Back to عباس بن علیؑ علیہ السلام

حضرت عباس (علیہ السلام) معصومین (علیهم السلام) کے کلام میں

حضرت عباس (علیہ السلام) معصومین (علیهم السلام) کے کلام میں

 

حضرت عباس (علیہ السلام) کے بارے میں معصومین (علیہم السلام) نے جو فرمایا ان میں سے بعض کو بیان کیا جا رہا ہے تاکہ حضرت عباس (علیہ السلام) کی فضیلت کا ہمیں علم ہو اور ان کے چاہنے والے اپنی زندگی کو ان کی زندگی کے ساتھ جوڑنے کی کوشش کریں اور انہیں راہ حق پر چلنے کے لئے نمونہ عمل قرار دیں۔

 

◾ نقل ہوا ہے کہ قیامت کے دن رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم)، حضرت علی (علیہ السلام) سے فرمائیگے کہ فاطمہ (سلام اللہ علیہا ) سے پوچھو کے امت کی نجات کے لئے تمھارے پاس کیا ہے؟

 

حضرت علی (علیہ السلام) نے جب حضرت فاطمہ (سلام اللہ علیہا) سے فرمایا تو حضرت فاطمہ (سلام اللہ علیہا) نے جواب دیا:

 

📜 یا اَمِیرَالمُومِنیِنَ کَفانا لِاجلِ هذا المَقامِ اَلیَدانِ المَقطُوعَتانِ مِن اِبنِی العَبّاسُ

 

📃 اے امیر المؤمنین میرے بیٹے عباس کے دو کٹے ہوئے بازو ان کی شفاعت کے لئے کافی ہے۔

 

📚 سوگنامه آل محمد، محمدی اشتهاردی، ص۵۲۹، انتشارات ناصر، قم،۱۳۷۰

 

◾ روایت میں آیا ہے کہ روز قیامت رسول اللہ ص امام علی ع سے فرمائینگے: زھراء سے پوچھو امت کی شفاعت و نجات کے لیے اس کے پاس کیا ہے؟ علی رسول کا پیغام فاطمہ تک پہنچائیں گے. بی بی جواب میں فرمائیں گی:

 

📜 " یا امیر المؤمنین ! کفانا لاجل ِ هذا المقام ِ الیدان ِ المَقطوعتان ِ مـِـن ابنی العباس "

 

📃 اے امیرالمومنین! میرے بیٹے عباس کے دو کٹے ہوئے بازو ہی شفاعت کے لیے کافی ہیں.

 

📚 معالی السبطین ، جلد 1 ، صفحه 452

 

◾ معالی السّبطین میں آیا ہے کہ جب امیرالمومنین بستر شہادت پر تھے تو آپ نے جناب عباس کو طلب فرما کر اپنے سینے سے لگا لیا اور فرمایا:

 

📜 " وَلَدی وَ سَتَقرّ ُ بک َ فی یوم القیامة "

 

📃 اے میرے بیٹے بہت جلد روز قیامت میری آنکھیں تیرے وسیلے سے روشن ہونگی.

 

ایک نصیحت میں فرمایا:

 

📜 " أذا کانَ یومَ عاشورا وَ دَخَلتَ المَشرعة إیاک أن تَشربَ الماء وَ أخوک الحُسین ُ عطشان ٌ "

 

📃 جب بھی روز عاشورا آئے اور تو پانی کے ذخیرے تک پہنچے تو اس حال میں جب تیرا بھائی حسین پیاسا ہو پانی مت پینا.

 

اس وصیت پر جناب عباس نے ایسے عمل کیا کہ پانی کو منہ تک نہ لگایا، ہاتھ میں لے کر فرمانے لگے:

 

📜 " وَالله لا أذوقُ الماءَ وَ سیدی الحَسینَ عطشانا ً"

 

📃 خدا کی قسم میں پانی نہیں پیوں گا جبکہ میرے آقا پیاسے ہیں.

