تراویح نعم البدْعة

📣 *تراویح نعم البدْعة*

 

📜 عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدٍ القَارِيِّ، أَنَّهُ قَالَ: خَرَجْتُ مَعَ عُمَرَ بْنِ الخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، لَيْلَةً فِي رَمَضَانَ إِلَى المَسْجِدِ، فَإِذَا النَّاسُ أَوْزَاعٌ مُتَفَرِّقُونَ، يُصَلِّي الرَّجُلُ لِنَفْسِهِ، وَيُصَلِّي الرَّجُلُ فَيُصَلِّي بِصَلاَتِهِ الرَّهْطُ، فَقَالَ عُمَرُ: إِنِّي أَرَى لَوْ جَمَعْتُ هَؤُلاَءِ عَلَى قَارِئٍ وَاحِدٍ، لَكَانَ أَمْثَلَ ثُمَّ عَزَمَ، فَجَمَعَهُمْ عَلَى أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ، ثُمَّ خَرَجْتُ مَعَهُ لَيْلَةً أُخْرَى، وَ النَّاسُ يُصَلُّونَ بِصَلاَةِ قَارِئِهِمْ، *قَالَ عُمَرُ: «نِعْمَ البِدْعَةُ هَذِهِ،*

 

عبد الرحمن نے کہا ہے کہ: میں ماہ رمضان کی ایک رات عمر ابن خطاب کے ساتھ مسجد میں داخل ہوا۔ ہم نے دیکھا کہ مسجد میں بعض لوگ اکیلے اور بعض لوگ مل کر ایک جماعت کی صورت میں نماز پڑھ رہے ہیں، یہ دیکھ کر عمر نے کہا: اگر یہ سب لوگ جمع ہو کر ایک امام جماعت کے پیچھے کھڑے ہو کر نماز پڑھتے تو زیادہ بہتر ہوتا، یہ کہہ کر ابی ابن کعب کو آگے کھڑا کر کے سب کو اس کے پیچھے کھڑا کر دیا۔ چند دن کے بعد میں دوبارہ عمر کے ساتھ مسجد میں داخل ہوا تو دیکھا کہ تمام لوگ ابی ابن کعب کے پیچھے کھڑے ہو کر با جماعت نماز (تراویح) پڑھ رہے ہیں، *اس پر عمر نے کہا کہ: یہ ایک اچھی بدعت ہے۔*

 

📚 صحیح بخاری، ج 3، ص 45، ح 2010، باب فضل من قام رمضان

Gallery

Tap any image to view full screen

Gallery Image 1