نبی اکرم ﷺ کی حدیث:
📜 "رمضان میں نوافل کو جماعت سے پڑھنا بدعت ہے۔"
📚 من لا يحضره الفقيه، ج 2، ص 137؛ تهذيب الأحكام، ج 3، ص 70
حضرت علیؑ کا مؤقف: بدعت پر سخت ردّ عمل
حضرت علیؑ فرماتے ہیں:
📜 "خدا کی قسم! میں نے لوگوں کو حکم دیا کہ وہ رمضان میں صرف فرض نمازیں جماعت سے پڑھیں اور انہیں آگاہ کیا کہ نوافل کو جماعت سے پڑھنا بدعت ہے۔
لیکن میرے لشکر میں سے کچھ لوگ چیخنے لگے کہ اے مسلمانو! عمر کی سنت بدل دی گئی، ہمیں رمضان میں نفل پڑھنے سے روکا جا رہا ہے!"
📖 الکافی، ج 8، ص 58، حدیث 21، ناشر: اسلامیہ، تہران، طبع دوم، 1362 ھ ش
علامہ مجلسی اور شیخ طوسی کی تصریحات نمازِ تراویح کے بدعت ہونے پر
✅ علامہ مجلسی اپنی کتاب "مرآة العقول" میں اس حدیث کے بارے میں تصریح کرتے ہیں:
"یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ ماہِ رمضان کی نفل نمازوں کو جماعت کے ساتھ پڑھنا جائز نہیں، اور اس مسئلے میں ہمارے اصحاب کے درمیان کوئی اختلاف نہیں ہے۔ مزید یہ کہ اہلِ سنت (جماعت عمریہ) نے خود اقرار کیا ہے کہ یہ نمازِ جماعت (تراویح) عمر بن خطاب کی بدعتوں میں سے ہے۔"
📚 مرآة العقول، علامہ مجلسی، ج 16، ص 378
✅ شیخ طوسی، نمازِ تراویح کے حوالے سے روایات نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں:
"ان احادیث کا مفہوم یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ نے کبھی بھی رمضان میں نفل نماز کو جماعت کے ساتھ نہیں پڑھا، اور اگر جماعت کے ساتھ پڑھنے میں کوئی خیر (بھلائی) ہوتی، تو رسول اللہ (ص) اسے ترک نہ کرتے۔ البتہ، ایسا بھی نہیں ہے کہ اسے فرادیٰ پڑھنا ناجائز ہو، جیسا کہ بعض لوگوں کا خیال ہے۔"
📚 الاستبصار، شیخ طوسی، ج 1، ص 467
علامہ حلی
علامہ حلیؒ فرماتے ہیں:
📜 "ہمارے تمام علما کا اجماع ہے کہ یہ نماز (نوافلِ رمضان یا تراویح) جماعت سے پڑھنا جائز نہیں۔"
📖 (تذكرة الفقهاء، ج 2، ص 282)
📖 (منتهى المطلب، ج 6، ص 142)
شیخ حر العاملی
امام باقر علیہ السلام اور امام صادق علیہ السلام سے رمضان کی راتوں میں باجماعت نماز پڑھنے کی اجازت کے بارے میں پوچھا گیا۔ ان دونوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک روایت بیان کی ہے جس میں آپ نے فرمایا:
📜 ”بے شک رمضان کی راتوں میں جماعت کے ساتھ نفل پڑھنا بدعت ہے
اے لوگو! رمضان المبارک کی نفل نمازیں جماعت سے نہ پڑھیں۔ بلاشبہ ایک معمولی عبادت جو سنت کے مطابق ہو، اس بڑی عبادت سے افضل ہے جو بدعت ہے۔"
📚 الحر العملی، وصائل الشیعہ، جلد 8، صفحہ 45، حدیث 1[10062]
✅ نماز تراویح کو باجماعت پڑھنے کے بدعت ہونے پر روایات کا تواتر
