جناب عبّاس علیہ السلام کا علم

 

محقق مرحوم سید عبد الرزاق نے لکھا ہیکہ ائمہ علیہم السلام ارشاد فرماتے ہیں 

 

" انّ العبّاس بن علی زق العلم زقا "

 بیشک جناب عبّاس علیہ السلام کو علم اس طرح دیا گیا ہے جیسے کبوتر اپنے بجّے کو دانا بھراتا ہے ( العبّاس،)

 یہ تعبیر بہت لطیف تعبیر ہے کہ کبوتر کے غذا کو نرم کرکے اپنے بچّے کو کھلانے کو زقا کہا جاتا ہے، یہ تعبیر اس بات کی حکایت کرتی ہیکہ جناب عبّاس نے شیر مادر میں علم نوش فرمایا اور دامن علم و حکمت میں رشد کیا ، جناب عبّاس نے تین عصمتوں کی گود میں پرورش پائ ،جب عصمت علی کا سایہ ظاہر نہ رہا تو عصمت حسنی نے آپ پر سایہ کیا ،اور کچھ مدّت کے بعد جب عصمت حسنی نے الوداع کہا تو عصمت حسینی سایہ فگن ہوئ ؛اور پھر کربلا کے میدان میں آپ نے کڑی دھوپ اور شدّت تشنگی میں جام شہادت نوش فرمایا ؛

 خود یہ تینوں عصمتیں علم لدنّی کی مالک تھیں ؛

یہ تعبیر بتاتی ہیکہ جو علم بلا واسطہ ان عصمتوں تک پہونچا تھا وہی علم با واسطہ جناب عبّاس کو ایسے پہونچایا گیا جیسے کبوتر اپنے بچّے کو دانہ بھراتا ہے ۔

 

جناب عبّاس کے علم کے بارے میں مرحوم علّامہ محمد باقر پیرجندی لکھتے ہیں کہ "

 انّ العبّاس من اکابر فقہاء و افاضل اہل البیت بل انّہ عالم غیر متعلم و لیس فی ذالک منافات لتعلّم ابیہ ایّاہ"

( چہرہ درخشاں ،ج 2 ص310الکبریت الاحمر ،ج 2 ص،45)

علّامہ مامقانی آپکے بارے میں لکھتے ہیں کہ

" و قد کان من فقہاء اولاد الآیمئہ"

 جناب عبّاس اولاد ائمہ کے فقہاء میں سے ایک فقیہ تھے

 

( درخشاں ،ج 2 تنقیہ المقال ج 2 ص 128)-