قمرِ بنی ہاشمؑ
قمرِ بنی ہاشمؑ
قمرِ بنی ہاشمؑ

قمر بني هاشم .. 

 

📜 اور عباسؑ ایک وجیہہ، خوبصورت اور نہایت حسین مرد تھے۔ وہ اعلیٰ نسل کے گھوڑے پر سوار ہوتے تو ان کے پاؤں زمین کو چھوتے تھے؛ اور انہیں قمرِ بنی ہاشم کہا جاتا تھا۔ جس دن امام حسین بن علیؑ شہید ہوئے، اس دن ان کا علم حضرت عباسؑ کے ہاتھ میں تھا۔

 

📚 کتاب کا نام: مقاتل الطالبیین

مصنف: ابو الفرج اصفہانی

جلد: 1

صفحہ: 56

 

📜 كان العباس (عليه السلام) جميلاً وسيماً، ولذا لُقّب بقمر بني هاشم، وكان طويلاً قويّاً عليه سيماء العبادة والتقوى والشجاعة، وعندما يجلس على الفرس ويضع رجله في الركاب تصل ركبتاه إلى رقبة الفرس، وكان مظهر جلال الله وعظمته، وكان بعد الإمام الحسن والحسين (عليهما السلام) في الشجاعة والخصال الحميدة معروفاً بين أولاد أمير المؤمنين (عليه السلام)، وكان قائد الجيش وحامل راية الحسين (صلوات الله عليه) في كربلاء 

 

قمر بنی ہاشم

 

📃 حضرت عباس علیہ السلام نہایت خوبصورت اور وجیہہ تھے، اسی لیے انہیں "قمر بنی ہاشم" کہا جاتا تھا۔ آپ قد آور، قوی الجثہ، عبادت و تقویٰ اور شجاعت کے مظہر تھے۔ جب گھوڑے پر سوار ہوتے اور رکاب میں پاؤں رکھتے تو آپ کے گھٹنے گھوڑے کی گردن تک پہنچ جاتے۔ آپ اللہ کے جلال اور عظمت کی علامت تھے۔

 

شجاعت اور اعلیٰ اخلاق میں آپ امام حسن و حسین (علیہما السلام) کے بعد اولادِ امیرالمؤمنینؑ میں نمایاں تھے۔ کربلا میں حضرت امام حسین علیہ السلام کے سپہ سالار اور علمدار کے طور پر معروف رہے۔

 

📚 بحار الأنوار، ج 45، ص 39.

۔

۔

۔

ابا الفضل العباس (علیه السلام)

 

🖋 جبران علی

 

السید عبدالرزاق المقرم اپنی کتاب " العباس ؑ " میں مولانا عباس (علیه السلام) کی کنیت « ابو الفضل » کی وجہ کنیت کے ذیل میں لکھتے ہیں : 

 

وقد اشتهر بكنيته الثالثة «أبي الفضل» من جهة أن له ولداً اسمه الفضل ، وكان حرياً بها فإن فضله لا يخفىٰ ، ونوره لا يطفى .

ومن فضائله الجسام نعرف أنه ممن حبس الفضل عليه ، ووقف لديه ، فهو رضيع لبانه ، وركن من أركانه ، 

 

مولانا عباس (علیه السلام) اپنی تیسری کنیت « ابو الفضل » سے مشہور ہوئے اس سبب سے کہ انکے ایک بیٹے کا نام " فضل " تھا ۔ اور وہ یوں بھی اس کنیت کے زیادہ حقدار تھے کیونکہ ان کا فضل پوشیدہ نہیں تھا اور ان کا " نور " بُجھنے والا نہیں تھا۔ ان کے بڑے فضائل میں سے ہم یہ جانتے ہیں کہ وہ ایسی ذات تھے کہ فضیلت ان پر ٹھہر گئی تھی اور انہی کے پاس رک گئی تھی۔پس وہ فضل کے دودھ کے پروردہ اور اسکے ارکان میں سے ایک رکن تھے ۔

 

اور اسی بات کی جانب ابو الفراس کے قصیدۂ میمیہ کے شارح نے اشارہ کیا ہے :

 

بـذلـت أيـا عـبـاس نـفساً نفيسة

لنصرِ حُسين عـزّ بـالنصـر مـن مـثل

 

اے عباس ؑ آپ نے اپنے نفس نفیس کو حسین ؑ کی نصرت میں قربان کردیا ایسی نصرت کہ جسکی مثال بہت کم ملتی ہے۔ 

 

أبـيـت التـذاذ المـاء قـبـل التـذاذه

فحسن فعال المـرء فـرع عـن الأصـلِ

 

آپ نے حسین ؑ کے پانی چکھنے سے پہلے پانی چکھنے سے انکار کردیا کیونکہ انسان کا حُسن عمل اسکی اصل کی ہی فرع ہوتا ہے۔

 

فأنت أخو السبطين فـي يـوم مـفخر

وفي يوم بذل الماء أنت أبو الفضل 

 

آپ فخر کے موقع پر سبطین حسنین ؑ کے بھائی ہیں اور پانی نہ پی کر اسے ترک کر دینے کے موقع پر آپ " ابو الفضل " ہیں۔

 

کتاب العباس ؑ ، الصفحة ١٣٩

مولف السید عبدالرزاق الموسوي المقرم 

 

ترجمہ : علامہ سید عروج الحسن میثمی (حفظہ الله)

Gallery

Tap any image to view full screen

Gallery Image 1
Gallery Image 2
Gallery Image 3