*عدم جواز الجماعة في صلاة النوافل في شهر رمضان*
🖋 جبران علی
*ماہ رمضان میں نافلہ نماز (نماز تراویح وغیرہ) کو جماعت میں پڑھنے کا عدم جواز*
الشيخ هادي النجفي ؒ نے اپنی کتاب ** موسوعة أحاديث أهل البيت ؑ ** کی جلد چہارم میں اس باب کو باندها ہے اور اس میں ان روایات کو نقل کیا ہے کہ جن میں معصومین ؑ نوافل کی ادائیگی جماعت کے ساتھ کرنے سے ممانعت فرمائی ہے۔ اس باب میں مولف نے ٤ روایات نقل کی ہیں جن میں سے ٣ روایات کی سند ان کے نزدیک صحیح و معتبر ہیں ۔
📜 1 - الكليني، عن علي بن إبراهيم، عن أبيه، عن حماد بن عيسى، عن إبراهيم بن عثمان، عن سليم بن قيس الهلالي قال: خطب أمير المؤمنين (عليه السلام) فحمد الله وأثنى عليه ثم صلى عن النبي (صلى الله عليه وآله وسلم) ثم قال: ألا إن أخوف ما أخاف عليكم خلتان اتباع الهوى وطول الأمل - إلى أن قال - قد عملت الولاة قبلي أعمالا خالفوا فيها رسول الله (صلى الله عليه وآله وسلم) متعمدين لخلافه فاتقين لعهده مغيرين لسنته ولو حملت الناس على تركها لتفرق عني جندي حتى أبقى وحدي أو قليل من شيعتي - إلى أن قال - والله لقد أمرت الناس أن لا يجتمعوا في شهر رمضان إلا في فريضة وأعلمتهم ان اجتماعهم في النوافل بدعة فتنادى بعض أهل عسكري ممن يقاتل معي، يا أهل الإسلام غيرت سنة عمر، ينهانا عنالصلاة في شهر رمضان تطوعا ولقد خفت أن يثوروا في ناحية جانب عسكري، الحديث .
الرواية صحيحة الإسناد.
📝 سلیم بن قیس الهلالي العامري ؒ روایت بیان کرتے ہیں کہ امیرالمومنین علي ابن ابيطالب ؑ نے خطبه دیا اور خدا کی حمد و ثناء کے بعد درود بر مصطفی ﷺوآله کے بعد فرمایا:
تمهارے بارے میں مجهے سب سے زیادہ دو چیزوں کے متعلق خوف ہے، ایک خواہشِ نفس کی پیروی اور دوسری لمبی امیدیں ،،،، اور پهر فرمایا: مجھ سے پہلے حکام نے کچھ کام کیئے ہیں جن میں انهوں نے جان بوجھ کر سنت رسول الله ﷺوآله کی مخالفت کی اور آپ ؑ کی سنت کو تبدیل کیا، اب ( صورت حال یہ ہے کہ) اگر میں لوگوں کو اس (غلط) طریقہ کو ترک کرنے پر آمادہ کروں تو میرا لشکر بهی مجھ سے علیحدہ ہو جائے گا اور میں تنہا رہ جاؤں گا یا چند میرے مخلص شیعہ باقی رہ جائیں گے ،،،، بخدا میں نے لوگوں کو حکم دیا کہ وہ ماہِ رمضان میں سوائے نماز فریضہ کے ( اور کسی جماعت کیلئے) جمع نہ ہوں ( نمازِ تراویح نہ پڑهیں) اور میں نے بتایا کہ نوافل میں جماعت بدعت ہے تو میرے بعد لشکریوں نے جو میرے ہمراہ ہو کر (دشمن سے) جنگ کر رہے ہیں اعلان کرایا ہے کہ اے اہلِ اسلام! عمر بن خطاب کی سنت تبدیل کی جا رہی ہے، یہ (عليؑ) ہمیں ماہِ رمضان میں نمازِ نافلہ پڑهنے سے منع کرتے ہیں اور (یہ کیفیت دیکھ کر) مجهے اندیشہ ہوا کہ میرے لشکر کے اندر ایک فتنہ برپا نہ ہو جائے ،،،، ۔۔۔۔
اس روایت کی سند صحیح ہے ۔۔۔
📜 2 - محمد بن علي بن الحسين بأسانيده عن زرارة ومحمد بن مسلم، والفضيل أنهم سألوا أبا جعفر الباقر (عليه السلام) وأبا عبد الله الصادق (عليه السلام) عن الصلاة في شهر رمضان نافلة بالليل في جماعة؟ فقالا: إن رسول الله (صلى الله عليه وآله وسلم) كان إذا صلى العشاء الآخرة انصرف إلى منزله ثم يخرج من آخر الليل إلى المسجد فيقوم فيصلي فخرج في أول ليلة من شهر رمضان ليصلي كما كان يصلي فاصطف الناس خلفه فهرب منهم النبي بيته وتركهم ففعلوا ذلك ثلاث ليال فقام في اليوم الرابع على منبره فحمد الله وأثنى عليه ثم قال:
أيها الناس ان الصلاة بالليل في شهر رمضان من النافلة في جماعة بدعة وصلاة الضحى بدعة ألا فلا تجمعوا ليلا في شهر رمضان لصلاة الليل ولا تصلوا صلاةالضحى فإن تلك معصية ألا وان كل بدعة ضلالة وكل ضلالة سبيلها إلى النار ثم نزل وهو يقول قليل في سنة خير من كثير في بدعة ۔
الرواية صحيحة الإسناد.
