🔴 تراویح ایک بدعت ہے 🔴
🖋 تـحــریر وتحــــقیق خـادم ملت تشـــیع: ســـیف نـــجفی
قارئین کرام: یہ بات تـو مُسلم ہے نمـاز تراویح کـو جماعت سے حضرت عمر نے پڑھتے دیکھ کر کہا (نعم البدعت) یہ تروایح اچھی بدعت ہے۔
جیسا کے بخاری شریف کے اس روایت میں آپ دیکھ سکتے ہیں
📜 وَعَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدٍ الْقَارِيِّ ، أَنَّهُ قَالَ : «خَرَجْتُ مَعَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْه لَيْلَةً فِي رَمَضَانَ إِلَى الْمَسْجِدِ فَإِذَا النَّاسُ أَوْزَاعٌ مُتَفَرِّقُونَ ، يُصَلِّي الرَّجُلُ لِنَفْسِهِ ، وَيُصَلِّي الرَّجُلُ فَيُصَلِّي بِصَلَاتِهِ الرَّهْطُ ، فَقَالَ عُمَرُ : إِنِّي أَرَى لَوْ جَمَعْتُ هَؤُلَاءِ عَلَى قَارِئٍ وَاحِدٍ لَكَانَ أَمْثَلَ ، ثُمَّ عَزَمَ فَجَمَعَهُمْ عَلَى أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ، ثُمَّ خَرَجْتُ مَعَهُ لَيْلَةً أُخْرَى وَالنَّاسُ يُصَلُّونَ بِصَلَاةِ قَارِئِهِمْ ، قَالَ عُمَرُ : نِعْمَ الْبِدْعَةُ هَذِهِ ،
📝 ترجمہ: ابن شہاب سے (امام مالک رحمہ اللہ) کی روایت ہے، انہوں نے عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے عبدالرحمٰن بن عبدالقاری سے روایت کی کہ انہوں نے بیان کیا میں عمر بن خطاب کے ساتھ رمضان کی ایک رات کو مسجد میں گیا۔ سب لوگ متفرق اور منتشر تھے، کوئی اکیلا نماز پڑھ رہا تھا، اور کچھ کسی کے پیچھے کھڑے ہوئے تھے۔ اس پر حضرت عمر نے فرمایا، میرا خیال ہے کہ اگر میں تمام لوگوں کو ایک قاری کے پیچھے جمع کر دوں تو زیادہ اچھا ہو گا، چنانچہ آپ نے یہی ٹھان کر ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کو ان کا امام بنا دیا۔ پھر ایک رات جو میں ان کے ساتھ نکلا تو دیکھا کہ لوگ اپنے امام کے پیچھے نماز تراویح پڑھ رہے ہیں۔ عمر نے فرمایا، یہ بہترین بـــدعـــت ہے
📚 صحيح البخاري ج3 ص45
http://lib.efatwa.ir/42174/3/45
اہل سنت کے اکــثر لوگ تاویل کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ حضــرت عـــمر کا یہ عـــمل بدعت حسنہ ہیں اس بدعت میں ثواب ہے حالانکہ اس کے مقابلے میں مســـلم شــریف میں ایک روایت ہے جس میں رســـول خــدا کی حدیــــث ہے جـــس میں موجود ہے ہر بدعت گـــمراھی ہے (کل بدعـة ضلالة) موجود ہے 👇
📜 وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا خَطَبَ احْمَرَّتْ عَيْنَاهُ، وَعَلَا صَوْتُهُ، وَاشْتَدَّ غَضَبُهُ، حَتَّى كَأَنَّهُ مُنْذِرُ جَيْشٍ يَقُولُ: «صَبَّحَكُمْ وَمَسَّاكُمْ»، وَيَقُولُ: بُعِثْتُ أَنَا وَالسَّاعَةُ كَهَاتَيْنِ، وَيَقْرُنُ بَيْنَ إِصْبَعَيْهِ السَّبَّابَةِ، وَالْوُسْطَى، وَيَقُولُ: «أَمَّا بَعْدُ، فَإِنَّ خَيْرَ الْحَدِيثِ كِتَابُ اللهِ، وَخَيْرُ الْهُدَى هُدَى ، مُحَمَّدٍ ، ، وَشَرُّ الْأُمُور ،ِ ، مُحْدَثَاتُهَا ، 👈🏻وَكُلُّ بِدْعَةٍ ضَلَالَةٌ 👉🏻 ثُمَّ يَقُولُ: « أَنَا أَوْلَى بِكُلِّ مُؤْمِنٍ مِنْ نَفْسِه ِ، مَنْ تَرَكَ مَالًا فَلِأَهْلِهِ، وَمَنْ تَرَكَ دَيْنًا أَوْ ضَيَاعًا فَإِلَيَّ وَعَلَيَّ».
