🔴 جناب مختار رض کے بارئے آقا ابن نماء رح کی تحقیق:
📜 قال جعفر بن نما - إعلم أن كثيرا من العلماء لا يحصل لهم التوفيق بفطنة توقفهم على معاني الأخبار، ولا رؤية تنقلهم من رقدة الغفلة إلى الاستيقاظ، ولو تدبروا أقوال الأئمة في مدح المختار لعلموا أنه من السابقين المجاهدين الذين مدحهم الله تعالى جل جلاله في كتابه المبين، ودعاء زين العابدين عليه السلام للمختار دليل واضح، وبرهان لائح، على أنه عنده من المصطفين الأخيار، ولو كان على غير الطريقة المشكورة، ويعلم أنه مخالف له في اعتقاده لما كان يدعو له دعاء لا يستجاب، ويقول فيه قولا لا يستطاب، وكان دعاؤه عليه السلام له عبثا، والامام منزه عن ذلك، وقد أسلفنا من أقوال الأئمة في مطاوي الكتاب تكرار مدحهم له، ونهيهم عن ذمه ما فيه غنية لذوي الابصار، وبغية لذوي الاعتبار، وإنما أعداؤه عملوا له مثالب ليباعدوه من قلوب الشيعة، كما عمل أعداء أمير المؤمنين عليه السلام له مساوي، وهلك بها كثير ممن حاد من محبته، وحال عن طاعته، فالولي له عليه السلام لم تغيره الأوهام، ولا باحته تلك الأحلام، بل كشفت له عن فضله المكنون وعلمه المصون. فعمل في قضية المختار ما عمل مع أبي الأئمة الأطهار.. إلخ.
علامہ شیخ جعفر بن محمد بن نما علیہ الرحمة تحریر فرماتے ہیں:
📃 معلوم ہونا چاہیے کہ بہت سے علما کو الفاظ کے سمجھنے کی توفیق نہیں ہوئی نہ وہ روایات کو نقل کرتے ہوئے غفلت کی نیند سے بیدار ہوئے ہیں لیکن اگر وہ مدح مختار میں اقوال آئمہ علیہم السلام پر غور کرتے تو انہیں یہ معلوم ہوجاتا کہ یہ ان سبقت کرنے والے مجاہدین میں داخل ہیں جن کی مدح خداوندعالم نے کتاب مبین میں کی ہے اور مختار رض کیلئے امام زین العابدین (ع) کی دعا دلیل ظاہر و روشن ہے کہ وہ حضرت کے نزدیک منتخب و نیکو کا ر افراد میں داخل تھے اگر مختار درست وصحیح راستے پر نہ ہوتے اور امام کے علم میں ہوتا کہ وہ اعتقادات میں حضرت کے مخالف میں تو ہرگز ایسی دعا نہ کرتے جو باب اجابت سے ٹکرائے ، اور نہ ایسی بات کہتے جو اچھی نہ سمجھی جائے اور حضرت کی دعا عبث و بیکار ہوجاتی حالانکہ یہ محقق ہے کہ امام کا دامن عبث کام سے پاکیزہ و پاک ہے ہم نے اس کتاب کے اثنا میں متعدد مقامات پر ایسے اقوال لکھے ہیں جن سے ان کی مدح ہوتی ہے اور برابھلا کہنے کی ممانعت پائی جاتی ہے وہ مدح و ثنا اور ممانعت ارباب علم و بصیرت کیلئے کافی و وافی ہے حقیقت تو یہ ہے کہ جناب مختار رض کے دشمنوں نے اس طرح کی حدیثیں صرف اس لیے گڑھی ہیں تاکہ شیعوں کے دل اس سے متنفرہوجائیں .یہ کوئی نئی بات نہیں ہے بلکہ حضرت امیرالمومنین کے دشمنوں نے بہت سی برائیاں حضرت کی جانب منسوب کی ہیں جن کے سبب سے بہت سے لوگ ہلاکت کے گڑھے میں گر گئے. اور ان کی محبت و الفت سے کنارہ کش ہوگئے لیکن جو لوگ حضرت کے سچے دوست تھے ان کی حالت وہمی چیزوں نے نہیں بدلی اور نہ ہی وہ ان خواب پریشان سے گمراہ ہوئے ۔ جناب مختار کے ساتھ بھی دشمنوں نے وہی برتاؤ کیا جو برتاؤ ابوالائمہ حضرت امیرالمومنین علیہ السلام سے کیا تها....
