بیبی فاطمہ زہراء سلام اللہ علیہا سے منسوب خطبے کی ایک عبارت کی تشریح
⚜ بیبی فاطمہ زہراء سلام اللہ علیہا سے منسوب خطبے کی ایک عبارت کی تشریح
• اگر ہم یہ کہیں کہ اللہ تعالیٰ نے کائنات کو ’’کسی چیز کے بغیر‘‘ (مِنْ لَا شَيْءٍ) پیدا کیا ہے، تو کلامی تجزیے کے اعتبار سے اس تعبیر کے لغوی مفہوم سے یہ غلط فہمی پیدا ہوتی ہے کہ گویا ’’کچھ نہ ہونا‘‘ یا ’’عدم‘‘ بذاتِ خود کوئی چیز یا مادہ تھا، جسے اللہ تعالیٰ نے تخلیق کے لیے استعمال کیا۔ حالانکہ عدم سرے سے کوئی چیز نہیں ہے اور نہ ہی وہ تخلیق کا مادہ بن سکتا ہے۔
• اگر خالقِ متعال اشیاء کو کسی ’’چیز‘‘ سے پیدا کرے، تو وہ چیز بھی خود ایک خالق کی محتاج ہوگی۔ پھر یہ سلسلہ لامتناہی طور پر چلتا رہے گا، جسے تسلسل کہا جاتا ہے، اور یہ باطل ہے۔ لہٰذا ناگزیر طور پر ہمیں یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ اللہ تعالیٰ نے اشیاء کو ’’لا مِنْ شَيْءٍ‘‘ یعنی کسی سابقہ مادّے کے بغیر پیدا کیا ہے۔
📖 حوالہ: کشف المحجّة فی شرح خطبۃ اللُمّۃ، صفحہ 43
#بدر_علی
Gallery
Tap any image to view full screen