┄┄┅═✧❁﷽❁✧═┅┄┄
### پہلی روایت: انساب الاشراف
مدائنی نے سعید بن خالد، جو قبیلۂ خزاعہ کے آزاد کردہ غلام تھے، سے اور انہوں نے موسیٰ بن عقبہ سے روایت کیا کہ:
جب لوگوں نے ابوبکر کی بیعت کر لی تو حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا ان کے پاس تشریف لے گئیں اور فرمایا:
’’بے شک ام ایمن اور رباح میرے حق میں گواہی دیتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فدک مجھے عطا فرمایا تھا۔‘‘
ابوبکر نے جواب دیا:
’’اللہ کی قسم! اللہ تعالیٰ کی مخلوقات میں مجھے تمہارے والد سے زیادہ کوئی محبوب نہیں۔ میری خواہش تھی کہ جس دن تمہارے والد کا انتقال ہوا، اسی دن قیامت برپا ہو جاتی۔ اللہ کی قسم! عائشہ کا محتاج ہو جانا مجھے اس بات سے زیادہ پسند ہے کہ تم محتاج ہو جاؤ۔
کیا تم یہ سمجھتی ہو کہ میں سیاہ فام اور سفید فام لوگوں کو ان کے حقوق تو دے دوں، لیکن تم پر ظلم کروں، حالانکہ تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیٹی ہو؟
یہ مال تو مسلمانوں کا تھا۔ تمہارے والد اس میں سے پیدل چلنے والے مجاہدین کے لیے خرچ کرتے اور اسے اللہ کی راہ میں صرف کرتے تھے۔ لہٰذا میں بھی اس مال کے معاملے میں وہی طریقہ اختیار کروں گا جو تمہارے والد اختیار کرتے تھے۔‘‘
حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا نے فرمایا:
’’اللہ کی قسم! اب میں تم سے کبھی بات نہیں کروں گی۔‘‘
ابوبکر نے کہا:
’’اللہ کی قسم! میں بھی تم سے قطع تعلق نہیں کروں گا۔‘‘
حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا نے فرمایا:
’’اللہ کی قسم! میں تمہارے خلاف اللہ سے دعا کروں گی۔‘‘
ابوبکر نے جواب دیا:
’’میں بھی تمہارے حق میں اللہ سے دعا کروں گا۔‘‘
📚 حوالہ: انساب الاشراف، جلد ۱۰، صفحہ ۷۹۔
### دوسری روایت: شرح نہج البلاغہ
اسی طرح کی ایک روایت ابوبکر جوہری نے ہشام بن محمد کلبی، اپنے والد محمد بن سائب کلبی کے واسطے سے نقل کی ہے۔
ابوبکر جوہری کہتے ہیں کہ ہشام بن محمد نے اپنے والد سے روایت کیا کہ حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا نے ابوبکر سے فرمایا:
’’بے شک ام ایمن میرے حق میں گواہی دیتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فدک مجھے عطا فرمایا تھا۔‘‘
ابوبکر نے ان سے کہا:
’’اے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیٹی! اللہ کی قسم! اللہ تعالیٰ کی مخلوقات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، یعنی تمہارے والد، سے زیادہ کوئی مجھے محبوب نہیں۔
میری خواہش تھی کہ جس دن تمہارے والد کا انتقال ہوا، اسی دن آسمان زمین پر گر پڑتا۔
اللہ کی قسم! عائشہ کا محتاج ہو جانا مجھے اس بات سے زیادہ پسند ہے کہ تم محتاج ہو جاؤ۔
کیا تم یہ سمجھتی ہو کہ میں سرخ فام اور سفید فام لوگوں کو ان کا حق تو دے دوں، لیکن تمہیں تمہارے حق سے محروم رکھ کر تم پر ظلم کروں، حالانکہ تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیٹی ہو؟
یہ مال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذاتی ملکیت نہیں تھا، بلکہ مسلمانوں کے اموال میں سے ایک مال تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کے ذریعے لوگوں کو (جہاد کے لیے) تیار کرتے اور اسے اللہ کی راہ میں خرچ کرتے تھے۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا انتقال ہو گیا تو میں نے اس مال کا انتظام اسی طرح سنبھال لیا، جس طرح آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اسے سنبھالتے تھے۔‘‘
حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا نے فرمایا:
’’اللہ کی قسم! میں تم سے کبھی بات نہیں کروں گی۔‘‘
ابوبکر نے کہا:
’’اللہ کی قسم! میں بھی تم سے کبھی قطع تعلق نہیں کروں گا۔‘‘
حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا نے فرمایا:
’’اللہ کی قسم! میں تمہارے خلاف اللہ سے دعا کروں گی۔‘‘
ابوبکر نے کہا:
’’اللہ کی قسم! میں تمہارے حق میں اللہ سے دعا کروں گا۔‘‘
