Back to نمازِ تراویح

مولا کائنات علی ابن ابی طالب (ع) نے نماز تراویح سے منع کیا

مولا کائنات علی ابن ابی طالب (ع) نے نماز تراویح سے منع کیا
مولا کائنات علی ابن ابی طالب (ع) نے نماز تراویح سے منع کیا
مولا کائنات علی ابن ابی طالب (ع) نے نماز تراویح سے منع کیا
مولا کائنات علی ابن ابی طالب (ع) نے نماز تراویح سے منع کیا
مولا کائنات علی ابن ابی طالب (ع) نے نماز تراویح سے منع کیا

*مولا کائنات علی ابن ابی طالب (ع) نے نماز تراویح سے منع کیا*

 

مولا کائنات حضرت علی( ع) فرماتے ہیں

 

📜 والله لقد أمرت الناس أن لا يجتمعوا في شهر رمضان إلا فيفريضة وأعلمتهم أن اجتماعهم في النوافل بدعة

 

📝 ترجمہ: مولا فرماتے ہیں: خدا کی قسم میں اس امت کے اوپر لازم کرتا کہ رمضان المبارک کے مھینے میں جماعت کے ساتھ کسی نماز کو انجام نہ دو سواء فریضہ کے ، اور جان لو یہ نوافل میں جماعت کروانا ایک بدعت ( بدعت عمر )

 ہے

 

نوٹ یہ خطبہ علامہ مجلسی رح کے نزدیک معتبر ہے 

 

نماز تراویح کے متعلق حضرت علی علیہ السلام کا موقف :

 

📜 الكليني، عن علي بن إبراهيم، عن أبيه، عن حماد بن عيسى، عن إبراهيم بن عثمان، عن سليم بن قيس الهلالي قال: خطب أمير المؤمنين (عليه السلام) فحمد الله وأثنى عليه ثم صلى عن النبي (صلى الله عليه وآله وسلم) ثم قال: ألا إن أخوف ما أخاف عليكم خلتان اتباع الهوى وطول الأمل - إلى أن قال - قد عملت الولاة قبلي أعمالا خالفوا فيها رسول الله (صلى الله عليه وآله وسلم) متعمدين لخلافه فاتقين لعهده مغيرين لسنته ولو حملت الناس على تركها لتفرق عني جندي حتى أبقى وحدي أو قليل من شيعتي - إلى أن قال - والله لقد أمرت الناس أن لا يجتمعوا في شهر رمضان إلا في فريضة وأعلمتهم ان اجتماعهم في النوافل بـ ـدعة فتنادى بعض أهل عسكري ممن يقاتل معي، يا أهل الإسلام غيرت سنة عمر، ينهانا عنالصلاة في شهر رمضان تطوعا ولقد خفت أن يثوروا في ناحية جانب عسكري، الحديث .

 

الرواية صحيحة الإسناد.

 

سلیم بن قیس الهلالی العامری ؒ روایت بیان کرتے ہیں کہ امیرالمومنین علي ابن ابيطالب ؑ نے خطبه دیا اور خدا کی حمد و ثناء کے بعد درود بر مصطفی (صلی الله علیه وآله وسلم) کے بعد فرمایا :

 

تمہارے بارے میں مجھے سب سے زیادہ دو چیزوں کے متعلق خوف ہے، ایک خواہشِ نفس کی پیروی اور دوسری لمبی امیدیں ………… اور پھر فرمایا: مجھ سے پہلے حکام نے کچھ کام کئے ہیں جن میں انہوں نے جان بوجھ کر سنت رسول الله (صلی الله علیه وآلہ وسلم) کی مخالفت کی اور آپ ؑ کی سنت کو تبدیل کیا، اب ( صورت حال یہ ہے کہ) اگر میں لوگوں کو اس (غلط) طریقہ کو ترک کرنے پر آمادہ کروں تو میرا لشکر بھی مجھ سے علیحدہ ہو جائے گا اور میں تنہا رہ جاؤں گا یا چند میرے مخلص شیعہ باقی رہ جائیں گے ………… بخدا میں نے لوگوں کو حکم دیا کہ وہ ماہِ رمضان میں سوائے نماز فریضہ کے ( اور کسی جماعت کیلئے) جمع نہ ہوں (یعنی نمازِ تراویح باجماعت نہ پڑهیں) اور میں نے بتایا کہ نوافل میں جماعت بـدعـ ـت ہے تو میرے بعض لشکریوں نے جو میرے ہمراہ ہو کر (دشمن سے) جنگ کر رہے ہیں اعلان کرایا ہے کہ اے اہلِ اسلام! عمر بن خطاب کی سنت تبدیل کی جا رہی ہے، یہ (علی ؑ) ہمیں ماہِ رمضان میں نمازِ نافلہ پڑهنے سے منع کرتے ہیں اور (یہ کیفیت دیکھ کر) مجھے اندیشہ ہوا کہ میرے لشکر کے اندر ایک فتنہ برپا نہ ہو جائے ………۔

 

🖋 سیف نجفی

 

۔

 

جب حضرت علی علیہ السلام کوفہ تشریف لائے تو اہلِ کوفہ نمازِ تراویح ادا کر رہے تھے۔ حضرت نے امام حسن علیہ السلام کو بھیجا کہ انہیں بتائیں کہ یہ نماز بدعت ہے۔ لیکن لوگ چیخنے لگے: "وا عمراہ! (ہائے عمر!) کیا تم اس شخص کو دیکھتے نہیں جو بندے کو نماز سے روکتا ہے؟"

 

پس حضرت نے فرمایا کہ انہیں پڑھنے دو۔

 

علامہ مجلسی رحمہ اللہ اس حدیث کی وضاحت میں فرماتے ہیں:

 

یہ پہلے سے معلوم تھا کہ ایسا ہی ردّعمل آئے گا۔ لہذا حدیث کا مطلب یہ ہے کہ میں نے کہا کہ یہ کیسی نماز ہے، یعنی یہ بدعت ہے، اور تم نے میری بات سے یہی سمجھا۔ کیا تم چاہتے ہو کہ میں اسے روکنے کا کہوں اور تم پھر شور مچاؤ، جیسے نمازِ تراویح کے معاملے میں کیا تھا؟

 

یہ بھی ممکن ہے کہ حضرت کا مقصد یہ ہو کہ نماز پڑھنا ہمیشہ اچھا عمل ہے، اور میں نماز سے منع نہیں کر رہا، بلکہ میرا مقصد یہ بتانا تھا کہ یہ سنت نہیں بلکہ نفل (تطوع) عبادت ہے۔

 

پہلا مفہوم زیادہ واضح ہے، جیسا کہ امام جعفر صادق علیہ السلام سے مروی ہے کہ:

 

"امیرالمؤمنین علیہ السلام کا انکار اس نماز سے روکنے کے لیے تھا۔"

 

📚 ماخذ:

کتاب: لوامع صاحبقرانی (مشہور بہ شرح فقیہ)

مصنف: علامہ مجلسی

جلد: 5

صفحہ: 417

Gallery

Tap any image to view full screen

Gallery Image 1
Gallery Image 2
Gallery Image 3
Gallery Image 4
Gallery Image 5