رسول خدا ص نے کبھی بھی نماز تراویح نہیں پڑھی، حتیٰ کہ انکی حیات مبارک میں ان کے اصحاب نے بھی نماز تراویح نہیں پڑھی
🔴 رسول خدا ص نے کبھی بھی نماز تراویح نہیں پڑھی، حتیٰ کہ انکی حیات مبارک میں ان کے اصحاب نے بھی نماز تراویح نہیں پڑھی۔ 🔴
قاضی ابوالحسن علی بن الحسین بن محمد السغدی (متوفی 461 ہجری)، جو کہ حنفی مسلک کے علما میں سے ہیں اور شمس الأئمہ سرخسی کے اساتذہ میں شمار ہوتے ہیں، نماز تراویح کے بارے میں کہتے ہیں:
📜 والسادس صلاة التراويح وانها عشرون ركعة في كل ليلة من شهر رمضان في كل ركعتين يسلم وكان رسول الله صلی الله علیه وسلم يصليها في حياته وحده وكذلك اصحابه حتى كان زمان عمر فجعل للناس امامين في شهر رمضان
📃 نماز تراویح: یہ نماز ہر رات بیس رکعات پر مشتمل ہے، جس میں ہر دو رکعات کے بعد سلام پھیرتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنی حیاتِ مبارکہ میں اسے تنہا (فرادا) پڑھتے تھے، اور اسی طرح ان کے اصحاب بھی (فرادا) پڑھتے رہے، یہاں تک کہ عمر کے زمانے میں، انہوں نے رمضان میں اس نماز کے لیے دو امام مقرر کر دیے۔
📚 نام کتاب : النتف في الفتاوى نویسنده : علي بن الحسين بن محمد السغدي أبو الحسن جلد : 1 صفحه : 106
🔴 نماز تراویح کی اصلاح قرآن و حدیث سے ثابت نہیں
حنفی عالم دین حافظ عبدالحق بشیر نقشبندی
اپنی کتاب میں لکھتے ہیں کہ :
📜 اھل سنت اور غیر ملقدین "اہل حدیث " دونوں
اس حقیقت پر متفق ہیں کہ قیام رمضان کے لئے
تراویح کی اصلاح قرآن و حدیث سے ثابت نہیں
بلکہ خالص اجتہادی اصطلاح ہے جو قیام رمضان
کی مستقل عبادت کے لئے وضع کی گئی اور
اکابر سے منقول ہے :
📚 حوالہ نماز تراویح اور مذاھب اہل حدیث
حافظ عبدالحق بشیر نقشبندی ص 123
نوٹ: اھلبیت عترت نبی علیہ السلام سے دوری
کا یہی نتجیہ ہے:)
بدر علی
#بدر_علی #التماس_دعا #تعلیمات_اہلبیتؑ #talimaat_e_ahlbait #اللھم_صلی_علی_محمد_و_آل_محمد
Gallery
Tap any image to view full screen