Back to نمازِ تراویح

عبداللہ بن عمر رمضان میں امام کے پیچھے نماز تراویح نہیں پڑھتے تھے

عبداللہ بن عمر رمضان میں امام کے پیچھے نماز تراویح نہیں پڑھتے تھے
عبداللہ بن عمر رمضان میں امام کے پیچھے نماز تراویح نہیں پڑھتے تھے
عبداللہ بن عمر رمضان میں امام کے پیچھے نماز تراویح نہیں پڑھتے تھے
عبداللہ بن عمر رمضان میں امام کے پیچھے نماز تراویح نہیں پڑھتے تھے

دو صحیح اسناد سے وارد ہوا ہے کہ عبداللہ بن عمر رمضان میں امام کے پیچھے نماز تراویح نہیں پڑھتے تھے ۔۔

انکے نزدیک جو اس بدعت کو انجام دیتا ہے وہ گد ھا ہے ۔۔۔

 

اگر یہ تراویح اتنی عظیم عبادت اور نعمت ہے تع یقینا عبداللہ بن عمر قابل مذمت ہیں اس کو ترک کرنے کی وجہ سے اور اسکو انجام دینے والے کو گد ھا کہنا کیا یہ ط ع ن نہیں دوسرے اصحاب پر؟؟

 

سکین 👇🏼

 

نافع کہتے ہیں: کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما رمضان کے مہینے میں جماعت کے امام کے پیچھے نماز (تراویح) نہیں پڑھتے تھے۔

 

 فَمِنْ ذَلِکَ مَا حَدَّثَنَا فَهْدٌ، قَالَ: ثنا أَبُو نُعَیْمٍ، قَالَ: ثنا سُفْیَانُ، عَنْ عُبَیْدِ اللہِ، عَنْ عُبَیْدِ اللہِ، عَنْ، نَافِرِ عَنْ اللهِ اَنْهُمَا أَنَّهُ کَانَ لَا یُصَلِّی خَلْفَ الْإِمَامِ فِی رَمَضَانَ۔

 

 📚 شرح معانی الاثار ،جلد 1،کتاب الصلاۃ، نمبر 2060، صفحہ 351

Gallery

Tap any image to view full screen

Gallery Image 1
Gallery Image 2
Gallery Image 3
Gallery Image 4