رسول الله (ص) نے قیام ( نماز تراویح ) پر لوگوں کو جمع نہیں فرمایا تھا۔
✅ اور رسول الله (ص) نے قیام (نفل نماز) پر لوگوں کو جمع نہیں فرمایا تھا۔
مسند احمد کی حدیث
📜 7881 - حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُرَغِّبُ النَّاسَ فِي قِيَامِ رَمَضَانَ، وَيَقُولُ: " مَنْ قَامَهُ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا، غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ". وَلَمْ يَكُنْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَمَعَ النَّاسَ عَلَى الْقِيَامِ (1)
(1) إسناده صحيح على شرط مسلم
📝 حضرت ابو ہریرۃ سے روایت ہے کہ انھوں نے کہا: رسول الله (ص) لوگوں کو رمضان کے قیام (نفل نماز) کی ترغیب دیتے تھے اور آپ (ص) فرماتے: "جس نے رمضان کا قیام (نفل نماز) ایمان (کی حالت میں) اور اجر طلب کرتے ہوئے کیا، اس کے گزشتہ گناہ بخش دیئے جائیں گے۔" اور رسول الله (ص) نے قیام (نفل نماز) پر لوگوں کو جمع نہیں فرمایا تھا۔
💯 محقق، شعیب ارنووط نے "اس حدیث کی سند کو مسلم کی شرط پر صحیح" قرار دیا ہے۔
📚 مسند احمد (عربی)، جلد نمبر 13، صفحہ نمبر 264، حدیث نمبر 7881
⭕️ حدیث کے تمام راوی ثقہ ہیں:
1. إسماعيل بن عمر الواسطي (راوی صحیح مسلم): ثقہ
2. محمد بن أبي ذئب العامري (راوی بخاری و مسلم): ثقہ، فقیہ، فاضل
3. محمد بن شهاب الزهري (راوی بخاری و مسلم): فقیہ، حافظ، جلیل القدر
4. أبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري (راوی بخاری و مسلم): ثقہ، امام، کثیر الحدیث
پس عمر کو کیا حق تھا کہ وہ نبی ﷺ کی سنت (نفل نماز انفرادی طور پر پڑھنا) کو چھوڑ کر تراویح کو جماعت کے ساتھ پڑھنے کا حکم دے؟
عمر کا یہ عمل قرآن کی اس آیت کے مطابق ہے:
📖 سورہ انفال، آیت 13:
"یہ اس وجہ سے ہے کہ وہ اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرتے ہیں، اور جو بھی اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرے گا، بے شک اللہ سخت سزا دینے والا ہے۔"
📗 صحیح بخاری، جلد 4، صفحہ 100:
"جو شخص مدینہ میں کوئی بدعت نکالے یا کسی بدعتی کو جگہ دے، اس پر اللہ، فرشتوں اور تمام انسانوں کی لعنت ہو، اور اس کے نوافل و فرائض قبول نہیں ہوں گے۔"
#تعلیمات_اہلبیتؑ
#طالب_دعا
#بدر_علی
Gallery
Tap any image to view full screen