ابی بن کعب کے اعتراف کے مطابق نماز تراویح ایک بدعت ہے
📜 عمر بن خطاب نے حکم دیا کہ ابی بن کعب لوگوں کو (جماعت کے ساتھ) نماز پڑھائیں۔ ابی بن کعب نے کہا: "یہ (نماز) ایسی چیز ہے جو پہلے موجود نہیں تھی۔" عمر نے جواب دیا: "میں جانتا ہوں!"
📚 الاحادیث المختارة، ج 3، ص 367، حدیث 1161، تحقیق: ڈاکٹر عبدالملک بن عبداللہ بن دہیش
❓ اہل سنت کہتے ہیں کہ رسول اللہؐ نے تراویح پڑھی تھی، تو سوال یہ ہے: اگر یہ نماز رسول اللہؐ کے زمانے میں تھی، تو ابی بن کعب نے واضح الفاظ میں کیوں کہا کہ یہ نماز اس وقت نہیں تھی اور یہ ایک بدعت ہے؟
❓ اگر یہ نماز رسول اللہؐ کے زمانے میں رائج تھی اور خود نبیؐ نے اسے پڑھا تھا، تو عمر نے صحیح بخاری میں کیوں کہا: "نعم البدعة" (یہ کتنی اچھی بدعت ہے)؟
❓ کیا عمر کو سنت رسولؐ کا علم نہیں تھا؟ کیا وہ سنت نبویؐ سے جاہل تھے؟ یا پھر عمر بن خطاب نے جھوٹ بولا؟
❓ وہ نماز جو رسول اللہؐ کے زمانے میں تھی اور جسے خود نبیؐ نے پڑھا، وہ بدعت کیسے ہو سکتی ہے؟
❓ تو کیا تم لوگ جھوٹ بول رہے ہو کہ سنت رسول ﷺ تھی؟ اور جبکہ یہ الفاظ نعم البدعة خود ثابت کرتے ہیں کہ تراویح دراصل عمر کی ایجاد کردہ بدعت ہے
❓ یا پھر یہ مان لیا جائے کہ حضرت عمر سنت سے جاہل تھے ؟
❓ کیا ایسا ممکن ہے کہ کوئی چیز بیک وقت سنت بھی ہو اور بدعت بھی؟**
📑 بدر علی
#بدر_علی #التماس_دعا #تعلیمات_اہلبیتؑ #talimaat_e_ahlbait #اللھم_صلی_علی_محمد_و_آل_محمد
Gallery
Tap any image to view full screen