آیت الله العظمی الشیخ محمد حسین نجفی اعلیٰ الله مقامہ حضرت امیر مختار ثقفی ؓ کے بارے میں لکھتے ہیں
حضرت امیر مختار ثقفی ؓ
آیت الله العظمی الشیخ محمد حسین نجفی اعلیٰ الله مقامہ حضرت امیر مختار ثقفی ؓ کے بارے میں فرماتے ہیں:
ســیـد نــادر نــقـوی صاحب کی پوسٹ سے۔
📜 اگرچہ امیر مختار آل محمد علیھم السلام کے ہمدرد و خیرخواہ ہونے میں مشہور تھےاور ہیں مگر ان کے بارے میں جو اخبار و آثار ہم تک پہنچے ہیں ان میں امیر مختار کی مدح و قدح کے متعلق اس قدر شدید اختلاف ہے کہ غواص بحار اخبار آئمہ اطہار علامہ مجلسیؒ ایسے خبیر عالم بھی دونوں قسم کی روایات درج کرنے کے بعد کوئی حتمی فیصلہ کیے بغیر صاف صاف لکھ دیا ہے کہ میں ان کے بارے میں توقف کرنے والوں میں سے ہوں۔ اگرچہ ہماراے علماء میں مشہور یہی ہے کہ وہ مشکورین میں سے ہیں۔
جہاں تک ہمارے ذاتی رحجان کا تعلق ہے ہمارا میلان ان کی مدح کی طرف ہے ، حقیقت تو یہ ہے کہ جب انتہائی مزمت والی روایات سے بھی بالآخران کا مخلص ہونا ہی ظاہر ہوتا ہے تو بعد ازیں سرے سے یہ بحث ہی قلیل الجدویٰ معلوم ہوتی ہے، اتنا تو تاریخی شواھد سے معلوم ہے کہ انہوں نے قاتلان حسینؑ سے انتقام لے کر خاندان رسولؐ کو مسرور وشاد کام کیا ۔ حضرت امام جعفر صادقؑ سے مروی ہے فرمایا جب تک عبیداللہ بن زیاد قتل نہیں ہوا اس وقت تک خاندان بنی ہاشم کی کسی عورت نے نہ آنکھوں میں سرمہ ڈالا اور نہ خضاب لگایا اور نہ ہی کسی ہاشمی کے گھرانے سے پانچ سال تک دھواں اٹھتا دیکھا گیا۔، ایسا ہی جناب فاطمہ بنت علیؑ سے منقول ہے فرمایا جب تک مختار نے عبیداللہ بن زیاد کا سر نہیں بھیجا اس وقت تک ہماری کسی عورت نے نہ مھندی لگائی، نہ آنکھوں میں سرمہ لگایا اور نہ بالوں میں کنگھی کی،اسی طرح بعض موارد پر آئمہ اطہارؑ کا ان کے حق میں دعائے خیر کرنا بھی وارد ہے اور یہی امر امیر مختار کی فلاح کیلیے کافی ہے اور بعید نہیں کہ جو غلط باتیں ان کی طرف منسوب ہیں ان میں حکومت بنی امیہ اورحکومت ابن زبیر کے پروپیگنڈے کا دخل ہو کیونکہ امیر مختار بیک وقت دونوں حکومتوں کے عتاب کا شکار تھے۔
📚 سعادت الدارین فی مقتل الحسین ؑ، صفحہ 590
📚 آصدق الاخبار، بحار ج10، فرسان الہیجا ج 2 سعادت الدارین فی مقتل الحسین
Gallery
Tap any image to view full screen