📚 ذوب النضار في شرح أخذ الثار ، صفحہ 145، 146 مولف: الشیخ ابن نماء الحلی رح متوفیٰ 645 ہجری
مکتبِ تشیع کے بلند قامت عالم محمد بن جعفر ابن نما جو کہ محقق حلی کے استاد اور خاندان ابن نما کے معروف ترین شیعہ علماء میں سے ایک ہیں، جنہوں نے ابن ادریس حلی، برہان الدین محمد قزوینی اور جعفر بن نما جیسے اساتذہ سے کسب فیض کیا اور سید بن طاووس، عبد الکریم بن احمد ابن طاووس، ابن علقمی وزیر، محقق حلی اور یوسف بن علی حلی جیسے عظیم الشان علماء اپنے شاگرد بنا کر تشیع کو دیے وہ اپنی کتاب ذوب النضار میں لکھتے ہیں :
📜 فَنَشَأَ مِقْدَاماً شُجَاعاً لَا يَتَّقِي شَيْئاً وَتَعَاطَى مَعَالِيَ الْأُمُورِ وَكَانَ ذَا عَقْلٍ وَافِرٍ وَجَوَابٍ حَاضِرٍ وَخِلَالٍ مَأْثُورَةٍ وَنَفْسٍ بِالسَّخَاءِ مَوْفُورَةٍ وَفِطْرَةٍ تُدْرِكُ الْأَشْيَاءَ بِفَرَاسَتِهَا وَهِمَّةٍ تَعْلُو عَلَى الْفَرَاقِدِ بِنَفَاسَتِهَا وَحَدْسٍ مُصِيبٍ وَكَفٍّ فِي الْحُرُوبِ مُجِيبٍ وَمَارَسَ التَّجَارِبَ فَحَنَّكَتْهُ وَلَابَسَ الْخُطُوبَ فَهَذَّبَتْهُ.
📃 مختار نے اس حال میں پرورش پائی کہ وہ بہت بہادر اور نڈر انسان تھے، وہ اپنی بلند ہمتی کے ساتھ ہمیشہ بلند ہمت کام انجام دیتے تھے، وہ عقلمند اور حاضر جواب تھے، سخاوت اور صداقت میں بے مثال تھے، اپنی ذہانت اور دوراندیشی سے کاموں کو سمجھ لیا کرتے تھے، وہ آئندہ واقع ہونے والے کسی بھی کام کے اندازہ لگانے اور جنگ کرنے میں بہت طاقتور تھے۔
📚 ذوب النضار في شرح الثار، ص61
یہی متن علامہ مجلسی نے بھی اپنی بحار کی جلد 45 کے صفحہ 350 پر لکھا ہے۔
اب ایک اور روایت ملاحظہ فرمائیں اور دیکھ کر بتائیں کہ کی مختار شیعہ تھا یا نہیں ۔۔ ابن نما حلى نے ذوب النضار في شرح الثار میں ، علامہ مجلسی نے بحارالانوار میں اور شیخ بحرانی نے العوالم میں لکھا ۔۔
📜 ثم جعل يتكلم بفضل آل محمد وينشر مناقب علي والحسن والحسين عليهم السلام ويسير ذلك ويقول: إنهم أحق بالأمر من كل أحد بعد رسول الله، ويتوجع لهم مما نزل بهم
📃 پھر اس (مختار) نے آل محمد (ع) کی فضیلت کے بارے میں کلام کیا اور لوگوں کے درمیان امام علی، امام حسن اور امام حسین عليہم السلام کے فضائل اور مناقب پھیلایا کرتا تھا اور کہا کرتا تھا کہ: رسول خدا کے بعد انکے اہل بیت ہی مقام خلافت کے لیے سب سے زیادہ مناسب ہیں۔۔
حوالہ جات:
بحار الأنوار، ج 45، الصفحة 352
ذوب النضار في شرح الثار، الصفحة 61
العوالم ، الصفحة 671
منقول
Gallery
Tap any image to view full screen