Back to نمازِ تراویح

حضرت امیر المومنین علی بن ابی طالب علیہ السلام نے نماز تراویح پڑھنے والوں کو انکے حال پر کیوں چھوڑ دیا ؟

حضرت امیر المومنین علی بن ابی طالب علیہ السلام نے نماز تراویح پڑھنے والوں کو انکے حال پر کیوں چھوڑ دیا ؟
حضرت امیر المومنین علی بن ابی طالب علیہ السلام نے نماز تراویح پڑھنے والوں کو انکے حال پر کیوں چھوڑ دیا ؟
حضرت امیر المومنین علی بن ابی طالب علیہ السلام نے نماز تراویح پڑھنے والوں کو انکے حال پر کیوں چھوڑ دیا ؟

حضرت امیر المومنین علی بن ابی طالب علیہ السلام نے نماز تراویح پڑھنے والوں کو انکے حال پر کیوں چھوڑ دیا ؟

 

امیر المومنین حضرت علی بن ابی طالب ع نے پہلے لوگوں کو تراویح سے منع فرمایا لیکن لوگ نہیں مانے تو انکو انکے حال پر چھوڑ دیا ۔

 

قرآن میں اللہ سبحانہ و تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے :

 

{ خُذِ ٱلۡعَفۡوَ وَأۡمُرۡ بِٱلۡعُرۡفِ وَأَعۡرِضۡ عَنِ ٱلۡجَـٰهِلِینَ }

 

آپ درگزر کو اختیار کریں نیک کام کی تعلیم دیں اور جاہلوں سے ایک کناره ہو جائیں۔

 

[Surah Al-Aʿrāf: 199]

 

📚 وسائل شیعہ

 

۔

 

📜 وقد روى : أن عمر خرج في شهر رمضان ليلا فرأى المصابيح في المسجد ، فقال : ما هذا ؟ فقيل له: إن الناس قد اجتمعوا لصلاة التطوع ، فقال : بدعة فنعمت البدعة ! فاعترف كما ترى بأنها بدعة، وقد شهد الرسول صلى الله عليه وآله أن كل بدعة ضلالة .

 

📃 روایت میں آیا ہے:

عمر ایک رات رمضان میں نکلا اور مسجد میں چراغ جلتے دیکھے۔ اس نے پوچھا: "یہ کیا ہے؟"

اسے بتایا گیا کہ لوگ نفل نماز کے لیے جمع ہو رہے ہیں۔

عمر نے کہا: "یہ بدعت ہے، لیکن اچھی بدعت ہے!"

پس، جیسا کہ واضح ہے، اس نے خود اعتراف کیا کہ یہ بدعت ہے، حالانکہ رسول اللہ (ص) فرما چکے ہیں کہ "ہر بدعت گمراہی ہے۔"

 

📜 وقد روى أن أمير المؤمنين عليه السلام لما اجتمعوا إليه بالكوفة فسألوه أن ينصب لهم إماما يصلى بهم نافلة شهر رمضان ، زجرهم وعرفهم أن ذلك خلاف السنة فتركوه واجتمعوا لأنفسهم وقدموا بعضهم فبعث إليهم ابنه الحسن عليه السلام فدخل عليهم المسجد ومعه الدرة فلما رأوه تبادروا الأبواب وصاحوا وا عمراه !

 

📃 اور روایت میں آیا ہے:

امیرالمؤمنین (ع) کے پاس لوگ جمع ہوئے اور ان سے درخواست کی کہ وہ ان کے لیے ایک امام مقرر کریں جو ماہ رمضان میں نفل نماز پڑھائے۔

حضرت علی (ع) نے انہیں اس سے روکا اور بتایا کہ یہ کام سنتِ رسول (ص) کے خلاف ہے۔

لیکن وہ حضرت کو چھوڑ کر خود اکٹھے ہوگئے اور کسی کو آگے بڑھا دیا تاکہ وہ ان کی امامت کرے۔

تو حضرت نے امام حسن مجتبیٰ (ع) کو ان کے پاس بھیجا۔

امام حسن (ع) مسجد میں داخل ہوئے اور ان کے ہاتھ میں ایک کوڑا تھا۔

جب لوگوں نے انہیں دیکھا تو دروازوں کی طرف دوڑے اور چیختے ہوئے کہنے لگے: "ہائے ہائے! عمر کی سنت ختم ہوگئی!"

 

📚شرح نهج البلاغة ابن أبي الحديد از علماي اهل سنت، ج 12، ص 283

 

کچھ جانکاری مولف کے بارے میں 👇🏼 

 

کتاب شرح نہج البلاغہ جس کا مولف ابی الحدید ہے ، جو کہ معتزلی فرقہ سے تعلق رکھتا تھا جو اہل سنت فرقہ کی شاخ ہے۔

 

👈🏼 وقال العلامة الهمذانيُّ –رحمه الله تعالىٰ– :

 

📜 “فاعلم أن المتقدمين من المعتزلة : ذهبوا إلى أن أفضل الناس بعد النبي ﷺ : أبو بكر ثمَّ عمر ثمَّ عثمان ثمَّ علي عليه السلام“

 

📃 "متقدمین معتزلہ اس کے معتقد تھے کہ افضل الناس بعد النبی ابوبکر ہیں ، پھر عمر ، پھر عثمان پھر علی علیہ السلام”

 

📚 شرح الأصول الخمسة، ص٧٦٦ .

 

👈🏼 علامہ شمش الدین الذھبی اپنی کتاب میں لکھتے ہیں کہ

 

📜 محمد بن محمد ابی الحدید القاضی ابو الحسین الفقیہ الشافع

 

📃 ابن ابی الحدید فقہ الشافعی کا امام تھا

 

📚 تاریخ اسلام ص ١٧٦

 

👈🏼 اہلسنت عالم "علامہ صفدی” کے بقول یہ معتزلی تھا

 

📚 الوافی بالوافیات، جلد ۱۲، صفحہ ۴۶، طبع دار الاحیاء التراث العربی، بیروت

 

👈🏼 اسی طرح اہلسنت عالم "الزر کلی” کے بقول بھی معتزلی تھا۔

 

📚الاعلام، جلد 3، صفحہ 289، طبع دار العلم الملامین

 

👈🏼👈🏼 معتزلی شیعہ نہیں بلکہ سنی العقیدہ مذھب پر ہوتے ہیں

جیسا کہ ابن تیمیہ لکھتے ہیں

 

📜 معتزلہ خلافت ابوبکر عمر عثمان پر طعن نہیں کرتے بلکہ وہ اس پر متفق ہیں ان کی خلافت ثابت شدہ ہے

 

📚 منھاج السنة النبویة ص ٧٠

 

📑 بدر علی

 

#بدر_علی #التماس_دعا #تعلیمات_اہلبیتؑ #اللھم_صلی_علی_محمد_و_آل_محمد #talimaat_e_ahlbait

Gallery

Tap any image to view full screen

Gallery Image 1
Gallery Image 2
Gallery Image 3