📝 زرارہ، (محمد) ابن مسلم اور فضیل سے روایت کمروی ہے کہ ان سب نے کہا: ہم نے امام باقر ع اور امام صادق ع سے ماہ رمضان میں باجماعت رات کو نافلہ نماز (تراویح) کا پوچھا۔ تو ان دونوں نے فرمایا: جب نبی ص عشاء پڑھتے، وہ اپنے گھر کی طرف روانہ ہوجاتے، پھر وی رات کے آخر میں مسجد کی طرف آتے، ادھر نماز قائم کرتے۔ اور لوگ انکے پیچھے صف بنا لیتے، تو آپ ص ان کے پاس سے اپنے گھر چلے جاتے اور ان کو چھوڑ دیتے۔ تو ان سب نے یہ تین رات کیا، تو نبی ص چوتھے دن اپنے منبر پر کھڑے ہوئے، الله کی حمد و ثناء کی، پھر فرمایا: ایھا الناس! بیشک رات کو ماہ رمضان میں باجماعت نافلہ نماز پڑھنا ایک بدعت ہے، اور نماز چاشت ایک بدعت ہے۔ جان لو کہ ماہ رمضان کی کسی رات جمع ہوکر نماز نہ پڑھو، اور نماز چاشت نہ پڑھو، کیونکہ وہ معصیت ہے۔ جان لو کہ ہر بدعت گمراہی ہے اور ہر گمراہی کا راستہ جہنم کی طرف ہے۔ پھر آپ ص منبر سے اتر گئے یہ فرماتے ہوئے: تھوڑی سی سنت بہت ساری بدعت سے زیادہ بہتر ہے۔
اس روایت کی سند صحیح ہے ۔۔۔
📜 3 - الطوسي بإسناده عن علي بن الحسن بن فضال، عن أحمد بن الحسن، عن عمرو بن سعيد المدائني، عن مصدق بن صدقة، عن عمار، عن أبي عبد الله (عليه السلام) قال:
سألته عن الصلاة في رمضان في المساجد؟ فقال: لما قدم أمير المؤمنين (عليه السلام) الكوفة أمر الحسن بن علي أن ينادي في الناس لا صلاة في شهر رمضان في المساجد جماعة فنادى في الناس الحسن بن علي (عليه السلام) بما أمره بهأمير المؤمنين (عليه السلام) فلما سمع الناس مقالة الحسن ابن علي (عليه السلام) صاحوا وا عمراه وا عمراه فلما رجع الحسن إلى أمير المؤمنين (عليه السلام) قال له:
ما هذا الصوت؟ قال: يا أمير المؤمنين الناس يصيحون وا عمراه وا عمراه فقالأمير المؤمنين (عليه السلام) قل لهم: صلوا ۔
الرواية معتبرة الإسناد.
