Back to مختار ثقفی

مختار کے بارے میں کیا یہ دو روایت سند کے لحاظ سے صحیح و معتبر ہیں ؟

مختار کے بارے میں  کیا یہ دو روایت سند کے لحاظ سے صحیح و معتبر ہیں ؟
مختار کے بارے میں  کیا یہ دو روایت سند کے لحاظ سے صحیح و معتبر ہیں ؟

*موضوع:مختار ثقفی*

 

❓ کیا یہ دو روایت سند کے لحاظ سے صحیح و معتبر ہیں ؟؟

 

📜 1- عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ (ع) قَالَ لِي: يجُوزُ النَّبِي(ص) الصِّرَاطَ يتْلُوهُ عَلِي وَ يتْلُو عَلِياً الْحَسَنُ وَ يتْلُو الْحَسَنَ الْحُسَينُ فَإِذَا تَوَسَّطُوهُ نَادَي الْمُخْتَارُ الْحُسَينَ(ع) :يا أَبَا عَبْدِ اللَّهِ (ع) إِنِّي طَلَبْتُ بِثَارِكَ فَيقُولُ النَّبِي(ص) لِلْحُسَينِ(ع) :أَجِبْهُ؛ فَينْقَضُّ الْحُسَينُ(ع) فِي النَّارِ كَأَنَّهُ عُقَابٌ كَاسِرٌ فَيخْرِجُ الْمُخْتَارَ حُمَمَةً وَ لَوْ شُقَّ عَنْ قَلْبِهِ لَوُجِدَ حُبُّهُمَا فِي قَلْبِهِ.

 

📃 امام صادق (ع) نے فرمایا کہ: رسول خدا (ص) پل صراط سے گزریں گے، حضرت علی (ع) اور امام حسن (ع) بھی انکے پیچھے ہوں گے اور پھر جب امام حسین (ع) پل صراط کے درمیان پہنچیں گے تو مختار ( کہ جو عذاب دوزخ میں ہو گا) ندا دے کر کہے گا: یا ابا عبد اللہ میں آپکے خون کا انتقام لینے والا ہوں، یہ سن کر رسول خدا (ص) فرمائیں گے: اے حسین اسکی بات کا جواب دیں، پھر امام حسین عقاب کی سی تیزی سے مختار کو دوزخ سے نجات دیں گے اور اگر مختار کے دل کو کھول کر دیکھا جائے تو شاید اسکے دل میں ان دونوں (شیخین) کے لیے محبت موجود ہو۔

 

📜 2. دوسری روایت بھی تقریبا اسی معنی و مضمون پر مشتمل ہے کہ جو امام صادق (ع) سے نقل ہوئی ہے کہ اس روایت کے آخر میں راوی امام سے سوال کرتا ہے کہ: مختار اتنی خدمات انجام دینے کے باوجود بھی کیوں عذاب جہنم میں مبتلا ہے ؟ امام جواب میں فرمائیں گے کہ: کیونکہ اسکے دل میں ان دو خلفاء کی محبت موجود تھی، پھر امام قسم کھا کر فرمائیں گے کہ اگر جبرائیل اور میکائیل کے دل میں بھی ان دو کے لیے ذرہ بھر بھی محبت موجود ہوتی تو خداوند ان دونوں کو بھی منہ کے بل آتش جہنم میں ڈال دیتے۔

 

❓ اور کیا مختار کی دوسرے خلیفہ (عمر) کے ساتھ کوئی نسبت تھی ؟

 

✅ *جواب* ✅

 

اولا: یہ دونوں روایات سند کے لحاظ سے ضعیف ہیں اور نتیجے کے طور پر قابل اعتماد و استناد بھی نہیں ہوں گی۔

 

مرحوم آيت الله خوئی نے نقل روايات کے بعد لکھا ہے کہ:

 

📜 أقول: الروايتان ضعيفتان، أما رواية التهذيب فبالارسال أولا، وبأمية بن علي القيسي ثانيا.....

