نماز تراویح پہلی بار ١٤ ہجری میں شروع ہونے والی حضرت عمر کی بدعات میں سے یک بدعت ہے
*علما اہل سنت کے اقرار 👇🏼*
1️⃣ تراویح حضرت عمرؓ نے شروع کروائی
2️⃣ تراویح پہلی بار با جماعت 14 ہجری میں پڑھی گیئی
3️⃣ تراویح حضرت عمرؓ کی بد عت ہے۔
📜 وهو أول من سن قيام شهر رمضان وجمع الناس علي ذلك وكتب به إلي البلدان وذلك في شهر رمضان سنة أربع عشرة وجعل للناس بالمدينة قارئين قرئا يصلي بالرجال وقارئا يصلي بالنساء .
📄 (عمر بن خطاب) وہ پہلے شخص تھے جنہوں نے رمضان المبارک کی رات کی نماز تراویح کی مثال قائم کی اور اس کے لیے لوگوں کو جمع کیا اور مختلف خطوں کو اس کے بارے میں ہدایات دیں۔ اس نے لوگوں کے لیے قرآن پڑھنے والے مقرر کیے جو مردوں اور عورتوں کے لیے نماز تراویح کی امامت کرتے تھے۔
📚 کتاب الطبقات ابن سعد جلد 3 صفحہ 281
📚 تاریخ الخلفاء صفحہ 137
📚 امدۃ القاری فی شرح صحیح البخاری جلد 6 صفحہ 125
📚 تاریخ الطبری، جلد 4، صفحہ 209
ابن وردی لکھتے ہیں:
📜 "سب سے پہلے جس نے لوگوں کو تراویح کے لیے ایک امام پر جمع کیا، وہ عمر تھا۔"
📚 (تاریخ ابن وردی، ج 1، ص 142)
دمیری اور قلقشندی لکھتے ہیں:
📜 "سب سے پہلے جس نے رمضان میں لوگوں کو ایک امام کے پیچھے نماز پڑھنے کے لیے جمع کیا، وہ عمر تھا۔"
📚 (حیاة الحیوان الکبری، ج 1، ص 481)
📚 (مآثر الإنافة في معالم الخلافة، ج 1، ص 92؛ ج 3، ص 337)
بیہقی نے صحیح سند کے ساتھ روایت کی ہے:
📜 "صحابی سائب بن یزید کہتے ہیں کہ عمر بن خطاب کے زمانے میں لوگ رمضان میں 20 رکعات نماز پڑھتے تھے۔"
📖 (الحاوی للفتاوی، کتاب الصلاة، المصابیح فی صلاة التراویح)
📢 مجیر الدین العلیمی (جو کہ 927ھ میں وفات پا گئے) اہل سنت کے علماء میں سے ہیں، کہتے ہیں:
📜 "وَكَانَ عمر... وَهُوَ أول من جمع النَّاس لصَلَاة التَّرَاوِيح"
📃 "عمر بن خطاب وہ پہلے شخص تھے جنہوں نے لوگوں کو نماز تراویح کے لیے جمع کیا۔"
📚 الأنس الجليل بتاريخ القدس والخليل
مصنف: عبد الرحمن بن محمد بن عبد الرحمن العُلَيْمي الحنبلي، ابو الیمن، مجیر الدین (متوفی: 928ھ)
محقق: عدنان یونس عبد المجید نباتہ
ناشر: مكتبة دنديس – عمان
جزء: 1 صفحه: 260
📢 بدالرحمن بن خالد احمد البکری نے اپنے کتاب میں جو عمر کی سیرت پر لکھی ہے، صفحہ 126 پر کہتے ہیں:
📜 "عمر نے اس سال میں رمضان میں جماعت کے ساتھ قیام کی سنت کو قائم کیا اور اس کے نفاذ کے لیے مختلف جگہوں پر خطوط لکھے اور ابو بن کعب اور تمیم داری کو نفل نماز میں لوگوں کی امامت کرنے کا حکم دیا،"
👈 "پھر ان سے کہا گیا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ عمل نہیں کیا تھا،"
❓ تو عمر نے جواب دیا: "اگر یہ بدعت ہے، تو یہ کتنی اچھی بدعت ہے!"
❓ کیا عمریہ کے پاس بدعت تراویح کے لیے کوئی مضبوط، مفصل، واضح، اور براہ راست دلیل ہے؟
💡 نتیجہ:
🔹 تراویح کو جماعت سے پڑھنے کی بنیاد عمر نے رکھی، نہ کہ رسول اللہ ﷺ نے۔
🔹 اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ کوئی شرعی سنت نہیں بلکہ ایک نئی ایجاد (بدعت) تھی۔
لہٰذا، تراویح کا جماعت کے ساتھ پڑھنا سنتِ رسول ﷺ نہیں بلکہ بدعتِ عمر ہے!
#تعلیمات_اہلبیتؑ
#طالب_دعا
#بدر_علی
Gallery
Tap any image to view full screen