 

◾ حضرت عباس در کلام امام حسین علیه السلام

 

امام حسین ع نے نو محرم کو جب لشکر اعداء کو آتا دیکھا تو جناب عباس سے فرمایا:

 

📜 إرکـَب بـِـنفسی أنت تَلقاهُم وَ اسئَلهُم عمّا جائهُم .....

 

📃 میری جان تجھ پر قربان اے عباس! گھوڑے پر سوار ہو اور دشمن کے پاس جا کر پوچھ کہ یہ کیوں آئے ہیں...!

آپ کی شہادت کے وقت بالین پر کھڑے ہو کر فرمایا:

 

📜 " جَزاکَ الله خیرا ً یا أخی ! لَقَد جاهَد تَ فی الله ِ حَق ّ جهاده"

 

📃 اے میرے بھائی خدا تجھے بہترین جزا دے تو نے راہ خدا میں ویسے جہاد کیا جیسا کہ کرنے کا حق ہے...

 

📚 تاریخ طبری ج ۵ ص ۴١٦

 

◾ حضرت عباس(علیہ السلام) کے بارے میں امام سجاد (علیہ السلام) فرماتے ہیں: 

 

📜 رحم الله عمی العباس فلقد آثر وابلی وفدی اخاه بنفسه حتی قطعت یداه

 

📃 اللہ رحم فرمائے میرے چچا عباس پر بے شک انھوں نے ایثار اور فداکاری کی اور اپنی جان کو اپنے بھائی پر سے قربان کردیا یہاں تک کہ آپ کے دونوں بازو کاٹ دئے گئے

 

📚 بحار الانوار، محمد باقرمجلسى، ج۴۴، ص۲۹۸، دار إحياء التراث العربي ،بيروت، دوسری چاپ، ۱۴۰۳ق.

 

◾ شیخ صدوق نے اپنی کتاب خصال میں امام علی ابن الحسین زین العابدین (علیہ السلام) کے قول کو نقل کیا ہے کہ:

 

📜 قَالَ عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ علیهما السلام رَحِمَ‏ اللَّهُ‏ الْعَبَّاسَ‏ يَعْنِي ابْنَ عَلِي... وَ إِنَّ لِلْعَبَّاسِ عِنْدَ اللَّهِ تَبَارَكَ وَ تَعَالَى لَمَنْزِلَةً يَغْبِطُهُ بِهَا جَمِيعُ الشُّهَدَاءِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ.

 

📃 امام علی ابن الحسین (علیہ السلام ) نے فرمایا کہ: خداوند کی رحمت ہو عباس ابن علی سلام ﷲ پر اور ان کے لیے خداوند کے نزدیک قیامت کے دن ایسا مقام و مرتبہ ہے کہ جسے دیکھ کر تمام شہداء رشک کریں گے۔

 

📚 الخصال، ج 1 ص 68

 

امام زین العابدین علیہ السلام نے فرمایا:

 

📜 حدثنا أحمد بن زياد بن جعفر الهمداني رضي الله عنه قال: حدثنا علي بن إبراهيم بن هاشم، عن محمد بن عيسى بن عبيد، عن يونس بن عبد الرحمن، عن ابن أسباط، عن علي بن سالم، عن أبيه، عن ثابت بن أبي صفية قال: قال علي بن - الحسين عليهما السلام: رحم الله العباس يعني ابن علي فلقد آثر وأبلى وفدى أخاه بنفسه حتى قطعت يداه فأبدله الله بهما جناحين يطير بهما مع الملائكة في الجنة كما جعل لجعفر بن أبي طالب، وإن للعباس عند الله تبارك وتعالى لمنزلة يغبطه بها جميع الشهداء يوم القيامة.

