تراویح ایک بدعت
تراویح ایک بدعت
تراویح ایک بدعت
تراویح ایک بدعت
تراویح ایک بدعت
تراویح ایک بدعت

📣 *تراویح ایک بد عت* 

 

👈🏻 *کتب اہل سنت*

 

📝 امام بخاری نے عبداللہ بن عبدالقاری سے نقل کیا ہے کہ ایک دن حضرت عمر(رض) مسجد کے پاس سے گذرے تو کیا دیکھا کہ لوگ جدا جدا نماز میں مشغول ہیں لہذا سوچا کہ اگر یہ سب ایک شخص کی امامت میں نماز ادا کریں تو کتنا بہتر ہوگا لہذا ابی بن کعب کو اس کا حکم دیا ۔دوسری رات وہاں سے گذرے تو حضرت عمر (رض) دیکھا کہ لوگ ابی کے پیچھے نماز اداکررہے ہیں تو فرمایا : ﴿﴿نعم البدعۃ ھذہ ﴾﴾ یہ کتنی اچھی بدعت ہے. 

 

📚 ﴿ صحیح بخاری ۱: ۲۴۳﴾

 

کیا رسول اکرم (ص) نے بدعتی شخص کو گمراہ اور جہنمی قرار نہیں دیا؟ 

 

📜 کلّ بدعۃ ضلالۃ وکلّ ضلالۃ فی النار. 

 

📚 ﴿ سبل السلام ۲: ۰۱؛ مسند احمد ۳: ۰۱۳﴾

 

تو جب نماز تراویح نہ تو پیغمبر اکرم (ص) کے زمانہ میں تھی اور نہ ہی حضرت ابوبکر (رض) کے زمانہ میں .تو پھر ہمیں اس قدر اس پر اصرار کرکے بدعت کرنے کی کیا ضرورت ہے ؟

 

کیا یہ درست نہیں ہے کہ نماز تراویح حضرت عمر (رض) کی بدعات میں سے ہے اور پیغمبر (ص) کے زمانے میں اس کا مسلمانوں کے درمیان نام و نشان تک نہ تھا جیسا کہ ہمارے جید علمائ نے اس حقیقت کو عیاں کیا ہے : 

 

1️⃣ ابن ہمام: تاریخ سے یہ پتہ چلتا ہے کہ اس کا آغاز حضرت عمر (رض) کے زمانے میں ہوا .

 

📚﴿فتح القدیر ۱: ۷۰۴﴾

 

2️⃣۔ جب پیغمبر (ص) کی رحلت ہوئی تب تک مسلمان نماز تراویح نہیں پڑھا کرتے تھے جیسا کہ ثبت ہوا ہے کہ عمر (رض) نے لوگوں کو ابی بن کعب کی امامت میں جمع کیا .

 

📚﴿فتح الباری شرح صحیح بخاری ۴: ۶۹۲﴾

 

3️⃣۔ عینی: جب پیغمبر (ص) کی رحلت ہوئی تب تک مسلمان نماز تراویح نہیں پڑھا کرتے تھے اور میراخیال یہ ہے

کہ یہ حضرت عمر (رض) کے اجتہاد کانتیجہ ہے .

 

📚﴿عمدۃ القاری فی شرح صحیح بخاری ۱: ۲۴۳﴾

 

*نماز تراویح کا اجمالی جائزہ اور مروجہ بیس رکعات تراویح کی حقیقت ۔*

 

ہم اس مضمون میں نماز شب ( تراویح ) اور مروجہ بیس رکعات تراویح کا مختصر تعارف قارئین کی خدمت میں پیش کررہے ہیں ۔ واضح رہے کہ ہم نے اپنے مضمون میں فقط صحیح بخاری کی روایات کی روشنی میں کلام کیا ہے ۔ 

 

ملاحظہ فرمائیں۔

 

*رمضان میں کوئی اضافی نماز سنت نہیں ۔*

 

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ معمول ثابت ہے کہ آپ سال کے بارہ مہینے نماز شب ( تہجد ) ادا کیا کرتے تھے، اور دیگر مہینوں کی طرح ماہ رمضان میں بھی حسب معمول آنحضرت نے اسیطرح نماز شب کا اہتمام فرمایا جیساکہ غیر رمضان میں اہتمام کیا۔