🔹 شیعہ امامیہ، رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور اہل بیت علیہم السلام کی پیروی کرتے ہوئے، اور قرآن کی اس آیت "مَّا نَزَّلَ اللّهُ بِهَا مِن سُلْطَانٍ" (اللہ نے اس کے لیے کوئی دلیل نازل نہیں کی) کی بنیاد پر، رمضان کی نوافل کو بغیر جماعت ادا کرتے ہیں اور اسے باجماعت پڑھنا ایک بدعت اور غیر شرعی عمل سمجھتے ہیں، جو نبی اکرمؐ کے بعد ایجاد کیا گیا۔
شیخ محمد حسن نجفی اپنی کتاب جواہر الکلام میں لکھتے ہیں:
🔸 شیعہ نظریے کی ایک دلیل یہ بھی ہے کہ رمضان میں نفل نماز کو باجماعت ادا کرنے کے بدعت ہونے پر روایات کے تواتر کا دعویٰ کیا جا سکتا ہے۔
📚 جواهر الکلام، شیخ محمد حسن نجفی، جلد 13، صفحہ 229
👍✔️ صحیح سند کے ساتھ شیعہ روایات میں آیا ہے کہ تراویح بدعت ہے اور سنت نہیں۔
🔴 الحسین بن سعید نے حماد بن عیسیٰ سے، انہوں نے حریز سے، انہوں نے زرارہ، ابن مسلم، اور فضیل سے نقل کیا کہ ہم نے امام باقر اور امام صادق علیہم السلام سے رمضان میں رات کے وقت نفل نماز کو جماعت کے ساتھ پڑھنے کے بارے میں سوال کیا۔
امام باقر اور امام صادق علیہم السلام نے فرمایا:
"جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عشاء کی نماز پڑھ کر اپنے گھر واپس جاتے، پھر آخری رات میں مسجد آ کر نماز پڑھتے۔ رمضان کے پہلے دن آپ اپنے گھر سے باہر آئے تاکہ جیسا آپ پہلے پڑھتے تھے ویسا ہی نماز پڑھیں، لیکن لوگوں نے آپ کے پیچھے صف بندی کی تاکہ آپ کے ساتھ نماز پڑھیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جب یہ منظر دیکھا، تو آپ ان لوگوں سے بچتے ہوئے اپنے گھر واپس لوٹ گئے۔ یہ واقعہ تین راتوں تک جاری رہا۔ چوتھی رات، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم منبر پر چڑھے، اللہ کی حمد و ثنا کی، پھر فرمایا:
"اے لوگو! رمضان کے مہینے میں رات کے وقت نفل نماز کو جماعت کے ساتھ پڑھنا بدعت ہے، اور نمازِ ضحی بھی بدعت ہے۔ رمضان کی راتوں میں نفل نماز کے لیے جماعت نہ بناؤ اور نماز ضحی نہ پڑھو، کیونکہ یہ معصیت ہے۔ جان لو! ہر بدعت گمراہی ہے اور ہر گمراہی کا انجام آگ ہے۔"
پھر نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم منبر سے نیچے اترے اور فرماتے جا رہے تھے:
"وہ عمل کم جو سنت کے مطابق ہو، زیادہ عمل سے بہتر ہے جو بدعت ہو۔"
📚 تهذیب الأحکام، جلد 3، صفحہ 17
📚 من لایحضره الفقیه، جلد 2، صفحہ 137
📚 منتهی المطلب، جلد 4، صفحہ 30
حتمی نتیجہ:
1️⃣ رسول اللہ ﷺ نے تراویح کو جماعت سے نہیں پڑھا، بلکہ اسے بدعت کہا۔
2️⃣ حضرت علیؑ نے کھل کر اس بدعت کو ختم کرنے کی کوشش کی، لیکن "عمر کی سنت" کے نام پر مخالفت ہوئی۔
3️⃣ شیعہ فقہا متفق ہیں کہ تراویح کو جماعت سے پڑھنا بدعت ہے۔
✅ لہٰذا، ثابت ہوگیا کہ تراویح کا جماعت کے ساتھ پڑھنا سنتِ رسول ﷺ نہیں بلکہ بدعتِ عمر ہے!
#تعلیمات_اہلبیتؑ
#طالب_دعا
#بدر_علی
Gallery
Tap any image to view full screen