📝 سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کئی نمازیں پڑھیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز اور خطبہ دونوں درمیانے ہوتے تھے۔ سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب خطبہ پڑھتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھیں سرخ ہو جاتیں اور آواز بلند ہو جاتی اور غصہ زیادہ ہو جاتا گویا وہ ایک ایسے لشکر سے ڈرانے والے تھے کہ صبح شام آیا اور فرماتے تھے: ”میں اور قیامت یوں بھیجا گیا ہوں۔“ اور اپنے کلمہ کی اور بیچ کی انگلی ملاتے اور کہتے: «أَمَّا بَعْدُ فَإِنَّ خَيْرَ الْحَدِيثِ كِتَابُ اللَّهِ وَخَيْرُ الْهُدَى هُدَى مُحَمَّدٍ وَشَرُّ الأُمُورِ مُحْدَثَاتُهَا وَكُلُّ بِدْعَةٍ ضَلاَلَةٌ» ”اللہ کی حمد کے بعد، جانو کہ ہر بات سے بہتر اللہ کی کتاب ہے اور ہر چال سے بہتر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی چال ہے۔ اور سب کاموں سے برے، نئے کام (یعــنی بدعت) ہیں اور ہر بدعــــت گمراہی ہے، پھر فرماتے کہ میں ہر مؤمن کا دوست ہوں اس کی جان سے زیادہ پھر جو مؤمن مر کر مال چھوڑ جائے وہ اس کے گھر والوں کا ہے اور جو قرض یا بچے چھوڑے ان کی پرورش میری طرف سے ہے اور ان کا خرچ مجھ پر ہے
📚 صحيح مسلم ج2 ص592
http://lib.efatwa.ir/42175/2/59
قارئــــین کرام: آپ نے غور کیا مــسلم شریف کی حدیث میں واضع نقل ہوئا ہر بـــدعت گــــمراہی ہے بلکہ امور ميں سے بدترین امور بدعت ہے ( یـــعنی جو چیز شریعت میں نہ ہو اس کو شریعت کے قوانــین میں داخل کرنا )
اس کے عـــلاوہ ہم آپ کو اہل ســـــنت کے بڑے فقیہ محدث مفتـــــی ابــــن عثیمین کا حوالہ دیتے ہیں اس نے صراحت سے لکھا ہے "بدعــــت کو حســــنہ کہنا رســــول (ص) کے حدیث کی تکذیب اور خــــلاف نص ہے"
قارئـــین کرام مفتی محمد ابن صالح العـثیمین سے سائـــل کا ســـوال 👇
يقول: هل هناك بدعة حسنة وبدعة سيئة؟
ترجــــمہ :سائــــل نے امام ابن عثـــمین سے سوال کیا.