پھر جب حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا کی وفات کا وقت قریب آیا تو آپ نے وصیت فرمائی کہ ابوبکر آپ کے جنازے کی نماز نہ پڑھیں۔ چنانچہ آپ کو رات کے وقت دفن کیا گیا، اور حضرت عباس بن عبدالمطلب نے آپ کی نمازِ جنازہ پڑھائی۔
راوی کے مطابق، حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا کی وفات اور آپ کے والد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات کے درمیان بہتر (۷۲) راتوں کا فاصلہ تھا۔
📚 حوالہ: شرح نہج البلاغہ، جلد ۱۶، صفحہ ۲۱۴۔
⭕ حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی جانب سے ہر نماز میں ابوبکر کے خلاف دعا کرنے کی روایت
▫️ ایک دوسری نقل میں الامامة والسیاسة میں بھی بیان ہوا ہے کہ حضرت صدیقۂ طاہرہ سلام اللہ علیہا نے فرمایا کہ وہ اپنی ہر نماز میں ابوبکر کے خلاف اللہ سے دعا کریں گی۔
عربی روایت کا ترجمہ:
عمر نے ابوبکر رضی اللہ عنہما سے کہا: ’’آئیے، ہم دونوں فاطمہ کے پاس چلتے ہیں، کیونکہ ہم نے انہیں ناراض کر دیا ہے۔‘‘
چنانچہ دونوں روانہ ہوئے اور حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا کے پاس آنے کی اجازت طلب کی، لیکن آپ نے انہیں اجازت نہیں دی۔ پھر دونوں حضرت علی علیہ السلام کے پاس آئے اور ان سے بات کی۔ حضرت علی علیہ السلام نے انہیں حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا کے پاس آنے کی اجازت دے دی۔
جب دونوں حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا کے پاس بیٹھ گئے تو آپ نے اپنا چہرہ دیوار کی طرف پھیر لیا۔ دونوں نے آپ کو سلام کیا، لیکن آپ نے ان کے سلام کا جواب نہیں دیا۔
ابوبکر نے گفتگو شروع کی اور کہا:
’’اے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی محبوبہ! اللہ کی قسم! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے رشتہ دار میرے نزدیک میرے اپنے رشتہ داروں سے زیادہ محبوب ہیں، اور آپ میری بیٹی عائشہ سے بھی زیادہ مجھے عزیز ہیں۔
میری خواہش تھی کہ جس دن آپ کے والد کا انتقال ہوا، اسی دن میں بھی مر جاتا اور ان کے بعد زندہ نہ رہتا۔
کیا آپ یہ سمجھتی ہیں کہ میں آپ کو پہچانتا ہوں، آپ کے مقام و مرتبے اور فضیلت کو جانتا ہوں، لیکن اس کے باوجود آپ کو آپ کا حق اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اپنی میراث دینے سے انکار کرتا ہوں؟
بات صرف یہ ہے کہ میں نے آپ کے والد، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے:
’ہم انبیاء میراث نہیں چھوڑتے؛ ہم جو کچھ چھوڑ جائیں، وہ صدقہ ہوتا ہے۔‘‘‘
حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا نے فرمایا:
’’اگر میں تم دونوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی کوئی ایسی حدیث بتاؤں جسے تم دونوں جانتے ہو، تو کیا تم اس کے مطابق عمل کرو گے؟‘‘
دونوں نے کہا: ’’ہاں۔‘‘
آپ نے فرمایا:
’’میں تم دونوں کو اللہ کی قسم دے کر پوچھتی ہوں، کیا تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے نہیں سنا:
’فاطمہ کی خوشی میری خوشی ہے، اور فاطمہ کی ناراضی میری ناراضی ہے۔ جس نے میری بیٹی فاطمہ سے محبت کی، اس نے مجھ سے محبت کی؛ جس نے فاطمہ کو خوش کیا، اس نے مجھے خوش کیا؛ اور جس نے فاطمہ کو ناراض کیا، اس نے مجھے ناراض کیا۔‘
دونوں نے کہا: ’’ہاں، ہم نے یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنی ہے۔‘‘
حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا نے فرمایا:
’’پس میں اللہ اور اس کے فرشتوں کو گواہ بناتی ہوں کہ تم دونوں نے مجھے ناراض کیا ہے اور مجھے خوش نہیں کیا۔ اگر میری ملاقات نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ہوئی تو میں تم دونوں کی شکایت آپ سے کروں گی۔‘‘
ابوبکر نے کہا:
’’اے فاطمہ! میں اللہ تعالیٰ کی ناراضی اور آپ کی ناراضی سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں۔‘‘
اس کے بعد ابوبکر بلند آواز سے رونے لگے، یہاں تک کہ قریب تھا کہ ان کی جان نکل جائے۔
جبکہ حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا فرماتی رہیں:
