Back to نمازِ تراویح

عترتِ رسول (ص) کے نزدیک نمازِ تراویح جماعت کے ساتھ پڑهنا بدعت ہے

عترتِ رسول (ص) کے نزدیک نمازِ تراویح جماعت کے ساتھ پڑهنا بدعت ہے
عترتِ رسول (ص) کے نزدیک نمازِ تراویح جماعت کے ساتھ پڑهنا بدعت ہے
عترتِ رسول (ص) کے نزدیک نمازِ تراویح جماعت کے ساتھ پڑهنا بدعت ہے

** عترتِ رسول (ص) کے نزدیک نمازِ تراویح جماعت کے ساتھ پڑهنا بدعت ہے **

 

اہل سنت کے قاضی شوکانی لکھتے ہیں :

 

📜 " العترة ان التجمع في التراويح بدعة "

 

📝 العترة (یعنی اهل بیت رسول ؑ) کے نزدیک (نماز) تراویح جماعت کے ساتھ پڑهنا بدعت ہے ۔

 

مزید لکھتے ہیں :  

 

📜 مالك و ابو يوسف وبعض الشافعية وغيرهم الافضل فرادى في البيت لقول رسول الله افضل الصلاة المرء في بيتة الا المكتوبة ۔۔۔۔

 

📝 امام مالك ، ابو یوسف اور بعض اصحاب شافعی کا یہ نظریہ ہے کہ نماز تراویح کو بھی دوسرے نوافل کی طرح گهر میں تنہا پڑهنا (بغیر جماعت کے) کے افضل ہے کیونکہ رسول الله (صلی الله علیه وآله وسلم) نے فرمایا : سب سے افضل وہی نماز ہے جو اپنی گھروں میں ادا کی جائے ۔

 

📚 اسم الکتاب : نیل الاوطار 

مصنف : محمد بن علي شوکاني 

الجزء : الخامس ، الصفحة : ١٧٢،١٧٣

 

✅ فقہ میں شوکانی کے اقوال کی حجیت کے بارے میں

 

البانی نے اپنی کتاب سلسلہ الاحادیث الصحیحہ میں شوکانی کو "امام" کا لقب دیا ہے، ان کے قول کو معیار قرار دیا ہے، اور انہیں سلفی علما میں شمار کیا ہے۔ نیز، ان کے اقوال کی حجیت کو احمد بن حنبل، ابن تیمیہ، اور ابن کثیر کے برابر قرار دیا ہے:

 

🔷 "لیکن وہ (یعنی ایک شخص) اپنے علم سے مغرور اور اپنی ذات پر نازاں ہے، اور سلف کے ان ائمہ کو کوئی حیثیت نہیں دیتا جن کی رائے اس کے نظریے کے خلاف ہے، جیسے امام احمد، ابن تیمیہ، ابن قیم، طبری، ابن کثیر، قرطبی، اور امام شوکانی۔"

 

📚 السلسلة الصحیحة، ج 6، ص 999

 

💠 عالم کے اقوال کے قبول ہونے کے بارے میں

 

اسی طرح، امام ذہبی تصریح کرتے ہیں کہ کسی عالم کی رائے اس کے مخصوص فن میں حجت ہوتی ہے:

 

🔹 "بہت سے ائمہ ایسے ہوتے ہیں جو کسی ایک فن میں ماہر ہوتے ہیں، لیکن دوسرے علوم میں کمزور ہوتے ہیں۔ مثلاً:

 

سیبویہ نحو کے امام تھے، مگر حدیث نہیں جانتے تھے۔

 

وکیع حدیث کے امام تھے، مگر عربی زبان پر عبور نہ تھا۔

 

ابو نواس شعر میں ماہر تھے، مگر دوسرے علوم میں نہیں۔

 

عبد الرحمن بن مہدی حدیث میں امام تھے، مگر طب کا علم نہ رکھتے تھے۔

 

محمد بن حسن فقیہ تھے، مگر قراءت سے ناواقف تھے۔

 

حفص قراءت کے امام تھے، مگر حدیث میں ضعیف تھے۔

 