 

چنانچہ امام بخاری نے ابوسلمہ بن عبدالرحمن سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے ام المؤمنین حضرت عائشہ سے پوچھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رمضان میں ( تراویح یا تہجد کی نماز ) کتنی رکعتیں پڑھتے تھے؟ *تو انہوں نے بتایا کہ رمضان ہو یا کوئی اور مہینہ آپ گیارہ رکعتوں سے زیادہ نہیں پڑھتے تھے۔*

 

روایت کا متن ملاحظہ فرمائیں ۔

 

📜 حدثنا إسماعيل، قال حدثني مالك، عن سعيد المقبري، عن أبي سلمة بن عبد الرحمن، أنه سأل عائشة ـ رضى الله عنها ـ كيف كانت صلاة رسول الله صلى الله عليه وسلم في رمضان فقالت ما كان يزيد في رمضان، ولا في غيرها على إحدى عشرة ركعة٫

 

📚 الجامع الصحیح للبخاری // رقم الحدیث 2013 // الناشر: دار طوق النجاة۔

 

حضرت عائشہ کی روایت سے معلوم ہوا کہ آنحضرت نے ماہ رمضان میں کسی اضافی نماز کا اہتمام نہیں کیا بلکہ رمضان میں بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سال کے دیگر ایام کی طرح حسب معمول صرف صلاة الیل ( تہجد ) ہی پڑھا کرتے تھے۔

 

*رسول اللہ نے باجماعت نماز شب کا اہتمام ترک کردیا تھا ۔*

 

امام بخاری نے حضرت عائشہ سے روایت نقل کری ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک مرتبہ رمضان کی نصف شب میں مسجد تشریف لے گئے اور وہاں نماز شب پڑھی۔ کچھ صحابہ کرام بھی آپ کے ساتھ نماز میں شریک ہوگئے۔ صبح ہوئی تو انہوں نے اس کا چرچا کیا۔ 

چنانچہ دوسری رات میں لوگ پہلے سے بھی زیادہ جمع ہو گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی۔ 

دوسری صبح کو اور زیادہ چرچا ہوا 

اور تیسری رات اس سے بھی زیادہ لوگ جمع ہو گئے۔ آپ نے اس رات بھی نماز پڑھی اور لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداءکی۔ 

چوتھی رات کو یہ عالم تھا کہ مسجد میں نماز پڑھنے آنے والوں کے لیے جگہ بھی باقی نہیں رہی تھیں۔ ( لیکن اس رات آپ برآمد ہی نہیں ہوئے ) بلکہ صبح کی نماز کے لیے باہر تشریف لائے۔ جب نماز پڑھ لی تو لوگوں کی طرف متوجہ ہو کر شہادت کے بعد فرمایا۔ اما بعد : تمہارے یہاں جمع ہونے کا مجھے علم تھا، لیکن مجھے خوف اس کا ہوا کہ کہیں یہ نماز تم پر فرض نہ کر دی جائے اور پھر تم اس کی ادائیگی سے عاجز ہو جاؤ ۔ 

 

روایت کا متن ملاحظہ فرمائیں :

 

📜 حدثنا يحيى بن بكير، حدثنا الليث، عن عقيل، عن ابن شهاب، أخبرني عروة، أن عائشة ـ رضى الله عنها ـ أخبرته أن رسول الله صلى الله عليه وسلم خرج ليلة من جوف الليل، فصلى في المسجد، وصلى رجال بصلاته، فأصبح الناس فتحدثوا، فاجتمع أكثر منهم، فصلوا معه، فأصبح الناس فتحدثوا، فكثر أهل المسجد من الليلة الثالثة، فخرج رسول الله صلى الله عليه وسلم فصلى، فصلوا بصلاته، فلما كانت الليلة الرابعة عجز المسجد عن أهله، حتى خرج لصلاة الصبح، فلما قضى الفجر أقبل على الناس، فتشهد ثم قال "أما بعد، فإنه لم يخف على مكانكم، ولكني خشيت أن تفترض عليكم فتعجزوا عنها۔

 

📚 الجامع الصحیح للبخاری // رقم الحدیث 2012 // الناشر: دار طوق النجاة۔

 

