کچھ مومنین بھی حصول علم کیلئے سوال کرتے ہیں کہتے ہیں کہ اہل سنت حضرات ہم سوال کرتے ہیں کہ اگر باجماعت نماز تراویح بدعت تھی تو مولا علی ع نے اپنے دور خلافت میں اسے ختم یا بند کیوں نہیں کیا ؟
❓ کچھ مومنین بھی حصول علم کیلئے سوال کرتے ہیں کہتے ہیں کہ اہل سنت حضرات ہم سوال کرتے ہیں کہ اگر باجماعت نماز تراویح بدعت تھی تو مولا علی ع نے اپنے دور خلافت میں اسے ختم یا بند کیوں نہیں کیا ؟ ❌
✅ مومنین کیلئے جواب کچھ مراحل میں دیتا ہوں
1⃣ یہ اعتراض تو خود اہل سنت پر وارد ہوتا ہے کیونکہ اہل سنت نے خود اپنی کتابوں میں یہی بات لکھی ہے۔ سوال یہ ہے کہ جب صحیح بخاری میں آیا ہے کہ تراویح عمر کی بدعت ہے، 👈🏼 تو پھر انکے چوتھے خلیفہ نے اس بدعت کو ختم کیوں نہیں کیا؟ 👉🏼 انکے علماء نے اس بدعت کو کیوں نہیں مٹایا، بلکہ اسے جاری رکھا؟ لہٰذا، یہ اعتراض پہلے ان پر ہی لوٹتا ہے۔
ان کے نزدیک انکا چوتھا خلیفہ ان بدعتوں کو ختم کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا تھا، اور ابن تیمیہ کے مطابق وہ (نعوذباللہ) ذلیل تھا:
📜 مخذولا حيث ما توجه وأنه حاول الخلافة مراراً فلم ينلها
📃 "بے شک وہ (علی ع) جہاں بھی گیا، ناکام رہا، اور اس نے کئی بار خلافت حاصل کرنے کی کوشش کی، لیکن اسے نہیں ملی۔"
📚 الدرر الکامنة لابن حجر عسقلانی، ج 1، ص 55
👆👆 ابن تیمیہ، جو خود ایک نا//صبی اور زناز//ادہ تھا، کہہ رہا ہے کہ حضرت علیؑ کوشش کے باوجود لوگوں کا مقابلہ نہیں کر سکے اور ان کی کوششیں بے نتیجہ رہیں۔
2⃣ امیرالمؤمنینؑ نے خود اس سوال کا جواب دیا ہے کہ
دین خدا کے نفاذ میں انہیں یہ خوف تھا کہ لوگ کہیں کہ یہ ابوبکر و عمر کی مخالفت کر رہے ہیں، (اسلئے تراویح کی بدعت کو ختم نہ کر سکے)
جیسا کہ اہل سنت کے علماء نے روایت کیا ہے:
📜 قال: كان والله يكره أن يدّعى عليه خلاف أبي بكر وعمر
📃 کہ اللّه کی قسم وہ یہ ناپسند کرتے تھے کہ ان پر ابوبکر و عمر کی مخالفت کا الزام لگایا جائے۔"
📚 تاریخ المدینة المنورة، ج 1، ص 135، دار النشر: دار الکتب العلمیة - بیروت
🔰 لہٰذا، 👈🏼 انکے اپنے اصول کے مطابق، ثابت ہوا کہ امیرالمؤمنینؑ نے لوگوں کے اسلام سے پلٹنے کے خوف سے ان بدعتوں کو نہیں مٹایا، کہ ان پر کوئی الزام نہ لگے اور ابن تیمیہ نا/صبی کے مطابق، حضرت علیؑ نے کوشش کی مگر کامیاب نہ ہو سکے۔
3⃣ انکے مزہب میں تو اہلبیتؑ کا قول و اجماع حجت ہی نہیں
قال أبو إسحاق الشيرازي الملقب عندهم بالإمام (ت: 476 هـ) في كتابه التبصرة في أصول الفقه (ص: 368)، شرحه وحققه الدكتور محمد حسن هيتو. ط: دار الفكر، دمشق. تصوير 1403 هـ ـ 1983، عن الطبعة الأولى: 1980م:
📜 "اتفاق أهل بيت رسول الله ـ صلى الله عليه وسلم ـ ليس بحجة." انتهى.