👈 ہر جنگ کے لیے ایک مخصوص ماہر کی ضرورت ہوتی ہے!👉

 

📚 تذکرة الحفاظ، ج 3، ص 1031

 

📝 اور معلم یمانی تصریح کرتا ہے کہ تصدیق، تکذیب پر مقدم ہوتی ہے:

 

🔸 "تصدیق مبہم تکذیب پر مقدم ہوتی ہے۔"

 

📚 التنکیل بما فی تأنیب الکوثری من الاباطیل، ج 2، ص 561

 

♦️ جب علامہ شوکانی تصدیق کرتے ہیں کہ اہلِ بیتؑ نے تراویح نہیں پڑھی، تو ان کا کلام خود اہلِ سنت کے اصولوں کے مطابق حجت ہے۔ لہٰذا، آپ لوگوں کے اعتراضات اور احتمالات کی کوئی حیثیت نہیں۔

 

✅ آپ کے اپنے اصول کے مطابق، اقرار سب سے مضبوط دلیل ہے!

 

قفاری، جو ایک وهابی عالم ہے، کہتا ہے:

 

🌀 "یہ ان (شیعوں) کا اعتراف ہے، جو باطنی تاویلات کے ماہر ہیں، کہ قرآن میں اس بدعت (تراویح) کا ذکر نہیں۔ اور یہی اعتراف ان کے دعوے کو رد کرنے کے لیے کافی ہے۔

👈 اقرار سب سے بڑی دلیل ہے، اور وہ اپنے ہی ہاتھوں سے اپنے گھروں کو گرا رہے ہیں!"👉

 

📚 أصول مذهب الشيعة الإمامية الإثني عشرية، ناصر بن عبد الله بن علی القفاری، ج 2، ص 458

 

🔰 لہٰذا، چونکہ شوکانی نے اہلِ سنت کے اندر تراویح کے فرادیٰ پڑھنے پر اجماع نقل کیا اور اسے رد نہیں کیا، تو یہ اس مسئلے کی شہرت اور تصدیق کی دلیل ہے۔

 

📌 نتیجہ:

 

🔹 اہلِ سنت کے علما کے مطابق، شوکانی کے اقوال ان کے لیے حجت ہیں۔

🔹 یہ بھی ثابت ہو چکا ہے کہ اہلِ سنت کے اندر اختلافات میں، کئی علما نے شوکانی کے قول کو ترجیح دی ہے۔

🔹 اب کچھ ناتجربہ کار مولوی بے شرمی کے ساتھ اہلِ سنت کے اپنے علما کے اقوال کو رد کر رہے ہیں!

 

⁉️ سوال یہ ہے کہ اگر اہلِ سنت کے علما نے اجماع کیا ہے کہ رمضان کے نوافل فرادیٰ پڑھنے چاہئیں اور یہ کہ اہلِ بیتؑ تراویح کو بدعت سمجھتے تھے، تو پھر تم "جماعتِ عمری" اس اجماع پر عمل کیوں نہیں کرتے؟

 

⁉️ اگر تم اہلِ بیتؑ کے پیروکار ہونے کا دعویٰ کرتے ہو، تو ان کے عمل کے خلاف تراویح کیوں پڑھتے ہو؟

 

⁉️ جبکہ نہ رسول اللہﷺ، نہ اہلِ بیتؑ، نہ خلفا میں سے کسی نے تراویح پڑھی، تو تم یہ بدعت کیوں اپنائے ہوئے ہو؟

 

مزید امام نووی نقل کرتے ہیں:

 

"علماء کا اس بات پر اتفاق ہے کہ تراویح مستحب ہے، مگر اس میں اختلاف ہے کہ اسے گھر میں انفرادی طور پر پڑھنا افضل ہے یا مسجد میں جماعت کے ساتھ۔

امام شافعی، امام ابو حنیفہ، امام احمد اور بعض مالکیہ کہتے ہیں کہ جماعت سے پڑھنا افضل ہے، کیونکہ عمر بن خطاب اور صحابہ نے ایسا کیا۔"

 

📖 (نيل الأوطار)

Gallery

Tap any image to view full screen

Gallery Image 1
Gallery Image 2
Gallery Image 3