محمد احمد باشمیل (وهابی عالم): کہتا ہے کہ ابو جہل، ابو لہب اور دوسرے مشر/کین خالص موحد تھے!
💥 محمد احمد باشمیل (وهابی عالم): کہتا ہے کہ ابو جہل، ابو لہب اور دوسرے مشر/کین خالص موحد تھے!
وهابیوں کا ایک عجیب و غریب نظریہ یہ بھی ہے کہ:
ابو جہل، ابو لہب اور ان جیسے دوسرے مشر/کین درحقیقت "موحد خالص" تھے!
جبکہ وہ اہلِ اسلام، خصوصاً شیعہ اور کئی سنی مسلمانوں کو "مشرک" کہتے ہیں۔
👈🏻 اصل عربی عبارت:
📜 "أبو جهل وأبو لهب ومن على دینهم من المشرکین، کانوا یؤمنون بالله ویوحدونه فی الربوبیة خالقاً ورازقاً، محییا وممیتا، ضاراً ونافعاً، لا یشرکون به فی ذلک شیئاً."
📃 ابو جہل اور ابو لہب اور ان کے دین پر چلنے والے مشرکین، اللہ پر ایمان رکھتے تھے اور ربوبیت (یعنی خالق، رازق، زندگی دینے اور موت دینے والا، نفع و نقصان پہنچانے والا) کے لحاظ سے اسے واحد اور یکتا مانتے تھے، اور اس میں ذرہ برابر بھی شرک نہیں کرتے تھے۔
❓ جب کسی نے ان سے سوال کیا کہ یہ کیسا عجیب عقیدہ ہے؟ تو باشمیل نے جواب دیا:
📜 "یہ بات عجیب یا حیرت انگیز نہیں ہے، بلکہ یہی حقیقت ہے، اور ان شاء اللہ جب تمہارے سامنے حقائق واضح ہوں گے تو تم بھی اسے جان لو گے اور تسلیم کر لو گے۔"
📚 کیف نفهم التوحید، ص12
❗ تضاد:
وهابی خود اپنی فتاویٰ ویب سائٹس پر ابو جہل اور ابو لہب کو "مش/رک، کف/ار، اور معاندینِ حق" کہتے ہیں:
فتویٰ 1
http://fatwa.islamweb.net/fatwa/index.php?page=showfatwa&Option=FatwaId&Id=243898
فتویٰ 2
http://fatwa.islamweb.net/fatwa/index.php?page=showfatwa&Option=FatwaId&Id=96848
📌 نتیجہ:
یعنی:
ابو جہل اور ابو لہب جیسے قرآنی سطح پر لع/نت یافتہ کف/ار کو یہ لوگ "موحد خالص" کہہ رہے ہیں۔
اور دوسری طرف شیعہ اور بہت سے سنی مسلمانوں کو مشر/ک، بد/عتی، اور جا/ہل قرار دیتے ہیں۔
یہ وہی "تحریف شدہ توحید" ہے جو ابن تیمیہ، محمد بن عبد الوہاب اور ان کے پیروکاروں کی فکر میں پائی جاتی ہے، جو الفاظ کا ہیر پھیر کر کے اصل عقائد کو الٹا پیش کرتے ہیں۔۔
Gallery
Tap any image to view full screen