 

📃 خداوندعالم حضرت ابوالفضل عباس علیہ السلام پر رحم فرمائے انہوں نے اپنے بھائی امام حُسین علیہ السلام پر اپنی جان قربان کردی اور انکے دونوں بازو قلم کردئے گئے خداوندعالم نے ان بازوؤں کے عوض دوپر عنایت فرمائے ہیں اور وہ فرشتوں کے ساتھ جنت میں پرواز کرتے ہیں جس طرح جناب جعفر طیار اور خداوندعالم نے حضرت عباس علمدار علیہ السلام کو وہ فضیلت دی ہے جس پر قیامت کے دن ہرشہید رشک کرے گا۔

 

📚 الأمالي للصدوق ص 462, بحار الأنوار ج 22 ص 274, رياض الأبرار ج 1 ص 193, الخصال ج 1 ص 68, تفسير كنز الدقائق ج 10 ص 531,الأنوار العلوية والأسرار المرتضوية,تأليف فضيلة العلامة الجليل الوافد إلى ربه الشيخ جعفر النقدي تغمده الله برحمته:ص442

 

◾ امام صادق(علیہ السلام) نے جناب عباس(علیہ السلام) کے بارے میں فرمایا: 

 

📜 كان عمُّنا العبّاسُ نافذ البصيره صُلب الايمانِ، جاهد مع ابي‏عبدالله(ع) وابْلي’ بلاءاً حسناً ومضي شهيداً

 

📃 چچا عباس بانفوذ بابصیرت اور مستحکم ایمان کے مالک تھے امام حسین(علیہ السلام) کے ساتھ رہ کر راہ خدا میں جہاد کیا اور بہترین امتحان دیا اور مقام شہادت پر فائز ہو گئے۔

 

📚 در سوگ امیر آزادی(ترجمہ مثیر الاحزان)، ابن نما حلی، ص۲۵۴، حاذق، ایران، قم۔

 

📜 قال جعفر بن محمد الصادق (عليه السلام): كان عمنا العباس بن علي نافذ البصيرة

 

📃 امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا: "ہمارے چچا عباس بن علی گہری بصیرت رکھنے والے تھے۔"

 

📚 مقتل الحسین، ابو مخنف، ص 176

 

📜 قال الإمام الصادق (عليه السلام): كان عمنا العباس بن علي نافذ البصيرة، صلب الأيمان، جاهد مع أبي عبد الله، وأبلى بلاء حسنا ومضى شهيدا . 

 

📃 مقامِ حضرت عباس علیہ السلام

 

امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا:

 

"ہمارے چچا عباس بن علی گہری بصیرت رکھنے والے، مضبوط ایمان والے تھے۔ انہوں نے ابو عبداللہ (امام حسینؑ) کے ساتھ جہاد کیا، شجاعانہ کارنامے انجام دیے، اور شہادت کے درجے پر فائز ہوئے۔"

 

📚 الخصال، ج 1، ص 68.

 

▪️امام جعفر صادقؑ فرماتے ہیں:

 

📜کان عمّنا العباس بن علی نافذَ البصیرة، صلبَ الإیمان»

 

📃ہمارے چچا عباس بن علیؑ نہایت گہری بصیرت والے تھے اور ان کا ایمان انتہائی مضبوط تھا۔

 

🔺 یعنی معرفتِ خدا، رسولؐ اور امامؑ کے لحاظ سے وہ نہایت بلند درجے پر فائز تھے۔

 

📜جاهد مع أبی عبد الله وأبلی بلاءً حسنًا ومضی شهیدًا

 

📃 انہوں نے امام حسینؑ کے ساتھ جہاد کیا، نہایت عظیم امتحان دیا، اس الٰہی آزمائش میں کامیاب رہے اور شہادت کے درجے پر فائز ہوئے۔

 

📚 عمدة الطالب فی أنساب آل أبی طالب، احمد بن علی الحسینی (ابنِ عنبہ)، ص 356

 

◾ امام زمان(عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف) زیارت ناحیه میں حضرت عباس کو خطاب کرتے ہوئے فرمارہے ہیں: 

 

📜 السلام علی ابی الفضل العباس المواسی اخاه بنفسه

📃 ابوالفضل العباس پر سلام ہو، انھوں نے اپنے بھائی کی ہمدردی میں اپنی جان کی قربانی دیدی

 

📚 المزار الکبیر، ابن مشھدی،ص۴۸۹، دفتر انتشارات اسلامی،قم، ۱۴۱۹ق۔

 

#بدر_علی 

#تعلیمات_اہلبیت 

#اللھم_صلی_علی_العباس_ع