🔴 شیعہ کتب میں نماز تراویح؟ 🔴
نمبر 1 پر جناب نے شرح نہج البلاغہ کا کا حوالہ دیا ہے جس کا مولف ابن ابی الحدید عمری مذھب کا تھا ، ابوبکر و عمر و عثمان کی خلافت کو نہ صرف شرعی کہتا تھا بلکہ شیعہ مخالف عقائد درج ہیں اسکی کتب میں۔
اور مزے کی بات یہ ہے کہ اسی کتاب میں لکھا ہے مولا علی ع نے اپنی ظاہری خلافت کے وقت اس بدعت سے اہل کوفہ کو منع کیا تھا جس پر عمریوں نے ہائے عمر ہائے عمر کی صدا بلند کرکے احتجاج کیا
ڈیٹیل سے اسی پیج پر 3 اقساط پر پوسٹ کر چکا اس پر۔
نمبر 2 پر جناب فروع کافی کا حوالہ دے کر ثابت کرنا چاہا کہ رسول ص نماز تراویح پڑھاتے تھے ۔
جبکہ روایت یہ ہے
📜 علي بن إبراهيم، عن محمد بن عيسى بن عبيد، عن يونس، عن أبي العباس البقباق; وعبيد بن زرارة، عن أبي عبد الله (عليه السلام) قال كان رسول الله (صلى الله عليه وآله) يزيد في صلاته في شهر رمضان إذا صلى العتمة صلى بعدها فيقوم الناس خلفه فيدخل ويدعهم ثم يخرج أيضا فيجيئون ويقومون خلفه فيدعهم ويدخل مرارا، قال: وقال: لا تصل بعد العتمة في غير شهر رمضان
علی بن ابراہیم نے محمد بن عیسیٰ بن عبید کے واسطے سے، یونس سے، ابو العباس البقباق اور عبید بن زرارہ نے امام ابو عبد اللہ (علیہ السلام) سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ (صلى الله عليه وآله) ماہِ رمضان میں اپنی نماز میں اضافہ فرماتے تھے، جب عشاء کی نماز پڑھ لیتے تو اس کے بعد مزید نماز پڑھتے، پس لوگ ان کے پیچھے کھڑے ہو جاتے، تب آپ اندر چلے جاتے اور انہیں چھوڑ دیتے، پھر دوبارہ باہر آتے تو وہ پھر آ کر آپ کے پیچھے کھڑے ہو جاتے، پس آپ انہیں چھوڑ کر دوبارہ اندر چلے جاتے، اور یہ کئی بار ایسا ہوا۔ امام (علیہ السلام) نے فرمایا: عشاء کی نماز کے بعد (اضافی) نماز نہ پڑھو، سوائے ماہِ رمضان میں۔
📚 اسکین کمنٹ میں دیکھیں
یعنی جب لوگ پیچھے کھڑے ہو جاتے تھے تو انھیں چھوڑ کر چلے جاتے تھے اپنے حجرے میں، پھر فرمایا ماہ رمضان میں اضافی نوافل پڑھوں مگر جماعت کے ساتھ نہیں (یہی بات بخاری مسلم میں آئی ہے)
پھر جناب نے جو 20 رکعت تراویح لکھا ہے
اس میں بھی جھوٹ کے سوا کچھ نہیں ، ہمارے ہاں یہ نماز باجماعت تراویح نہیں بلکہ نوافل ہیں ، جو پہلے اور دوسرے عشرے میں 20،20 اور تیسرے عشرے میں 30 رکعت پڑھے جاتے ہیں ۔
👈🏼 یہ باجماعت نہیں پڑھے جاتے
نمبر 3 پر بھی باجماعت تراویح پڑھانے کا ذکر نہیں۔
لاکھ دی لانت ایک بار پھر
ہمارا موقف یہ ہے کہ ماہ رمضان میں آئمہ نوافل پڑھتے تھے اور پڑھنے کا حکم بھی دیتے تھے (1000 رکعت پورے رمضان میں پڑھنا ہوتے)
👈🏼 ہم ان نوافل کو پڑھنا بدعت نہیں کہتے بلکہ انہیں باجماعت پڑھنے کو بدعت کہتے ہیں👉🏼
Gallery
Tap any image to view full screen