Back to نمازِ تراویح

نمازِ تراویح سنتِ رسول ص نہیں، بلکہ سنتِ صحابہ ہے!

نمازِ تراویح سنتِ رسول ص نہیں، بلکہ سنتِ صحابہ ہے!
نمازِ تراویح سنتِ رسول ص نہیں، بلکہ سنتِ صحابہ ہے!

🔴 اہل سنت کے علماء کا اعتراف:

 

✅ نمازِ تراویح سنتِ رسول ﷺ نہیں، بلکہ سنتِ صحابہ ہے!

 

امام کسائی حنفی (م 587ھ) لکھتے ہیں:

 

📜 "تراویح سنت ہے، مگر یہ سنتِ رسول ﷺ نہیں ہے۔ کیونکہ نبی اکرم ﷺ نے اسے ہمیشہ نہیں پڑھا، بلکہ صرف چند راتوں میں پڑھا اور پھر چھوڑ دیا۔ لیکن صحابہ نے اسے جاری رکھا، اس لیے یہ سنتِ صحابہ بنی!"

 

📚 بدائع الصنائع، ج 1، ص 288

online link

https://shamela.ws/book/8183/287

 

 سوال:

 

❓ کیا دین اسلام میں سنت بنانے کا اختیار صحابہ کو تھا؟

❓ کیا نبی اکرم ﷺ کے عمل کو چھوڑ کر صحابہ کی بدعت کو اپنانا جائز ہے؟

 

💡 نتیجہ:

✅ یہ خود اہل سنت کے علماء کا اعتراف ہے کہ تراویح سنتِ رسول ﷺ نہیں بلکہ سنتِ صحابی ہے!

✅ لہٰذا، جو تراویح کو "سنتِ مؤکدہ" یا "سنتِ رسول ﷺ" کہتا ہے، وہ خود اپنے علماء کے بیانات کی مخالفت کر رہا ہے۔

 

🔴 پس، جو لوگ سنتِ رسول ﷺ کے بجائے سنتِ صحابی پر عمل کرتے ہیں، وہ قیامت کے دن اس کا جواب دیں گے!

 

 

۔

 

 

✅ سنی عالم کاسانی حنفی کا یہ اعتراف کہ نمازِ تراویح صحابہ کی سنت ہے، نبی ﷺ کی سنت نہیں! 🤷🏻‍♂️👇

 

🗣️ علامہ علاء الدین ابوبکر کاسانی حنفی کہتے ہیں:

 

👈 اور جہاں تک صحابہ کی سنتوں کا تعلق ہے، تو ان میں رمضان کی راتوں میں نمازِ تراویح پڑھنا بھی شامل ہے۔

 

📚 بدائع الصنائع فی ترتیب الشرائع

 

نمازِ تراویح کے بارے میں گفتگو کئی پہلوؤں سے ہے: اس کے وقت کی وضاحت، اس کے طریقۂ ادائیگی کی وضاحت، اس کی مقدار کی وضاحت، اس کے سنن و مستحبات کی وضاحت، اور یہ بیان کہ اگر یہ نماز اپنے وقت سے رہ جائے تو اس کی قضا کی جائے گی یا نہیں۔

 

جہاں تک اس نماز کی شرعی حیثیت کا تعلق ہے، تو یہ سنت ہے۔ چنانچہ امام حسن نے امام ابوحنیفہ سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے فرمایا:

 

رمضان کے مہینے میں قیام کرنا سنت ہے، اسے ترک نہیں کرنا چاہیے۔

 

👈 اسی طرح امام محمد سے روایت کیا گیا ہے کہ انہوں نے فرمایا:

 

نمازِ تراویح سنت ہے، البتہ یہ رسول اللہ ﷺ کی سنت نہیں ہے۔ ✅

 

اس کی وجہ یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی سنت وہ عمل ہے جس پر آپ ﷺ ہمیشگی فرماتے رہے ہوں اور اسے صرف ایک یا دو مرتبہ کسی خاص وجہ سے ترک کیا ہو۔

 

جبکہ رسول اللہ ﷺ نے نمازِ تراویح پر ہمیشگی نہیں فرمائی، بلکہ بعض راتوں میں اسے ادا کیا۔

 

روایت کیا گیا ہے کہ:

 

آپ ﷺ نے دو راتوں تک جماعت کے ساتھ یہ نماز ادا کی، پھر اسے ترک کر دیا اور فرمایا:

 

”مجھے اندیشہ ہے کہ کہیں یہ نماز تم پر فرض نہ کر دی جائے۔“

 

لیکن صحابہ کرام اس نماز پر ہمیشگی کرتے رہے۔

 

👈 پس یہ صحابہ کی سنت قرار پائی۔ 🤷🏻‍♂️

 

📚 حوالہ:

 

بدائع الصنائع فی ترتیب الشرائع

 

مصنف: علاء الدین ابوبکر بن مسعود بن احمد الکاسانی الحنفی (متوفیٰ 587ھ)

 

جلد: 1، صفحہ: 288

 

ناشر: دار الکتب العلمیہ

 

ایڈیشن: دوسرا، 1406ھ بمطابق 1986ء۔

 

📑 بدر علی

 

#بدر_علی #تعلیمات_اہلبیتؑ #talimaat_e_ahlbait #اللھم_صلی_علی_محمد_و_آل_محمد #التماس_دعا

Gallery

Tap any image to view full screen

Gallery Image 1
Gallery Image 2