 

📃 ہر دو روايت سند کے اعتبار سے ضعیف ہیں، اولا: کتاب تہذیب کی روایت مرسل ہے اور ثانیا: اميۃ ابن علی قيسی (دوسری روايت میں) ضعيف ہے۔

 

📚 الموسوي الخوئي، السيد أبو القاسم (متوفي1411هـ)، معجم رجال الحديث وتفصيل طبقات الرواة، ج19، ص108

 

⭕ ثانيا: مختار ابن ابی عبيد کی عمر ابن خطاب سے کسی قسم کی کوئی نسبت اور تعلق نہیں تھا، بلکہ عبد اللہ ابن عمر، مختار کا داماد (بہن کا شوہر) تھا۔ یہ بات بہت سی کتب میں نقل ہوئی ہے:

 

▪️جیسے ابن اثير جزری نے کتاب أسد الغابۃ في معرفۃ الصحابۃ میں لکھا ہے کہ:

 

📜 أبو عُبَيد بن مسعود بن عَمْرو ابن عُمَير بن عَوف بن عُقْدَة بن غِيَرَةَ بن عوف ابن ثقيفٍ الثَّقَفِي . والد المختار بن أبي عبيد، ووالد صَفِيّة امرأة عبد الله بن عُمَر،

 

📃 ابو عبيد ابن مسعود ابن عمرو .... والد مختار ابن ابی عبيد اور والد صفيہ زوجہ عبد الله ابن عمر ہے۔

 

📚 ابن أثير الجزري، عز الدين بن الأثير أبي الحسن علي بن محمد (متوفي630هـ)، أسد الغابة في معرفة الصحابة، ج6، ص217، ناشر: دار إحياء التراث العربي – بيروت

 

اسی وجہ سے مختار کی بہن نے اپنے شوہر عبد اللہ ابن عمر سے چاہا کہ وہ یزید سے بات کرے تا کہ وہ مختار کو زندان سے آزاد کر دے،

 

▪️ابن ابی الحديد نے مختار کے زندان سے آزاد ہونے کے بارے میں لکھا ہے کہ:

 

📜 وذاك أن أخته كانت تحت عبد الله بن عمر بن الخطاب ، فسألت بعلها أن يشفع فيه إلي يزيد فشفع ، فأمضي شفاعته ، وكتب بتخلية سبيل المختار علي البريد ، فوافي البريد وقد أخرج ليضرب عنقه ، فأطلق.

 

📃 مختار کے زندان سے آزاد ہونے کا سبب یہ ہے کہ اسکی بہن زوجہ عبد اللہ ابن عمر تھی، اس نے اپنے شوہر سے کہا کہ مختار کے بارے میں یزید سے بات کرے اور یزید نے بھی اسکی بات مان لی اور اپنے قاصد کے ہاتھ ایک خط مختار کی آزادی کے بارے میں بھیجا اور جب مختار کی گردن کاٹنے کے لیے اسے زندان سے باہر لایا گیا تھا تو قاصد نے اسی وقت خط کو عبید اللہ ابن زیاد کو دیا، اس نے خط پڑھنے کے بعد مختار کو آزاد کر دیا۔

 

📚 إبن أبي الحديد المدائني المعتزلي، (متوفي655 هـ)، شرح نهج البلاغة،ج2، ص171، تحقيق محمد عبد الكريم النمري، ناشر: دار الكتب العلمية ، بيروت، لبنان،

 

❓ اگر مختار بد عقیدہ تھا تو سفیر امام حسین حضرت مسلم بن عقیل نے اس پر اعتماد کیوں کیا اور اپنی پناہ کا مرکز مختار کو کیوں چنا ؟؟

 

تمام مورخین نے لکھا کہ :

 

حضرت مسلم ابن عقیل کی کوفہ آمد کے موقع پر مختار ان افراد میں سے ایک تھا کہ جنہوں نے حضرت مسلم کی حمایت کا اعلان کیا۔ اسی وجہ سے حضرت مسلم جب کوفہ میں آئے تو مختار کے گھر گئے اور جب عبید اللہ ابن زیاد کو معلوم ہوا کہ مسلم کی پناہ گاہ مختار کا گھر ہے تو وہ وہاں سے ہانی ابن عروہ کے گھر منتقل ہوئے ۔۔۔ 

 

حوالہ جات :

الکامل،ج‌ 4، ص 36

ابن قتیبۃ الدینوری، الأخبار الطوال، ص 231

مروج الذهب مسعودی شافعی، ج 3 ص 252

Gallery

Tap any image to view full screen

Gallery Image 1
Gallery Image 2