صحیح بخاری کی روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ آنحضرت نے ماہ رمضان میں صحابہ کرام کو تین مرتبہ باجماعت صلاة اليل پڑھائی لیکن پھر آنحضرت نے امت کی سہولت کی خاطر یہ خیال کیا کہ اسطرح روزانہ نماز شب کے باجماعت اہتمام سے کہیں مسلمان اپنے اوپر اس نماز شب کو لازم نہ کرلیں اور پھر اس کی ادائیگی سے عاجز آجائیں تو اس خوف سے آنحضرت نے باجماعت نماز شب کو ترک کردیا جس کی بنیاد پر صحابہ کرام کا عمل بھی خلافت دوئم کے زمانہ تک یہی تھا کہ باجماعت نماز شب کا اہتمام نہیں کرتے تھے ۔

 

*مروجہ بیس رکعات باجماعت تراویح کی حقیقت ۔*

 

صحیح اور مرفوع روایات اس بات پر شاھد ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم رمضان اور غیر رمضان میں نماز شب کی گیارہ رکعات پڑھا کرتے تھے اور خلافت دوئم کے زمانہ تک صحابہ کرام کا عمل بھی یہی تھا کہ فرادی ہوکر ( متفرق طور پر الگ الگ ) نماز شب ادا کیا کرتے تھے *لیکن جب حضرت عمر کا دور خلافت آیا تو انہوں نے مسلمانوں کو بیس رکعات تراویح پر ایک امام کے پیچھے جمع کردیا اور ساتھ ہی حضرت عمر نے اپنے اس عمل کو بذات خود ایک " اچھی بدعت " کے عنوان سے تعبیر بھی کیا۔*

 

چنانچہ امام بخاری نے عبدالرحمن بن عبدالقاری سے روایت نقل کری ہے وہ فرماتے ہیں کہ میں حضرت عمر بن خطاب کے ساتھ رمضان کی ایک رات کو مسجد میں گیا۔ سب لوگ متفرق اور منتشر تھے، کوئی اکیلا نماز پڑھ رہا تھا، اور کچھ کسی کے پیچھے کھڑے ہوئے تھے۔ اس پر حضرت عمر نے فرمایا، میرا خیال ہے کہ اگر میں تمام لوگوں کو ایک قاری کے پیچھے جمع کر دوں تو زیادہ اچھا ہوگا، چنانچہ آپ نے یہی ٹھان کر حضرت ابی بن کعب کو ان کا امام بنادیا۔ عبد الرحمان بن عبد القاری فرماتے ہیں کہ پھر ایک رات جو میں ان کے ساتھ نکلا تو دیکھا کہ لوگ اپنے امام کے پیچھے نماز ( تراویح ) پڑھ رہے ہیں یہ دیکھ کر حضرت عمر نے فرمایا کیا ہی اچھا نیا طریقہ ( بد عت ) ہے ۔ روایت کا متن ملاحظہ فرمائیں ۔

 

📜 وعن ابن شهاب، عن عروة بن الزبير، عن عبد الرحمن بن عبد القاري، أنه قال خرجت مع عمر بن الخطاب ـ رضى الله عنه ـ ليلة في رمضان، إلى المسجد، فإذا الناس أوزاع متفرقون يصلي الرجل لنفسه، ويصلي الرجل فيصلي بصلاته الرهط فقال عمر إني أرى لو جمعت هؤلاء على قارئ واحد لكان أمثل. ثم عزم فجمعهم على أبى بن كعب، ثم خرجت معه ليلة أخرى، والناس يصلون بصلاة قارئهم، قال عمر نعم البدعة هذه.

