نماز تراويح کــي حقيقت اہل سنـــت کے آئـــمه ومحدثــــین کی نــــظر میں
نماز تراويح کــي حقيقت اہل سنـــت کے آئـــمه ومحدثــــین کی نــــظر میں ؟
تحریر: سیف نجفی
قارئــــین کرام: آج ہـم اہل ســــنت کے ایک مایہ ناز فـقیہ و محدث کی زبانی تراویـــح کی حقیقت بتاتے ہیں
امام بدر الدیـــــنی العــــینی تراویح نــــماز حقیقت کے بارے میں لکھتا ہے
روى الطحاوي عن نافع " عن ابن عمر أنه كان لا يصلي خلف الإمام في شهر رمضان " وأخرج ابـن أبي شيبة أيضا في مصنفه " عن ابن عمر أنه كان لا يقوم مع الناس في شهر رمضان قال وكان القاسم وسالم لا يقومان مع الناس
ترجمہ: طحاوی نے نافع سے اور نافع نے عبداللہ ابن عمــر سے روایت کی ہے وہ امام کے پـیچھے نماز تراویح نہیں پـڑھتے تھے اس طــرح مصنف ابن شیـــبہ نے اپنی کتاب (المصنف )میں بھی فرمایا عــــبد اللہ بن عـــــمر لوگــوں کـے ساتھ نماز تراویح مل کر نہیں پڑھتے تھے (یعنی جماعت کے ساتھ نہیں پڑھتے تھے) اس طرح امام قــاسم اور سالم بھی لوگوں کے ساتھ نماز تروایح نہیں پڑھتے تھے ( یــعنی جماعت کے ساتھ تراویح نہیں پڑھتے تھے)
امام عـــینی اس سے بھی مزید آگے لکھــتے ہیں
وذهب مالك والشافعي وربيعة إلى أن صلاته في بيته أفضل من صلاته مع الإمام وهو قول إبراهيم والحسن البصري والأسود وعلقمة وقال أبو عمر اختلفوا في الأفضل من القيام مع الناس أو الانفراد في شهر رمضان فقال مالك والشافعي صلاة المنفرد في بيته أفضل وقال مالك وكان ربيعة وغير واحد من علمائنا ينصرفون ولا يقومون مع الناس وقال مالك
ترجـمہ: امام عینی لکھتا ہے. امام شافعی ، امام مالــک، امام ربیعه بھی اس طرف گئے یعـــنی نماز تـراویح کو فرادی پڑھنا افضل سمجھتے تھے مسجد میں پڑھنے سے
یہ قول ابراھـــیم. حــسن البصری،اسود علقمہ سے نقل کیا ہے اور اخـتلاف ہے نمـاز تراویح گھر میں پڑھـنا افضل ہے یا مســجد میـں جـماعت کے ساتھ لیکن امــام مالـــک امام شافعی اس کے عــلاوہ کافی علماء اس طـرف گئے نماز (نافلہ فرادی) گھر میں پڑھنا افضل ہے مسجد میں جماعــت کے ساتھ پڑھنے سے
امـــام بدر الـــدین العــــینی آگے فرماتے ہیں
أنا أفعل ذلك وما قام رسول الله - صلى الله عليه وسلم إلا في بيته
ترجمہ امام عـــینی کہتا ہے
میں خـــود رمضان المبارک کے اس بابرکت صلات النافلہ کو گھر میں پڑھنا افضل سمجھتا ہوں، مسجد میں جماعـــت کے ساتھ پڑھنے سے.
اس کے بارے امام بدر الدینی عیـــنی دلیل دیتے فرماتے ہیں
ما قام رسول الله - صلى الله عليه وسلم إلا في بيته
ترجمہ: وہ اس لئے کیوں کے نـــبی اکـــرم (ص) خود یہ نماز گھر میں فرادی پڑھتے تھے ( یعنی میں تاسی رسول ص کرتے گھر میں پڑھنا افضل سمجھتا ہوں چہ جائیکہ حضرت عــمر کی سنت پر عمل کروں )
امام بدر الدین عـــینی لکھتا ہے اس پر فقط میں عــمل پیرا نہیں ہوں بلکہ بزرگ محدثـــین بھی اس طرف مائل ہوئے جیسے امام طحاوی کیوں کے اس نے روایت کی ہے ابن عــمر سے . امام سالم سے. امام قاســم سے .امام نافع. سے یہ سب بزرگان جماعت کے ساتھ تراویح نہیں پڑھتے تھے
اور امام ترمذی نے امام شافعی سے نقل کیا انسان اس نماز کو فـــرادی پڑھے جب کہ وہ پڑہ ســـکتا ہو
تحـــریر: ســــیف نـــجفی
Gallery
Tap any image to view full screen