اطاعت عباس علیہ السلام قابل اتباع ہے
بسم اللہ الرحمان الرحیم
اسلام علیکم
مع الاسف شدید برصغیر کے معاشرے کی ایک جہالت کے اظہار میں مجھے کوئی عار نہیں کہ ہم میں سے بعض نے لفظ عباس ع کو اور شخصیت عباس ع کو فقط جاہ و جلال تک محدود کردیا ہے- شاید ہمارے نزدیک عباس ع وہ شخصیت ہے جس کا پسندیدہ مشغلہ جنگ کرنا تھا اور جو اتنے غصے میں رہتا تھا کہ امام ع بھی عباس ع کے غصے کو دیکھ کر ڈر جاتے تھے__ ہم میں سے بعض نے فضیلت عباس ع کی جگہ تقصیر عباس ع شروع کردی ہے__ یہ مسئلہ علماء اور فضلاء کے درمیان تو بالکل ناپید ہے البتہ بعض جہلاء اور کم علم کو میں نے بنفس نفیس دیکھا ہے جو اپنے بچوں کا نام عباس سے تبدیل اس وجہ سے کرتے ہیں کیونکہ ان کے بچوں میں غصہ بہت ہوتا ہے تو وہ یوں گویا ہوتے ہیں:
''اس کا غصہ اس لئے زیادہ ہے کیونکہ اس کا نام عباس ہے- یہ بڑا جلالی ہے___''
تبصرہ از خیر طلب: انا للہ و انا الیہ راجعون__ کیا فقط عباس ع کا جاہ و جلال نظر آیا ان حضرات کو؟ کیا وہ وفائے عباس ع بھول گئے؟ کیا وہ محبت عباس ع بھولے گئے؟ کیا وہ مظلومیت عباس ع بھول گئے؟؟؟ کیا ہمیں معلوم نہیں کہ یہ جاہ و جلال حصار اطاعت امامت حسین ع تک محدود تھا__ میں تحدی دیتا ہوں کہ کوئی ثابت کرے کہ عباس ع کا غصہ اپنے نفس اور بڑھائی کے لئے تھا__ عباس ع کا غصہ حسین ع کے لئے_ عباس ع کی وفا حسین ع کے لئے__ شاید اگر لفظ عاشق الحسین کما حقہ کسی پر فٹ آتا ہو تو وہ شخصیت ابا الفضل باب الحوائج عباس علیہ السلام ہے__ آج ہم تمام کو چاہئے کہ سیرت ابا الفضل کو پڑھیں اور ان سے درر وفا کو سمیٹیں__
ایک واقعہ عرض ہے جو میں نے ایک ویب سائٹ سے لیا ہے، اس ویب سائٹ نے معتبر مقتل سے اسے بایں نقل کیا:
حسین ع کا خطاب شب عاشور:
آگاہ ہوجاؤ! میں یہ سمجھتا ہوں کہ ان دشمنوں کی شر انگیزیوں کی بنیاد پر کل ہماری زندگی کا آخری دن ہے۔ آگاہ ہوجاؤ! کہ میں نے اسی لئے تم لوگوں کے سلسلے میں یہ نظریہ قائم کیا ہے کہ تم سب کے سب ہماری بیعت سے آزاد ہو اورمیری طرف سے تم لوگوں پر کوئی پابندی نہیں ہے۔ یہ رات ہے جس نے تم سب کواپنے اندر ڈھانپ لیا ہے؛ تم لوگ اس سے فائدہ اٹھاکر اپنے لئے اسے حجاب و مرکب قرار دو اور تم میں سے ہر ایک ہمارے خاندان کی ایک ایک فرد کا ہاتھ پکڑ کر اپنے اپنے ملک اور شہر کی طرف نکل جائے یہاں تک کہ خدا گشائش کی راہ نکال دے ؛کیونکہ یہ قوم فقط میرے خون کی پیاسی ہے لہٰذا اگر وہ مجھے پالیتی ہے تو میرے علاوہ دوسروں سے غافل ہوجائے گی۔
حضرت ابا الفضل عباس بطل جری کا جواب:
:'' لِمَ نفعل ذالک؟ ألنبقی بعدک ؟ لاأرانا اللّٰہ ذالک أبداً!'' ہم ایسا کیوں کریں ؟ کیا فقط اس لئے کہ ہم آپ کے بعد زندہ و سلامت رہیں ؟ !خدا کبھی ہمیں ایسا دن نہ دکھائے ۔
نوٹ: ہائے عباس ع__ ہماری جانیں اس جملے پر قربان__ یہ جملہ ہمارے لئے اپنے وقت کے امام ع کو مخاطب کرنے کا سلیقہ اور طریقہ بتاتا ہے__ کیا ہم اپنے وقت کے امام کو یوں خطاب کرتے ہے؟؟ سیکھو سیرت عباس ع سے تو یہ سیکھو__ نام رکھو اپنے بچوں کا عباس تو اس نیت سے کہ یہ وفادار امام ع ہوگا، یہ عاشق امام ع ہوگا، یہ جاہ و جلال کا مالک ہوگا اطاعت امام ع کے لئے___
اسلام علیک یا اباالفضل، یا باب الحوائج__ ابد واللہ یا زھرا و یا ام البین و یا زینب و یا حسین ما ننسی ابا الفضل___
خیر طالب