حضرت علی ع نے کوفہ پہنچ کر لوگوں کو نماز تراویح سے منع فرمایا
📜 علي بن الحسن بن فضال عن أحمد بن الحسن عن عمرو بن سعيد المدائني عن مصدق بن صدقة عن عمار عن أبي عبدالله قال: سألتـه عـن الصلاة في (شهر) رمضان في المساجد؟ قال: لما قدم أميرالمؤمنين لل الكوفة أمر الحسن بـن عـلـي أن يـنـادي فـي النـاس: لاصلاة في شهر رمضان في المساجد جماعة، فنادى في الناس الحسن بن علي بما أمره أميرالمؤمنين فلما سمع النـاس مـقالة الحسـن بـن عـلـي صـاحوا: واعـمراه واعمراه! فلما رجع الى أمير المؤمنين قال له: ما هذا الصوت؟ فقال: يا أمير المؤمنين يصيحون: واعمراه واعمراه، فـقال أمير المؤمنين قـل لـهـم: صلوا .
📝 امام جعفر ع سے رمضان کی راتوں میں مساجد میں نماز کے متعلق پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا امام علی ع جب کوفہ پہنچے تو آپ ع نے امام حسن ع کو حکم دیا کہ وہ لوگوں میں جاکر اعلان کرا دیں کہ نمازِ تراویح مساجد میں نہ ہوگی تو امام حسن ع نے ایسا ہی کیا ۔ جب لوگوں نے امام حسن ع کا اعلان سنا تو چیخ اٹھے " ہائے عمر ، ہائے عمر " ۔ جب امام حسن ع واپس امام علی ع کے پاس پہنچے تو آپ نے ان سے پوچھا کہ یہ آوازیں کیسی ہیں ؟ تو امام حسن ع نے فرمایا کہ لوگ کہہ رہے ہین ہائے عمر ہائے عمر ، تو آپ ع نے فرمایا کہ کہہ دو کہ وہ نماز(تراویح) پڑھ لیں .¹
✔ اس روایت کو آیت اللہ محسنی رح نے معتبر کہا ہے ²
📚 1- تهذيب الأحكام - الشيخ الطوسي - ج ٣ - الصفحة ٧٠
📚 2- معجم الاحادیث المعتبرۃ - ج ۲ - ص ۱۵۷-۱۵۸
🖋 علی بن ابراھیم قمی
۔
حضرت امیر المومنین علی بن ابی طالب علیہ السلام نے نماز تراویح پڑھنے والوں کو انکے حال پر کیوں چھوڑ دیا ؟
امیر المومنین حضرت علی بن ابی طالب ع نے پہلے لوگوں کو تراویح سے منع فرمایا لیکن لوگ نہیں مانے تو انکو انکے حال پر چھوڑ دیا ۔
قرآن میں اللہ سبحانہ و تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے :
{ خُذِ ٱلۡعَفۡوَ وَأۡمُرۡ بِٱلۡعُرۡفِ وَأَعۡرِضۡ عَنِ ٱلۡجَـٰهِلِینَ }
[Surah Al-Aʿrāf: 199]
آپ درگزر کو اختیار کریں نیک کام کی تعلیم دیں اور جاہلوں سے ایک کناره ہو جائیں۔
Gallery
Tap any image to view full screen