🔴 بیچارے خود آج تک فیصلہ نہیں کر پائے 🔴
اہل سنت میں ایک بدعت جس پر وہ عمل کرتے ہیں، وہ باجماعت نمازِ تراویح ہے۔ وہ خود ہی اس بارے میں الجھن کا شکار ہیں اور نہیں جانتے کہ کتنی رکعتیں پڑھنی چاہئیں۔ جب کوئی طریقہ سنت پر نہ ہو اور شیخین کی بدعت کی پیروی کی جا رہی ہو، تو اختلاف اور گمراہی آتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے ہاں تنازعات پیدا ہوتے ہیں۔
اس دوران البانی، جو ان کے بڑے علماء میں سے ہے، پر الزام ہے کہ وہ غلط اور بے بنیاد باتیں کرتا تھا۔
📜 یہ ایک تحریر ہے جس میں میں نے شیخ ناصر الدین البانی کے اس دعوے کا رد کیا کہ تراویح نفل نمازوں میں شامل نہیں اور گیارہ رکعت سے زیادہ پڑھنا ایسے ہے جیسے ظہر میں پانچویں رکعت کا اضافہ کر دیا جائے۔
📚 تصحیح حدیث صلاة التراویح عشرین رکعة و الرد علی الالبانی فی تضعیفه، صفحہ 5
مصنف: اسماعیل بن محمد الانصاری
یاد رہے اسی البانی کے بارے خود ہی لکھتے ہیں
شیخ عبدالعزیز بن باز نے کہا:
"میں نے آسمان کے نیچے محمد ناصر الدین البانی جیسا حدیث کا عالم عصرِ حاضر میں نہیں دیکھا۔"
شیخ مقبل بن ہادی الوادعی نے کہا:
"ہم اب بھی شیخ کی کتابوں کی وجہ سے علم میں اضافہ کر رہے ہیں۔"
اور انہوں نے یہ بھی کہا:
"شیخ ناصر الدین اور ان کے علم پر صرف وہی شخص تنقید کرتا ہے جو بدعتی اور خواہشات کا پیروکار ہو، کیونکہ یہی لوگ اہلِ سنت سے بغض رکھتے ہیں اور ان سے لوگوں کو دور کرتے ہیں۔"
اسکے علاوہ
آج تک فیصلہ نہیں ہو پایا کہ تراویح آخر کتنی رکعت ہے؟ 20 رکعت، 36 رکعت، 41 رکعت، 39 رکعت، 11 رکعت، بے حد، 1000 رکعت؟
سعودی عالم ڈاکٹر حسن لکھتے ہیں
📜 عزیزم! جب بھی تم سرحال ہو، جتنا چاہے پڑھو، جتنی زیادہ اتنا بہتر!
اگر طبیعت ٹھیک نہ ہو تو مختصر پڑھ لو، یا بالکل نہ پڑھو، نہ 20 رکعت، نہ 30 رکعت!
📚 کتاب کا نام: نامہای به امام تراویح (احکام، تذکرات و لطایف)، صفحہ 15، 17
مصنف: حسن بن عبدالحمید بخاری
امام سیوطی اپنی کتاب "المصابیح فی صلاة التراویح" میں لکھتے ہیں:
📜 ترجمہ:
"مجھ سے بار بار پوچھا گیا کہ کیا نبی اکرم ﷺ نے تراویح پڑھی؟ اور کیا یہ وہی 20 رکعتی نماز ہے جو آج کل رائج ہے؟
میں جواب دیتا ہوں: نہیں! اور مجھے اس بارے میں کوئی روایت قائل نہیں کر سکی۔
رسول اللہ ﷺ سے جو ثابت ہے، وہ صرف رمضان میں قیامِ لیل (رات کا قیام) ہے، وہ بھی بغیر کسی مخصوص تعداد کے۔
نبی اکرم ﷺ سے 20 رکعات پڑھنا ثابت نہیں، بلکہ آپ ﷺ نے چند راتوں میں قیام کیا، لیکن چوتھی رات اس خوف سے چھوڑ دیا کہ کہیں یہ نماز امت پر فرض نہ ہو جائے۔
کچھ لوگ ایک حدیث سے تراویح کو ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں، مگر وہ حدیث قابلِ استدلال نہیں، اور میں اس کے ضعف کو ثابت کروں گا۔"
📖 المصابیح فی صلاة التراویح، ص 14-15
ابن باز، وہابی علما میں سے، نماز تراویح کے بارے میں کہتے ہیں:
📜 نماز تراویح کا کوئی خاص حد مقرر نہیں ہے، اگر کوئی بیس رکعت پڑھے تو کوئی حرج نہیں، اور اگر کوئی تیس رکعت پڑھے تو کوئی بات نہیں، اور اگر کوئی چالیس رکعت پڑھے تو بھی کوئی مسئلہ نہیں، اور اگر کوئی گیارہ رکعت پڑھے تو کوئی بات نہیں، اور اگر کوئی تیرہ رکعت پڑھے تو بھی کوئی حرج نہیں، اور اگر کوئی اس سے زیادہ یا کم پڑھے تو بھی کوئی بات نہیں، اس نماز کا معاملہ وسیع ہے اور اس پر کوئی مخصوص تعداد نہیں ہے۔
📚 فتویٰ ساتھ منسلک ہے online 👇🏼
https://binbaz.org.sa/fatwas/13860/%D8%AD%D9%83%D9%85-%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%A9-%D8%A7%D9%84%D8%AA%D8%B1%D8%A7%D9%88%D9%8A%D8%AD-%D8%B9%D8%B4%D8%B1%D9%8A%D9%86-%D8%B1%D9%83%D8%B9%D8%A9
او پہلے خود تے فیصلہ کر لو کہ کنی رکعت پڑھنی اے ، سانوں فیر دس لینا 😆
بدر علی
#بدر_علی #تعلیمات_اہلبیت #talimaat_e_ahlbait
Gallery
Tap any image to view full screen