Back to نمازِ تراویح

کیا تراویح مسجد میں پڑھنا افضل ہے یا گھر میں؟

کیا تراویح مسجد میں پڑھنا افضل ہے یا گھر میں؟
کیا تراویح مسجد میں پڑھنا افضل ہے یا گھر میں؟
کیا تراویح مسجد میں پڑھنا افضل ہے یا گھر میں؟

🔴 کیا تراویح مسجد میں پڑھنا افضل ہے یا گھر میں؟ 🔴

 

مفسرین عمریہ اس حدیث کی تشریح میں لکھتے ہیں:

 

1️⃣ "فصلوا أيها الناس في بيوتكم" (اے لوگو! اپنے گھروں میں نماز پڑھو)

 

📜 یعنی نوافل، جن میں جماعت مشروع نہیں، اور وہ نمازیں جو مسجد کے ساتھ مخصوص نہیں، ان کو گھروں میں پڑھنا افضل ہے۔

 

2️⃣ "فإن أفضل صلاة المرء" (بندے کے لیے سب سے افضل نماز وہ ہے جو وہ اپنے گھر میں پڑھے)

 

📜 یہ حکم تمام نفل اور سنت نمازوں کے لیے عام ہے، سوائے ان نمازوں کے جو اسلام کی شعائر میں شامل ہیں، جیسے:

 

نماز عید

نماز کسوف (گرہن کی نماز)

نماز استسقاء (بارش کی نماز)

 

📚 مرعاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح ؛ مصنف: عبید اللہ رحمانی مبارکپوری ؛ جلد: 4، صفحہ: 313

 

مزید لکھتے ہیں:

 

📜 "قلت: والحديث يدل على أن صلاة التراويح في البيت أفضل"

📃 (میں کہتا ہوں: یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ تراویح کی نماز گھر میں پڑھنا افضل ہے)

 

📜 "فإذا كان صلاة رمضان في البيت أفضل منها في مسجده - صلى الله عليه وسلم"

📃 (جب رمضان کی نماز، نبی ﷺ کی مسجد میں پڑھنے سے زیادہ افضل گھر میں ہے، تو دیگر مساجد میں پڑھنے کا کیا حکم ہوگا؟)

 

📜 "وقد ذهب كثير من العلماء إلى أن صلاة رمضان أي التراويح في المسجد أفضل، وهذا يخالف هذا الحديث"

📃 (بہت سے علماء نے کہا کہ رمضان کی نماز یعنی تراویح مسجد میں افضل ہے، لیکن یہ حدیث کے خلاف ہے)

 

📚 مرعاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح؛ مصنف: عبید اللہ رحمانی مبارکپوری؛ جلد: 4، صفحہ: 314

 

نتیجہ:

 

یہ حدیث واضح طور پر ثابت کرتی ہے کہ تراویح کی نماز مسجد میں پڑھنے کے بجائے گھر میں پڑھنا افضل ہے۔

 

بعض علماء کا یہ کہنا کہ تراویح مسجد میں افضل ہے، حدیث کے خلاف ہے۔

 

۔

 

اہل سنت محدث لکھتے ہیں کہ 

 

📜 اگر تم کہو کہ یہ اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ تراویح انفرادی طور پر پڑھی جانی چاہیے، نہ کہ جماعت کے ساتھ، تو میں کہوں گا کہ امام مالک کا یہی قول ہے، لیکن تین اماموں (ابو حنیفہ، شافعی، احمد بن حنبل) کا کہنا ہے کہ جماعت کے ساتھ پڑھنا افضل ہے کیونکہ یہ 👈🏼 عمر بن خطاب کا فعل ہے۔

 

📚 "النور الساری من فیض صحیح الامام البخاری" ج 2 ص 539

 

🖌 تجزیہ:

 

📜✏️ اہل سنت کے دو مفسرین کے کلام سے جو نتیجہ نکالا گیا ہے:

 

 اولاً، شرعاً نافلہ نماز مسجد میں نہیں پڑھنی چاہیے۔

 

 ثانیاً، رسول اللہ کے عمومی حکم کے مطابق تمام نفل نمازیں، بشمول تراویح، گھر میں پڑھنی چاہئیں۔

 

 ثالثاً، مسجد میں تراویح پڑھنا رسول اللہ کی ہدایت اور سنت سے متصادم ہے۔

 

 رابعاً، تراویح انفرادی طور پر پڑھی جانی چاہیے، نہ کہ جماعت کے ساتھ۔

 

 خامساً، جماعت کے ساتھ پڑھنا عمر بن خطاب کی سنت ہے، نہ کہ پیغمبر کی۔

 

📖 نتیجہ:

 

📝 لہٰذا، یہ واضح ہو گیا کہ مسجد میں اور جماعت کے ساتھ تراویح پڑھنا رسول اللہ کی سنت نہیں ہے بلکہ یہ عمر کی سنت اور عمل ہے، اور جیسے کہ خود عمر نے کہا تھا، یہ عمل بدعت ہے۔

 

❓⁉️ عمری جماعت، کیا تم نہیں کہتے کہ تم رسول اللہ کی سنت پر عمل پیرا ہو؟ تو پھر کیوں عمر کی سنت پر عمل کر رہے ہو اور رسول اللہ کی سنت کے خلاف جا رہے ہو؟

 

📑 بدر علی 

 

#بدر_علی #التماس_دعا #talimaat_e_ahlbait #اللھم_صلی_علی_محمد_و_آل_محمد #تعلیمات_اہلبیتؑ

Gallery

Tap any image to view full screen

Gallery Image 1
Gallery Image 2
Gallery Image 3