 

📚 الجامع الصحیح للبخاری // رقم الحدیث 2010 // الناشر: دار طوق النجاة۔

 

*بد عت کا حکم :*

 

اب جبکہ تراویح کا بدعت ہونا خود تراویح کے شارع کی زبان سے ہی ثابت ہے تو ضروی معلوم ہوتا ہے کہ اس بدعت پر عمل اور عدم عمل کے حوالہ سے بھی کسی صحیح اور مرفوع حدیث کیطرف رجوع کیا جائے چنانچہ امام بخاری اور مسلم نے صحیحین میں ایک متفق علیہ روایت حضرت عائشہ سے نقل کری ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا : جو شخص بھی دین میں کوئی ایسا نیا عمل ایجاد کرے جس کا دین ( قرآن و سنت ) سے کوئی تعلق نہ ہو تو وہ عمل مردود ہے۔

 

📜 حدثنا يعقوب، حدثنا إبراهيم بن سعد، عن أَبيه، عن القاسم بن محمد، عن عائشة قَالَت: قَال رسول الله صلى الله عليه وسلم من أحدث فی أمرنا ھذا ما لیس منه فھو رد۔

 

📚 الجامع الصحيح للبخاري // رقم الحدیث 2697 // الناشر: دار طوق النجاة۔

📚 الجامع الصحيح للمسلم // رقم الحدیث ( 17 - 1718) الناشر: دار إحياء التراث العربي - بيروت.

 

*نماز تراویح کی وجہ تسمیہ :*

 

مروجہ بیس رکعات باجماعت تراویح گوکہ بدعت حسنہ ہے لیکن تمام اچھائیوں کے باوجود مروجہ بیس رکعات باجماعت تراویح بدعت کے حکم کی روشنی میں بہرحال ایک مردود عمل ہے جس کا قرآن و سنت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ اب آخر میں نماز تراویح کی وجہ تسمیہ بیان کیئے دیتے ہیں کہ کس وجہ سے ماہ رمضان میں صلاة الليل کو نماز تراویح کے نام سے موسوم کیا گیا۔ 

 

حافظ ابن حجر نے تراویح کی وجہ تسمیہ ان الفاظ میں بیان کری ہے ۔

 

📝 والتراویح جمع ترویحۃ و ہی المرۃ الواحدۃ من الراحۃ کالتسلیمۃ من السلام سمیت الصلوۃ فی الجماعۃ فی لیالی رمضان التراویح لانہم اول ما اجتمعوا علیہا کانوا یستریحون بین کل تسلیمتین.

 

📚 فتح الباري شرح صحيح البخاري // المجلد 4 // الصفحة 250 // الناشر: دار المعرفة - بيروت

 

حافظ فرماتے ہیں : تراویح ترویحۃ کی جمع ہے جو راحت سے مشتق ہے جیسے تسلیمۃ سلام سے مشتق ہے۔ رمضان کی راتوں میں جماعت سے نفل نماز پڑھنے کو تراویح اسلیئے کہا گیا، کیونکہ وہ شروع میں ہردورکعتوں کے درمیان تھوڑا سا آرام کیا کرتے تھے۔

مفہوم حافظ کے کلام کا یہ ہے کہ تراویح میں لوگ چونکہ طویل قرآت کیا کرتے تھے جس کی وجہ سے ان کو تھکن کا احساس ہوا کرتا تھا چنانچہ لوگوں نے اس تھکن کو دور کرنے کے لیئے کچھ رکعات کے بعد آرام کی غرض سے وقفہ کرنا شروع کردیا جس کو ترویحہ کہاجاتا ہے پھر اسی مناسبت سے بعد میں اس نماز کو صلاة التراویح کے نام سے موسوم کردیا گیا و گرنہ احادیث مرفوعہ کا ذخیرہ تراویح نام کی کسی بھی چڑیا کے ذکر سے بالکل خالی ہے ۔

 

📝 كانَ رَسولُ اللّه ِ صلى الله عليه و آله يُرَغِّبُ في قِيامِ رَمَضانَ مِن غَيرِ أن يَأمُرَهُم فيهِ بِعَزيمَةٍ ، فَيَقولُ : «مَن قامَ رَمَضانَ إيماناً وَاحتِساباً غُفِرَ لَهُ ما تَقَدَّمَ مِن ذَنبِهِ» . فَتُوُفِّيَ رَسولُ اللّه ِ صلى الله عليه و آله وَالأَمرُ عَلى ذلِكَ ، ثُمَّ كانَ الأَمرُ عَلى ذلِكَ في خِلافَةِ أبي بَكرٍ وصَدراً مِن خِلافَةِ عُمَرَ عَلى ذلِكَ

 

