Back to نمازِ تراویح

کیا امام علی ع نے حضرت عمر کی مداح بیان کی ؟

کیا امام علی ع نے حضرت عمر کی مداح بیان کی ؟
کیا امام علی ع نے حضرت عمر کی مداح بیان کی ؟
کیا امام علی ع نے حضرت عمر کی مداح بیان کی ؟
کیا امام علی ع نے حضرت عمر کی مداح بیان کی ؟

کیا امام علی ع نے حضرت عمر کی مداح بیان کی ؟

 

ایک روایت جسے آج کل عام سنی بہت زیادہ share کرتے ہیں، جو امیرالمؤمنین علیؑ کی زبان سے منقول ہے:

 

📜 "اللہ عمر کی قبر کو منور کرے، جس طرح اس نے ہماری مساجد کو منور کیا۔"

 

📚 شرح نہج البلاغة

 

پہلے تو ہم نے بتایا تھا کہ اس کتاب کا مولف عمری ہے ، لیکن اب اس روایت کا اہل سنت کے اصولوں کے مطابق جائزہ بیان کرتے ہیں 

 

یہ روایت کتاب فضائل رمضان میں سند کے ساتھ بیان ہوئی ہے ، اور اسکی سند کی حقیقت یہ ہے 👇🏼

 

اولاً: یہ روایت سند کے لحاظ سے ضعیف ہے:

 

محمد بن حارث الخراز: مجہول

 

سنان بن حاتم: مجہول

 

جعفر بن سلیمان الضبعی بصری:

 

رافضی، قدری، ضعیف

 

ابوبکر و عمر پر لعنت کرتا تھا

 

اہل سنت کے نزدیک اس کی احادیث احتجاج کے قابل نہیں

 

اس کے ساتھ نشست و برخاست سے بھی منع کیا گیا تھا

 

📚 "الضعفاء الکبیر" (عقیلی، ج 1، ص 188) میں ذکر کیا گیا ہے

 

جوزجانی نے کہا: "یہ منکر احادیث بیان کرتا ہے۔"

 

حباب القطعی: مجہول

 

ابی اسحاق الہمَدانی: مدلس

 

📚 حافظ ابن حجر نے اپنی کتاب "مراتب المدلسین" (رقم 91) میں ذکر کیا ہے۔

 

ثانیاً: کتاب "فضائل رمضان" کے محقق عبداللہ بن حمد المنصور اس روایت کی سند کے بارے میں کہتے ہیں:

"اس کی سند میں حباب القطعی ہے، جو غیر معروف ہے۔"

 

اس کے بعد وہ حاشیے میں سند کا مزید جائزہ لیتے ہیں، اور تمام راویوں کو اہل سنت کے اصولوں کے مطابق ضعیف قرار دیتے ہیں:

 

محمد بن الحارث الخراز:

 

خطیب بغدادی نے "تاریخ بغداد" (2922) میں ذکر کیا، مگر اس پر جرح یا تعدیل بیان نہیں کی۔

 

سنان بن حاتم:

 

اصل میں سیار بن حاتم عنزی، ابو سلمہ بصری مراد ہے۔

 

"صدوق" تھا، مگر وہم کرتا تھا۔

 

جعفر بن سلیمان:

 

"صدوق زاہد تھا، مگر تشیع رکھتا تھا۔"

 

حباب القطعی:

 

"تعجیل المنفعہ" (170) میں ذکر کیا گیا:

 

"یہ ابو اسحاق الہمَدانی سے روایت کرتا تھا، مگر نامعلوم (لا یعرف) راوی ہے۔"

 

ابو اسحاق الہمَدانی:

 

"ثقہ، عبادت گزار، مگر آخر عمر میں اختلاط کا شکار ہوا۔"

 

📚 فضائل رمضان (ابن ابی دنیا)، تحقیق: عبداللہ بن حمد المنصور، جلد 1، ص 58

 

نتیجہ:

یہ روایت سند کے لحاظ سے انتہائی ضعیف ہے اور صحیح حدیث کی شرائط پر پوری نہیں اترتی۔

 

---

 

ثالثاً:

ابن ابی الحدید معتزلی نے "شرح نہج البلاغہ" میں ذکر کیا ہے کہ یہ روایت مرسل ہے اور اہل سنت کے اصولوں کے مطابق بھی اس کی کوئی مضبوط سند موجود نہیں۔

 

👈 "وقد روى الرواة" 👉

 

"راویوں نے نقل کیا ہے کہ علیؑ رمضان کی راتوں میں خلافتِ عثمان کے دور میں نکلے، اور جب مساجد میں چراغ جلتے اور لوگ تراویح پڑھتے ہوئے دیکھے، تو کہا: 'اللہ عمر کی قبر کو نورانی کرے۔'"

 

📚 شرح نہج البلاغہ، ج 12، ص 180

 

---

 

رابعاً:

یہ روایت اہل سنت کی صحیح احادیث (مسلم و بخاری) کے خلاف ہے، کیونکہ امیرالمؤمنین علیؑ نے عمر کو 'کاذب، غدار اور خائن' کہا تھا:

 

👈 "کَاذِبًا آثِمًا غَادِرًا خَائِنًا" 👉

 

📚 (مسلم، بخاری)

 

لہٰذا، نہ سند درست ہے، نہ متن، اور یہ صحیح احادیث سے متصادم ہے۔

 

📑 بدر علی 

 

#اللھم_صلی_علی_محمد_وآل_محمد #تعلیمات_اہلبیتؑ #بدر_علی #التماس_دعا #talimaat_e_ahlbait

Gallery

Tap any image to view full screen

Gallery Image 1
Gallery Image 2
Gallery Image 3
Gallery Image 4