Back to نمازِ تراویح

کیا نماز تراویح امام باقر و صادق اور امام حسن عسکری ع کی روایت سے ثابت ہے ؟

کیا نماز تراویح امام باقر و صادق  اور امام حسن عسکری ع کی روایت سے ثابت ہے ؟

💠 پیارے دوستو!

 

جب ہم نے اس جاہل مولوی کی جہالت کا پردہ چاک کیا اور اس کی تمام دلیلوں کا رد کیا تو وہ ایک روایت سے استناد کرنے لگا، مگر اس روایت کے الفاظ کو کاٹ پیٹ کر اس طرح پیش کیا کہ یوں لگے جیسے نبی اکرمﷺ رمضان میں نوافل کو جماعت سے پڑھتے تھے۔ مگر جب ہم پوری روایت کو لاتے ہیں اور اس کا ترجمہ پیش کرتے ہیں، تو اس مولوی کی خیانت واضح ہو جاتی ہے۔

 

🔸 امام باقرؑ اور امام صادقؑ سے سوال کیا گیا کہ رمضان میں نمازِ شب کو جماعت سے پڑھنا کیسا ہے؟

فرمایا: "نبی اکرمﷺ نمازِ عشاء کے بعد اپنے گھر چلے جاتے تھے، پھر رات کے آخری حصے میں مسجد تشریف لاتے اور نماز پڑھتے۔ رمضان کی پہلی رات بھی اسی طرح ہوا۔ جب نبی اکرمﷺ نماز کے لیے کھڑے ہوئے، تو لوگ ان کے پیچھے صف بستہ ہوگئے۔"

 

✂️ "نبی اکرمﷺ ان سے بچ کر اپنے گھر تشریف لے گئے اور انہیں چھوڑ دیا۔ مسلمانوں نے تین رات ایسا ہی کیا۔ پھر چوتھے دن نبی اکرمﷺ منبر پر تشریف لائے، اللہ کی حمد و ثنا کی، اور فرمایا:

 

👈 "اے لوگو! رمضان میں نمازِ شب کو جماعت سے پڑھنا بدعت ہے، اور نمازِ چاشت کو جماعت سے پڑھنا بھی بدعت ہے۔ خبردار! رمضان میں کسی بھی رات کو نمازِ شب کو جماعت سے مت پڑھو اور نمازِ چاشت بھی مت پڑھو، کیونکہ یہ گناہ ہے۔ یاد رکھو! ہر بدعت گمراہی ہے اور ہر گمراہی جہنم کی طرف لے جاتی ہے!" 👉

 

اس کے بعد نبی اکرمﷺ منبر سے اترتے ہوئے فرما رہے تھے:

"سنت کے مطابق کم عمل کرنا، بدعت کے ساتھ زیادہ عمل کرنے سے بہتر ہے!"

 

📚 ملاذ الأخیار في فهم تهذیب الأخبار، علامہ مجلسی، ج 5، ص 28

 

👆👆 جیسا کہ آپ نے دیکھا، یہ حدیث صحیح السند ہے۔ اس حدیث سے واضح ہوتا ہے کہ جب لوگوں نے نبی اکرمﷺ کے پیچھے نمازِ تراویح کے لیے صف بندی کی، تو آپ نے ان کے اس عمل کو رد کر دیا، انہیں چھوڑ کر چلے گئے، اور صراحتاً اعلان فرمایا کہ رمضان میں نفل نماز کو جماعت سے پڑھنا بدعت اور گناہ ہے۔

 

❌ تو سوال یہ ہے کہ وہ مولوی کس طرح اس روایت سے تراویح کے جواز پر استدلال کر رہا ہے؟ جبکہ خود نبی اکرمﷺ اس عمل کو بدعت قرار دے رہے ہیں؟

 

📛 ثانیاً، وہ مولوی دعویٰ کر رہا تھا کہ لوگوں نے پہلی بار تراویح کو جماعت سے پڑھا۔

👈 مگر دیکھو، لوگوں نے ایسا کیا، لیکن نبی اکرمﷺ نے انہیں اس بدعت سے منع فرما دیا اور واضح کیا کہ یہ بدعت اور گناہ ہے۔ 👉

 

🔥 ثالثاً، عمر بن خطاب نے رسول اللہﷺ کے اس فرمان کو پسِ پشت ڈال دیا اور اپنی خلافت کے دوران تراویح کو جماعت سے پڑھنے کا حکم دے دیا!