وقال المحقق في الهامش تعليقاً على عبارة الشيرازي: "وهو المذهب المعتمد، والحق الأبلج، ورأي الجمهور. انظر: الإبهاج ونهاية السول (2/242)، وفواتح الرحموت (2/228)، والإحكام (1/223)، والمنتهى لابن حاجب (ص/41)." انتهى.
اردو ترجمہ: امام ابو اسحاق شیرازی (وفات: 476 ہجری)، جنہیں اہل سنت کے یہاں امام کا لقب دیا گیا ہے، اپنی کتاب التبصرہ فی اصول الفقہ (ص: 368) میں لکھتے ہیں:
📃 "اہل بیت رسول اللہ ﷺ کا اتفاق حجت نہیں ہے۔"
تحقیق کرنے والے ڈاکٹر محمد حسن ہیتو نے اس عبارت پر حاشیے میں تبصرہ کرتے ہوئے لکھا: "یہی معتبر موقف ہے، روشن حق، اور جمہور علماء کی رائے۔ مزید دیکھیں: الابہاج و نہایۃ السول (2/242)، فواتح الرحموت (2/228)، الاحکام (1/223)، اور المنتہی لابن حاجب (ص/41)۔"
4⃣ ہم یہ کہتے کہ چونکہ لوگ سابق خلفاء کی سنتوں سے مانوس ہو چکے تھے، جب مولا علیؑ نے ان کی غلط سنتوں یا بدعتوں کو ختم کرنا چاہا تو لوگوں نے اعتراض اور بغاوت شروع کر دی، جیسا کہ نمازِ تراویح کے معاملے میں ہوا، اور انہوں نے کہا: "واعمر اہ!" واعمر اہ
یہ روایت خود اہل سنت کے امام ابن ابی الحدید نے نقل کی ہے
۔
اسی طرح، رسول اللہﷺ نے بھی اسی مصلحت کے تحت خانہ کعبہ میں کوئی تبدیلی نہیں کی تھی، کیونکہ انہیں خوف تھا کہ لوگ دوبارہ جاہلیت کی طرف پلٹ جائیں گے۔ صحیح بخاری میں آیا ہے:
📜 عنْ عَائِشَةَ رضى الله عنهم زَوْجِ النَّبِیِّ صلى الله علیه وسلم أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله علیه وسلم قَالَ لَهَا أَلَمْ تَرَىْ أَنَّ قَوْمَکِ لَمَّا بَنَوُا الْکَعْبَةَ اقْتَصَرُوا عَنْ قَوَاعِدِ إِبْرَاهِیمَ. فَقُلْتُ یَا رَسُولَ اللَّهِ أَلاَ تَرُدُّهَا عَلَى قَوَاعِدِ إِبْرَاهِیمَ. قَالَ: « لَوْلاَ حِدْثَانُ قَوْمِکِ بِالْکُفْرِ لَفَعَلْتُ
📃 عائشہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: "کیا تم نے نہیں دیکھا کہ تمہاری قوم نے جب کعبہ بنایا تو اسے حضرت ابراہیمؑ کی بنیادوں سے کم کر دیا؟" میں نے کہا: "یا رسول اللہ! کیا آپ اسے دوبارہ حضرت ابراہیمؑ کی بنیادوں پر نہیں بنائیں گے؟" آپﷺ نے فرمایا: "اگر تمہاری قوم نئی نئی اسلام میں داخل نہ ہوئی ہوتی (اور ان کا ایمان کمزور نہ ہوتا) تو میں ایسا کر دیتا۔"
📚 صحیح البخاری، جلد 2، ص 573
📜 صحیح مسلم میں بھی آیا ہے کہ نبیﷺ کعبہ کے خزانے کو اللہ کی راہ میں خرچ کرنا چاہتے تھے، لیکن چونکہ لوگ ابھی نئے مسلمان ہوئے تھے اور جاہلیت کی طرف پلٹنے کا امکان تھا، اس لیے آپﷺ نے یہ کام نہیں کیا۔
📚 صحیح مسلم، ج 2، ص 969
♦️ لہٰذا، بدعتِ تراویح کے معاملے میں امیرالمؤمنینؑ نے بھی وہی کیا جو رسول اللہﷺ نے کیا۔
