Back to نمازِ تراویح

عبد اللہ بن عمر خود نماز تراویح کے مخالف تھے

عبد اللہ بن عمر خود نماز تراویح کے مخالف تھے
عبد اللہ بن عمر خود نماز تراویح کے مخالف تھے

1⃣ راوی کہتا ہے کہ ایک شخص نے عبداللہ بن عمر سے پوچھا کہ

 

👈کیا میں امام کے پیچھے رمضان میں نماز پڑھوں؟ { یعنی کیا میں جماعت کے ساتھ پڑھوں۔ یعنی تراویح)

 

👈 عبداللہ بن عمر نے کہا کہ

کیا تم قرآن پڑھ لیتے ہو؟

 

👈 پوچھنے والے نے جواب دیا کہ ہاں۔

 

👈 عبداللہ بن عمر نے کہا کہ

کیا تم *گد ھے* کی طرح خاموش رہو گے ؟

*جاو گھر میں پڑھو*۔

 

📚اہل سنت کی کتاب۔ مصنف عبدالرزاق جلد 4 ص 264

 

🔴 *نوٹ*: حضرت عمر کی اس بدعت پر عمل کرنے والے سنی ذرا سوچیں کہ عمر کی اس بدعت سے لوگوں کو روکنے والا ان کا اپنا بیٹا ہے❗

 

2⃣ ثانیاً، چونکہ عبارت "أَفَتُنْصِتُ كَأَنَّكَ حِمَارٌ؟" (کیا تم گدھے کی طرح خاموش رہو گے؟) مخالفین کے لیے تلخ اور سخت تھی، اس لیے یہ عبارت "شرح معانی الآثار" طحاوی کی روایت سے حذف کر دی گئی۔

 

حدیث کا متن:

ابو بکرہ نے روایت کی، کہا: ہم سے مؤمل نے بیان کیا، کہا: ہم سے سفیان نے، انہوں نے منصور سے، انہوں نے مجاہد سے روایت کی کہ

ایک شخص نے ابن عمر سے پوچھا:

"کیا میں رمضان میں امام کے پیچھے نماز پڑھوں؟"

انہوں نے جواب دیا:

"کیا تم قرآن پڑھنا جانتے ہو؟"

اس نے کہا: "ہاں"

(......✂️✂️✂️ حذف شدہ عبارت ......)

پھر ابن عمر نے کہا: "اپنے گھر میں نماز پڑھو"

 

(شرح معانی الآثار، ج1، ص351، ط عالم الکتب)

 

یہ معاملہ اتنا واضح تھا کہ اہل سنت کو روایت میں تحریف پر مجبور ہونا پڑا۔ سوال یہ ہے کہ اگر ابن عمر کے بیان میں کوئی اشکال نہیں تھا، تو روایت میں تحریف کیوں کی گئی؟

لہٰذا، یہ تحریف اس بات کی دلیل ہے کہ ابن عمر نے تراویح پڑھنے والوں کو گدھے سے تشبیہ دی تھی، نہ کہ صرف یہ کہا تھا کہ جو قرآن پڑھنا جانتا ہو، وہ اکیلے نماز پڑھے۔

 

یہی بات ثابت کرتی ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے تراویح جماعت کے ساتھ نہیں پڑھی، کیونکہ خود ابن عمر حافظ قرآن تھے۔

اب ہمت ہے تو تراویح پڑھ کر صحابی کے قول کا انکار کر کے دکھاؤ!

Gallery

Tap any image to view full screen

Gallery Image 1
Gallery Image 2