 

⁉️ سوال یہ ہے کہ اگر جماعت سے تراویح کا عمل لوگوں کا تھا، نہ کہ نبی اکرمﷺ کا، تو پھر تم لوگ نبی اکرمﷺ کی نصیحت کو کیوں نہیں مانتے اور تراویح کو جماعت سے کیوں پڑھتے ہو؟

 

⁉️ کیا نبی اکرمﷺ نے نہیں فرمایا کہ یہ بدعت ہے؟ یا تمہارا دین لوگوں کے عمل سے چلتا ہے؟

 

⁉️ کیا تم نے دینِ اسلام کو عمر بن خطاب کے حکم پر بنا لیا ہے، اور رسول اللہﷺ کی سنت کو چھوڑ دیا ہے؟

 

✅ نتیجہ:

👈 یہ مولوی، جو دین کا علم نہیں رکھتا، رسول اللہﷺ کے کلام کو بے حیثیت سمجھتا ہے، اور عمر کے حکم کو نبی اکرمﷺ کے فرمان پر مقدم کر رہا ہے!

 

👈 گویا ان کے نزدیک عمر نبی ہونے کے زیادہ لائق تھا، اور نبی اکرمﷺ (نعوذ باللہ) اپنی رسالت میں کوتاہی کر گئے!

 

‼️ یہ واضح گمراہی ہے، اور اس میں کوئی شک نہیں کہ جو لوگ بدعت پر اصرار کرتے ہیں، وہی رسول اللہﷺ کے اس فرمان کے تحت آتے ہیں کہ "ہر بدعت گمراہی ہے، اور ہر گمراہی جہنم کی طرف لے جاتی ہے!"

 

۔

 

⭕ امام حسن عسکری ع کی روایت کچھ یوں ہے:

 

علی بن سلیمان نے روایت کی، انہوں نے کہا: ہمیں علی بن ابی خلیس نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: مجھے احمد بن محمد بن مظہر نے حدیث سنائی، انہوں نے کہا:

 

"میں ابو محمد (امام عسکریؑ) کے پاس آیا، ایک شخص نے ان سے سوال کیا کہ آیا رسول اللہﷺ ماہِ رمضان میں نوافل (نماز) بڑھایا کرتے تھے؟ امامؑ نے فرمایا:

 

'جو یہ کہے کہ نبیﷺ ماہِ رمضان میں اپنی نمازوں میں اضافہ کرتے تھے، اس نے جھوٹ بولا اور اللہ پر افترا کیا!'

 

نبی اکرمﷺ ہر رات میں بیس رکعات (اضافی) نماز پڑھا کرتے تھے، ماہ رمضان کی ہر رات میں بھی بیس رکعات پڑھتے تھے۔ پھر اکیسویں رات میں تئیس رکعات پڑھتے، تئیسویں رات میں سو رکعات، پچیسویں رات میں بھی سو رکعات، اور آخری عشرہ کی ہر رات میں تیس رکعات پڑھتے تھے۔'"

 

📚 تہذیب الأحکام، ج 3، ص 68

 

یہاں کس جگہ امام ع نے تراویح کو باجماعت پڑھنے کا حکم دیا ؟؟؟

 

نتیجہ : عمری و عقل دو متضاد چیزیں ہیں

Gallery

Tap any image to view full screen

Gallery Image 1