5⃣ امیرالمؤمنینؑ نے حدیثِ کافی میں، جہاں انہوں نے بدعتوں کا ذکر کیا، اس کی علت بھی بیان کی،
📜 "اور مجھے خوف ہوا کہ میرے لشکر کے ایک جانب سے لوگ میرے خلاف بغاوت کریں گے، جیسا کہ میں نے اس امت میں تفرقہ اور گمراہی کے اماموں کی اطاعت اور آگ کی طرف بلانے والوں کی پیروی دیکھی۔ اور میں نے ذوی القربی کا وہ حصہ دیا جس کے بارے میں اللہ عز و جل نے فرمایا: اگر تم اللہ پر اور اس چیز پر ایمان رکھتے ہو جو ہم نے اپنے بندے پر یوم الفرقان نازل کی، جس دن دو لشکر ایک دوسرے سے ٹکرائے۔ پس، قسم بخدا، ہم ہی ذوی القربی ہیں، جنہیں اللہ نے اپنی ذات اور اپنے رسول کے ساتھ ذکر کیا ہے۔"
📚 (الکافی)
مزید فرمایا:
📜 "پس خدا اور اس کے رسول کو جھٹلایا گیا، اور کتابِ خدا کو جھٹلایا گیا جو ہمارے حق میں نازل ہوئی تھی، اور ہمیں اس مال سے محروم کیا گیا جو خدا نے ہمارے لیے فرض کیا تھا۔ اور جو کچھ ہم نے رسول اللہﷺ کے بعد دیکھا، وہ کسی اور نبی کے اہلِ بیت نے اپنی امت سے نہیں دیکھا۔"
📚 (الکافی، باب خمس)
یہاں امامؑ واضح فرما رہے ہیں کہ انہوں نے کس طرح بدعتوں اور حق کی پامالی کو دیکھا، اور کس طرح لوگوں نے اللہ اور اس کے رسولﷺ کی نافرمانی کی۔
👈🏼 اب سوال یہ ہے کہ کیا امیرالمؤمنینؑ اور اہلِ بیتؑ کی بات ان کے لیے حجت ہے؟ ظاہر ہے " نہیں "
اب اگر انکے لیے چوتھے خلیفہ اور اہلِ بیت کی بات حجت ہے، تو یہ حضرات واضح طور پر فرما چکے ہیں کہ تراویح بدعت ہے۔
لہٰذا، یہ کافی ہے کہ امیرالمؤمنینؑ نے فرمایا کہ تراویح بدعت ہے، چاہے لوگ اسے قبول کریں یا نہ کریں۔
⁉️ آخر میں ہمارا بھی ان سے سوال:
1️⃣ ان لوگوں کی منتطق کے مطابق کیا وہ نبیﷺ جو لوگوں کے خوف سے کعبہ کو اس کی اصل حالت پر واپس نہ لا سکے تو کیا انکی نبوت پر کوئی حرف آئے گا ؟
2️⃣ کیا وہ خلیفہ جو عمر کی بدعتِ تراویح کو ختم نہ کر سکا، کیا وہ خلافت کے قابل تھا؟ (جو خود بزبان عمر بدعت ثابت ہے)
🔥 پس، اگر ان دونوں سوالوں کا جواب نہیں دیا جاتا، تو نبیﷺ کی نبوت اور انکے خلیفہ کی خلافت – اور اس کے نتیجے میں انکا سقیفہ پر مبنی باطل مذہب – سب باطل ہو جاتا ہے!
✅ نتیجہ: مذکورہ نکات سے واضح ہو گیا کہ جب معاشرہ اپنی راہ سے ہٹ گیا، رسول اللہﷺ کے برحق خلیفہ کو نظرانداز کر دیا، اور وہ لوگ اقتدار میں آ گئے جو اس کے اہل نہ تھے، تو دینِ اسلام پر کیسی مصیبتیں آئیں۔ مولا علیؑ نے محسوس کیا کہ اگر وہ سابق خلفاء کی بدعتوں کو ختم کرنے کی کوشش کریں گے تو اس وقت کا معاشرہ اس کا تحمل نہیں کر سکے گا۔
📑 بدر علی
#بدر_علی #تعلیمات_اہلبیتؑ #talimaat_e_ahlbait #اللھم_صلی_علی_محمد_و_آل_محمد #التماس_دعا
Gallery
Tap any image to view full screen