یعنی رسول اللہ(ص) ماہ رمضان میں عبادت کی ترغیب کرتے تھے اور فرماتے تھے "جو شخص بھی رمضان کے مہینے میں ایمان کی بدولت اللہ کے لئے (عبادت) کے لئے قیام کرے اس کے تمام سابقہ گناہ معاف ہوتے ہیں"۔ پھر آپ(ص) کا وصال ہوا اور اسی طرح سے یہ امر جاری رہا (یعنی نافلہ کو فرادی پڑھنا)، ابو بکر کی خلافت میں بھی ایسا ہی رہا اور خلیفۂ دوّم عمر کے دور میں بھی۔

 

📚 (صحيح مسلم : ۱/۵۲۳/۱۷۴ ، صحيح البخاري : ۲ / ۷۰۷ / ۱۹۰۵ وفيه مِن «مَن قام ...» ، الموطّأ : ۱/۱۱۳/۲ وفيهما «قال ابن شهاب : فتوفّي رسول اللّه ...» ، السنن الكبرى : ۲ / ۶۹۳ / ۴۵۹۹ وص ۶۹۴ / ۴۶۰۲)

 

گویا رسول اللہ(ص) کی سنّت تھی کہ رمضان کی نافلہ نمازوں کو خود پڑھتے تھے اور جماعت سے منع فرمایا ہے۔ ان نمازوں کو جماعت کے ساتھ پڑھنے کی رسم خلیفۂ دوّم حضرت عمر بن خطاب نے شروع کی۔

 

📝 خَرَجتُ مَعَ عُمَرَ بنِ الخَطّابِ لَيلَةً في رَمَضانَ إلَى المَسجِدِ ، فَإِذَا النّاسُ أوزاعٌ مُتَفَرِّقونَ ، يُصَلِّي الرَّجُلُ لِنَفسِهِ ، ويُصَلِّي الرَّجُلُ فَيُصَلّي بِصَلاتِهِ الرَّهطُ ، فَقالَ عُمَرُ : إنّي أرى لَو جَمَعتُ هؤُلاءِ عَلى قارِىً?واحِدٍ لَكانَ أمثَلَ ، ثُمَّ عَزَمَ فَجَمَعَهُم عَلى اُبَيِّ بنِ كَعبٍ ، ثُمَّ خَرَجتُ مَعَهُ لَيلَةً اُخرى وَالنّاسُ يُصَلّونَ بِصَلاةِ قارِئِهِم۔ قالَ عُمَرُ : نِعمَ البِدعَةُ هذِهِ!

 

راوی کہتا ہے کہ عمر بن الخطاب کے ساتھ رمضان کی کسی رات مسجد میں آیا، لوگوں کو ہم نے متفرّق دیکھا، ہر شخص خود نماز پڑھ رہا تھا، یا ایک قلیل جماعت کسی ایک شخص کے پیچھے نماز پڑھ رہی تھی۔ عمر بن الخطاب کہتے ہیں کہ اگر یہ لوگ ایک قاری کے پیچھے جمع ہوں تو میری نگاہ میں بہتر ہے۔ پھر انہوں نے فیصلہ کیا اور سب کو ابی بن کعب کے پیچھے کھڑا کر دیا۔ اگلی رات کو میں دوبارہ ان کے ساتھ باہر نکلا، لوگ ایک قاری کے پیچھے نماز پڑھ رہے تھے۔ خلیفۂ دوّم عمر نے کہا کہ "یہ کتنی بہترین بدعت ہے۔"

 

📚 (صحيح البخاري : ۲ / ۷۰۷ / ۱۹۰۶ ، الموطّأ : ۱ / ۱۱۴ / ۳ ، السنن الكبرى : ۲ / ۶۹۴ / ۴۶۰۳ وح .۴۶۰۴)

 

خلیفۂ دوّم نے اس سلسلے کو شروع کیا اور اہل سنّت آج تک ان کی اس سنّت پر عمل کرتے ہیں جبکہ شیعیانِ علی رسول اللہ(ص) کی سنّت پر عمل کرتے ہوئے ان نافلہ نمازوں کو جماعت کے ساتھ پڑھنے سے اجتناب کرتے ہیں۔

Gallery

Tap any image to view full screen

Gallery Image 1
Gallery Image 2
Gallery Image 3
Gallery Image 4
Gallery Image 5
Gallery Image 6