📝 الشیخ الطوسي ؒ باسناد خود عمار سے روایت کرتے ہیں ان کا بیان ہے کہ امام صادق(ع) سے رمضان کی نافلہ نمازوں کے مساجد میں پڑھے جانے کے متعلق سوال ہوا تو آپ(ع) نے فرمایا: "جب امیر المؤمنین(ع) نے کوفہ میں قدم رکھا تو آپ نے امام حسن(ع) کو حکم دیا کہ لوگوں میں منادی کروائیں کہ رمضان کے مہینے میں جماعت کے ساتھ (نافلہ) نماز نہیں ہے۔ امام حسن(ع) نے منادی کروائی جیسا کہ امیر المؤمنین(ع) کا حکم تھا۔ جب لوگوں نے امام حسن(ع) کی ندا سنی تو فریاد کرنے لگے: وا عمراہ، وا عمراہ ۔۔۔ یعنی ھائے عمر، ھائے عمر ۔۔۔۔۔
امام حسن(ع) واپس امام علی(ع) کے پاس آئے تو انہوں نے پوچھا کہ یہ کیسی آواز ہے؟ تو امام حسن(ع) نے جواب دیا کہ اے امیرالمؤمنین(ع) لوگ ھائے عمر، ھائے عمر کی صدا بلند کر رہے ہیں۔ تو امام علی(ع) نے فرمایا کہ ان سے کہو کہ پھر تم لوگ جیسے چاہے نماز پڑھو۔
اس روایت کی سند معتبر ہے ۔۔۔
📜 4 - محمد بن إدريس في آخر السرائر نقلا من كتاب أبي القاسم جعفر بن محمد ابن قولويه، عن أبي جعفر وأبي عبد الله (عليه السلام) قالا: لما كان أمير المؤمنين (عليه السلام) بالكوفة أتاه الناس فقالوا له: اجعل لنا إماما يؤمنا في رمضان، فقال لهم: لا ونهاهم ان يجتمعوا فيه فلما أمسوا جعلوا يقولون ابك وارمضان وا رمضاناه، فاتى الحارث الأعور في أناس فقال: يا أمير المؤمنين ضج الناس وكرهوا قولك، قال: فقال عند ذلك:
دعوهم وما يريدون ليصل بهم من شاؤوا ثم قال: (ومن يتبع غير سبيل المؤمنين نوله ما تولى ونصله جهنم وساءت مصيرا) (3).
ورواه العياشي في تفسيره عن حريز عن بعض أصحابنا عن أحدهما (عليهما السلام) مثله.
📝 علامة ابن ادریس حلي علیه رحمه محدث محمد ابن قولویه ؒ کی کتاب سے نقل کرتے ہیں اور وہ باسناد خود امام الباقر ؑ اور امام الصادق ؑ سے روایت کرتے ہیں کہ انهوں نے فرمایا:
جب امیرالمومنین ؑ کوفہ میں تهے تو کچھ لوگ ان کے پاس آئے اور آ کر عرض کیا کہ ہمارے لیئے ایک پیش نماز مقرر کریں جو ہمیں ماہِ رمضان کی نماز (تراویح) پڑهائے تو امیرالمومنین ؑنے ان کا مطالبہ مسترد کر دیا اور ان کو نافلہ میں نماز پڑهنے سے منع فرمایا، جب رات ہوئی تو انهوں نے کہا: نماز پڑهاؤ اور کہو کہ " وا رمضاناه " یعنی ہائے ماہِ رمضان تو( یہ ماجرا دیکھ کر) حارث ہمدانی کچھ لوگوں کے ساتھ امیرالمومنین ؑ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا : یا امیرالمومنین ؑ لوگ چیخ و پکار کر رہے ہیں انهوں نے آپ کی بات کا بُرا منایا ہے تو امام ؑ نے فرمایا : ان کو ان کے حال پہ چهوڑ دو جسے پسند کریں وہ ان کو پڑهائے پهر یہ آیت پڑهی " ومن یشاقق الرسول من بعد ما یبین له الهدي و يتبع غير سبيل المؤمنين نوله ما تولى ونصله جهنم وساءت مصيرا " ترجمه {جو شخص باوجود راہ ہدایت کے واضح ہو جانے کے بھی رسول ؑ کے خلاف کرے اور تمام مومنوں کی راہ چھوڑ کر چلے ہم اسے ادھر ہی متوجہ کردیں گے جدھر وہ خود متوجہ ہو اور دوزخ میں ڈال دیں گے، وہ پہنچنے کی بہت ہی بری جگہ ہے۔} سورة النساء آیة ١١٥ ۔۔۔۔
📚 موسوعة أحاديث أهل البيت (ع) - الشيخ هادي النجفي - ج ٤ - الصفحة ٢٨٦،٢٨٧
Gallery
Tap any image to view full screen