان کے عرب اور وہ فارسی شامل تھے جو کوفہ میں رہائش پذیر تھے، اور جنہیں معاویہ نے پہلے اپنی فوج میں رجسٹر کیا تھا۔ ان لوگوں کو “حمراء” (سرخ پوش) کہا جاتا تھا۔

 

یہ نومسلم فارسی دراصل وہ سپاہی تھے جو جنگ میں شکست کے بعد ہتھیار ڈال چکے تھے۔ یہ ساسانی فوج کے وہ ارکان تھے جو ایک فوجی طبقے سے تعلق رکھتے تھے، اور ان کی پہچان سرخ رنگ (علامتی یونیفارم) سے ہوتی تھی۔ کہا جاتا ہے کہ مختار کے زمانے میں کوفہ میں ایسے “حمراء” کی تعداد تقریباً بیس ہزار تھی۔

 

مزید یہ کہ ابتدائی علوی پیروکاروں کے درمیان یمنی یہودی اور ان کے مخصوص کاسمولوجیکل اور اساطیری تصورات بھی موجود تھے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ فارسی ثقافتی اثرات بھی نمایاں تھے۔ اگرچہ مورخین نے مختار کی تحریک کو “موالی کی تحریک” کہا ہے اور اس میں فارسی نومسلموں کے وسیع کردار کو تسلیم کیا ہے، لیکن اکثر انہوں نے تشیع میں زرتشتی (مزدائی) افکار کے ممکنہ اثرات کو نظر انداز کیا ہے۔

 

📚 حوالہ: Mystics, Monarchs, and Messiahs: Cultural Landscapes of Early Modern Iran, صفحہ 256–257

 

⭕ مختار ثقفی کی فوج میں فارسی (ایرانی) سپاہ: 

 

جب شام کے دو افسران، فرت اور عمیر، ابنِ اشتر کے لشکر میں آئے تو انہوں نے شکایت کی کہ جب سے وہ اس لشکر میں داخل ہوئے ہیں تقریباً انہیں ایک لفظ بھی عربی زبان میں سننے کو نہیں ملا۔ انہوں نے ابنِ اشتر سے پوچھا کہ وہ ایسی غیر عرب فوج کے ساتھ کیسے شام کے بہترین اور منتخب سپاہیوں کا مقابلہ کرنے کی امید رکھتا ہے؟

 

ابنِ اشتر نے جواب دیا:

“ان لوگوں سے زیادہ عقل مند اور جنگ کے لیے موزوں کوئی قوم نہیں جو میرے ساتھ ہے، جو شامیوں سے لڑنے کے قابل ہو۔ یہ لوگ کچھ بھی نہیں مگر بہادر جنگجو ایرانیوں (ابناء الاساورة) اور معزز مرزبانوں و سرداروں (ابناء المرازبة) کی اولاد ہیں۔”

 

مختار کے ایک کمانڈر کے مطابق، وہ فارسی جنگجوؤں کو شامیوں کے خلاف سب سے زیادہ قابل اور مناسب سمجھتا تھا۔

 

لیکن ایک اور روایت، جو مبرد نے نقل کی ہے، اس میں کہا گیا ہے کہ فارسیوں کی جگہ عربوں کو ترجیح دی گئی۔

 

یہ روایت ایک الگ تھلگ اور موالی مخالف بیان سمجھا جاتا ہے، جو دیگر ان روایات سے متضاد ہے جن میں موالی کی وفاداری اور جنگی صلاحیت کو بیان کیا گیا ہے۔.

 

📚 حوالہ: Sasanid Soldiers in Early Muslim Society: The Origins of ‘Ayyaran and Futuwwa, صفحہ 206

 

بدر علی

 

#بدر_علی 

#تعلیمات_اہلبیتؑ 

#تبدیلی_ممنوع 

#التماس_دعا 

#اللھم_صلی_علی_محمد_وآل_محمد 

#talimaat_e_ahlbait 

#invisibleislam 

#PlzLikeandFollowthePage 

#SharePost

Gallery

Tap any image to view full screen

Gallery Image 1
Gallery Image 2
Gallery Image 3
Gallery Image 4
Gallery Image 5
Gallery Image 6
Gallery Image 7
Gallery Image 8
Gallery Image 9
Gallery Image 10
Gallery Image 11