’’اللہ کی قسم! میں اپنی ہر نماز میں جو بھی پڑھوں گی، اس میں تمہارے خلاف اللہ سے دعا کروں گی۔‘‘
📚 حوالہ: الامامة والسیاسة، جلد ۱، صفحہ ۳۱۔
دوسری روایت: ابوعثمان جاحظ کی رسالۂ عباسیہ
▫️ ابوعثمان جاحظ (وفات ۲۵۵ ہجری) نے بھی اپنی رسالۂ عباسیہ میں اس بات کی طرف اشارہ کیا ہے کہ حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا نے ابوبکر سے فرمایا تھا کہ وہ ان کے خلاف دعا کریں گی۔
عربی عبارت کا ترجمہ:
ابوعثمان کہتے ہیں:
کچھ لوگوں کا دعویٰ ہے کہ میراث سے محروم کرنے کے معاملے میں ابوبکر اور عمر کی بات کی سچائی اور ان دونوں کی بے گناہی کی دلیل یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ نے ان دونوں پر اعتراض نہیں کیا۔
ان سے کہا جا سکتا ہے:
اگر اعتراض نہ کرنا ان دونوں کی بات کی سچائی کی دلیل ہے، تو پھر ان لوگوں پر اعتراض نہ کرنا جو ان دونوں کے خلاف ظلم کی شکایت کرتے، احتجاج کرتے اور اپنے حقوق کا مطالبہ کرتے رہے، ان کے دعوے کی سچائی یا ان کی بات کے درست ہونے کی دلیل کیوں نہیں ہے؟
خصوصاً اس لیے کہ اس معاملے میں طویل سرگوشیاں، بار بار گفتگو، مسلسل بحث و تکرار، شکایات کا اظہار اور شدید ناراضی سامنے آئی۔
یہ معاملہ حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا کے بارے میں اس حد تک پہنچا کہ آپ نے وصیت فرمائی کہ ابوبکر آپ کی نمازِ جنازہ نہ پڑھیں۔
حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا نے جب اپنے حق کا مطالبہ کرتے ہوئے اور اپنے خاندان کے حق میں دلیل پیش کرتے ہوئے ابوبکر سے کہا تھا:
’’اے ابوبکر! جب تم فوت ہو جاؤ گے تو تمہارا وارث کون ہوگا؟‘‘
ابوبکر نے جواب دیا: ’’میرے اہل و عیال اور میری اولاد۔‘‘
حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا نے فرمایا:
’’پھر کیا وجہ ہے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وارث نہیں بنتے؟‘‘
جب ابوبکر نے آپ کو میراث دینے سے روک دیا، آپ کے حق میں کمی کی، عذر پیش کیے اور اپنے موقف پر اصرار کیا، اور حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا نے اپنے حق کو پامال ہوتے دیکھا، تو آپ کو اس معاملے میں ان کی جانب سے پرہیزگاری کی امید نہ رہی۔ آپ نے اپنی کمزوری اور مددگاروں کی کمی کو محسوس کیا، تو فرمایا:
’’اللہ کی قسم! میں تمہارے خلاف اللہ سے دعا کروں گی۔‘‘
ابوبکر نے کہا: ’’اللہ کی قسم! میں تمہارے حق میں اللہ سے دعا کروں گا۔‘‘
حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا نے فرمایا: ’’اللہ کی قسم! میں تم سے کبھی بات نہیں کروں گی۔‘‘
ابوبکر نے کہا: ’’اللہ کی قسم! میں تم سے قطع تعلق نہیں کروں گا۔‘‘
پس اگر ابوبکر کے خلاف اعتراض نہ ہونا اس بات کی دلیل ہے کہ حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا کو میراث سے محروم کرنا درست تھا، تو حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا کے خلاف اعتراض نہ ہونا اس بات کی دلیل کیوں نہیں کہ آپ کا اپنا حق طلب کرنا درست تھا؟
کم از کم ان لوگوں پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی تھی کہ وہ حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا کو وہ بات سمجھاتے جس سے آپ ناواقف تھیں، جو بات آپ بھول گئی تھیں اسے یاد دلاتے، آپ کو غلطی سے روکتے، آپ کے مقام و مرتبے کو اس بات سے بلند رکھتے کہ آپ کوئی نامناسب بات کہیں، کوئی خلافِ حق بات کریں، کسی انصاف کرنے والے پر ظلم کا الزام لگائیں یا کسی تعلق کو توڑ دیں۔
پس جب یہ ثابت نہیں ہوتا کہ لوگوں نے ان دونوں فریقوں میں سے کسی ایک پر بھی اعتراض کیا ہو، تو دونوں طرف کے معاملات برابر ہو جاتے ہیں اور دلائل کی حیثیت بھی یکساں ہو جاتی ہے۔
لہٰذا میراث کے بارے میں اللہ تعالیٰ کے اصل حکم کی طرف رجوع کرنا ہمارے اور تمہارے لیے زیادہ مناسب اور ہم سب پر زیادہ لازم ہے۔
📚 حوالہ جات:
* الرسائل السياسية، صفحہ ۴۶۷، رسالۂ عباسیہ۔
* شرح نہج البلاغہ، جلد ۱۶، صفحہ ۲۶۴، جاحظ کے حوالے سے۔
Gallery
Tap any image to view full screen