❓کیا بدعت کے دو قســــم ہیں ایک بدعت حســــنہ اور ایــــک بدعت سیئة؟
اس کا جواب فضلیة الشیخ امام ابن عثــیـمین اس طرح دیتے ہیں 👇
📜 فأجاب رحمه الله تعالى: أعوذ بالله! أبداً ما فيه بدعة حسنة، وقد قال أعلم الخلق بالشريعة وأفصح الخلق بالنطق وأنصح الخلق للخلق قال: (كل بدعة ضلالة) ولم يستثن شيئاً
📝 ترجـــمہ: فضلیة الشیخ امام ابن عثــیـمین جواب دیتے ہیں اللہ تبارک ســـے پناہ مانگتا ہوں کوئــــی بدعــــت حـــــسنه نہیں ہے. کیوں کے مخلوق خداوندی میں نــــبی اکـــرم (ص) سب سے زیادہ شریعت کو جاننے والے تھے اور وہ ســــب سے زیادہ فصیح النطق تھے جب اس (نـــبی ص) نے فرمایا کل بدعة ضلالة تو اس میں کوئــــی گنجائــــــش نہیں ہے کے ہم کسی کو استثناء کرتے بدعت کو بدعت حســـنہ سے تعــبیر کریں
📚 حـــوالہ: فتاوی نور علی الدرب جلد 1ص512
ایک اور جگہ پر مـــفتی ابن عثـــیـمین سے ســـائل نے سوال کیا
❓عــــلماء کہتے ہیں بدعت کے پانچ اقســـام ہیں کیا یہ ٹھیک ہے آپ کی رائے کیا ہے؟ ســـائل کا ســـوال 👇
❓ ســـوال: تقسيم العلماء الكبار للبدعة إلى خمسة أقسام والرسول الكريم صلى الله عليه وسلم يقول: (كل بدعة ضلالة، وكل ضلالة في النار) . ما رأيكم في هذا يا فضيلة الشيخ؟
فضیلة الشیخ ابن عثــــیمین کا جواب
📜 كل هذه التقاسيم التي قسمها بعض أهل العلم مخالفة للنص
📝 تـــرجمہ: ابن عثـــیمین کہتے ہیں یہ تــــمام تقــــسیم جو بعض اہل عـــلم نےتقــــسیم بندی کی ہے وہ نص کے خــــلاف ہیں جـــیسے نص رسول موجود ہے صلى الله عليه وسلم يقول: كل بدعة ضلالة، وكل ضلالة في النار
📚 حـــوالہ : فتاوی نور علی جلد الدرب :جلد 1
مزیـــد عبـارات اسکـــین پیج پر دیــکھ سکــتے ہیں
اس کے عــــلاوہ امام ابن باز سے ســوال کیا گیا
کیا بدعت کے مختلف اقســام ہیں جیسے حـــسنة. ســیئة.
واجـــــب. حــــرام ؟؟؟؟؟
اس کے جواب میں امام ابن باز لکھتے ہیں
✅ یہ تقــــسیم بندی بلکل غـــلط ہے
📜 قال ابن باز ، ثم القـول بأن البدعـــة تـنقــسم إلى حـسنـة وسيئة .وإلى محرمة وواجبة ، قول بلا دليل وقد رد ذلك أهل العلم واليقين وبينوا خطأ هذا التقسيم،
📚 فتاوى نور على الدرب ج1 ص325
http://lib.efatwa.ir/44350/1/325
قارئــــین کرام: آپ نے غور کیا اہل سنـــت کے علماء اور مفتیان کے نزدیک کوئی بدعت حــــسنہ نہیں ہے بلکہ نص کے مقابلے میں ایک ظن اور ذاتی رائے ہے جـس کی ہر اہل علـــم کے نزدیک کوئی حیثیت نہیں ہے بلکہ رســـول خدا
(ص) کے حـــدیث کـی توھین اور تکذیــــب ہے لہذا ہم ایــــسے عــــمل (تراویح ) پڑھنے سے توبہ کرتے ہیں جس کے
پڑھنے سے رسول خدا (ص) کی توھـــین اور تکذیــــب ہو
اور بــــیبی فاطــــمہ سلام اللہ کا بابا ہـــم سے ناراض ہو
Gallery
Tap any image to view full screen