🌏🌏 رسول اللہ ﷺ کے اموال اور آپ ﷺ کی ذاتی ملکیت کہاں گئی؟
🌏 ان لوگوں کا کہنا ہے کہ نبی ﷺ وراثت نہیں چھوڑتے، اور آپ ﷺ کی تمام املاک کو رسول اللہ ﷺ کے صدقات شمار کیا جاتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ کے صدقات آپ ﷺ کی وفات کے بعد سے قیامت تک تمام مسلمانوں کی مشترکہ ملکیت ہیں، جن میں تمام مسلمان شریک ہیں۔
یعنی آنے والی نسلوں کے تمام مسلمان ان صدقات میں شریک ہیں، اور ان میں کوئی تصرف اسی وقت کیا جا سکتا ہے جب تمام مسلمان اس پر متفق ہوں۔
🌏 اپنے موضوع کی بنیاد واضح کرنے کے بعد، اب ہم ان روایات، آثار اور تاریخی واقعات کی طرف آتے ہیں جنہیں کتابوں میں رسول اللہ ﷺ کے ان بہت سے اموال کے بارے میں نقل کیا گیا ہے جو آپ ﷺ کی وفات سے کچھ پہلے آپ کی ملکیت میں تھے۔ یہاں ہماری مراد آپ ﷺ کے ذاتی اموال ہیں، مثلاً زمینیں، گھوڑے، گدھے، خچر، نو تلواریں، زرہیں، رسول اللہ ﷺ کی انگوٹھیاں، لباس اور اس کے علاوہ بہت سی دوسری چیزیں۔
جب ہم نے اس معاملے کی تحقیق کی تو اہلِ سنت کی کتابوں میں ایسی روایات ملیں جن میں رسول اللہ ﷺ کی نو تلواروں میں سے صرف ذوالفقار کا ذکر ملتا ہے۔ یہ وہی تلوار ہے جو رسول اللہ ﷺ نے امام علیؑ کو عطا فرمائی تھی، جیسا کہ کتابوں میں نقل ہوا ہے، اور جو نسل در نسل آلِ علیؑ کے پاس منتقل ہوتی رہی۔
ہمیں یہ بھی معلوم ہوا کہ عائشہ کے پاس رسول اللہ ﷺ کی قمیص موجود تھی، جسے انہوں نے اس وقت نکالا اور اپنے سر پر رکھا جب وہ عثمان کے قتل کا مطالبہ کرنے کے لیے باہر نکلیں۔
اسی طرح رسول اللہ ﷺ کی ایک چادر بھی عائشہ کے پاس تھی۔
ہمیں یہ بھی معلوم ہوا کہ رسول اللہ ﷺ کے جوتے انس بن مالک کے پاس تھے۔ ہمیں معلوم نہیں کہ رسول اللہ ﷺ سے متعلق یہ چیزیں انس بن مالک تک کیسے پہنچیں۔
ہمیں یہ بھی معلوم ہوا کہ رسول اللہ ﷺ کی بُردہ (چادر) عباسی دور میں سامنے آئی۔ عباسی خلیفہ نے اسے خریدا تھا اور وہ ہر جمعے کو اسے پہنا کرتا تھا۔
اس کے علاوہ رسول اللہ ﷺ کی دیگر یادگاریں بھی ملتی ہیں، مثلاً آپ ﷺ کی کنگھی، سرمہ دانی اور خوشبو لگانے کا سامان، جو مصر میں محفوظ ہیں۔
لیکن باقی آٹھ تلواروں، گھوڑوں، گدھوں، خچروں اور اونٹنیوں کے بارے میں ہمیں کچھ معلوم نہیں۔ ان کا کوئی نشان بھی نہیں ملتا۔ کیا رسول اللہ ﷺ نے انہیں ہبہ کر دیا تھا؟ کیا انہیں فروخت کر دیا تھا؟ یا آپ ﷺ کی وفات کے بعد انہیں چوری کر لیا گیا اور پھر چھپا دیا گیا؟
لونڈیوں اور غلاموں کا کیا ہوا؟ وہ کہاں گئے اور کیسے غائب ہو گئے؟ یہ معاملہ بھی ایک راز ہی رہے گا۔
اور جو شخص یہ کہتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنی وفات سے پہلے اپنی تمام لونڈیوں اور غلاموں کو آزاد کر دیا تھا، وہ اس بات پر کوئی دلیل پیش کرے، کوئی بھی دلیل!
اور جو شخص یہ کہتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنی وفات سے پہلے اپنے تمام اموال تقسیم کر دیے تھے، وہ بھی اس پر دلیل پیش کرے۔
لیکن رسول اللہ ﷺ کی چھوڑی ہوئی چیزوں میں سب سے اہم ایک چاندی کی انگوٹھی تھی، جس پر تین سطریں لکھی ہوئی تھیں: پہلی سطر میں محمد، دوسری میں رسول اور تیسری میں اللہ لکھا تھا۔
یہ انگوٹھی پہلے ابوبکر کے پاس تھی، پھر عمر کے پاس پہنچی اور اس کے بعد عثمان کے پاس آئی۔ عثمان کا کہنا ہے کہ انہوں نے اسے کنویں میں گم کر دیا تھا۔
رسول اللہ ﷺ اسی انگوٹھی سے ان خطوط اور احکامات پر مہر لگایا کرتے تھے جو آپ ﷺ جاری فرماتے تھے۔
اب ہم حیرت میں ہیں کہ آپ لوگوں کے دعوے کے مطابق رسول اللہ ﷺ وراثت نہیں چھوڑتے تھے اور آپ ﷺ کی تمام ملکیت آپ ﷺ کے صدقات شمار ہوتی تھی، تو پھر رسول اللہ ﷺ کی املاک ان لوگوں تک کیسے پہنچیں جن کا ذکر ہم نے اپنی اس تحریر میں کیا ہے؟
ہم آپ لوگوں کے جواب کے منتظر ہیں۔
Gallery
Tap any image to view full screen