🔴 اہل سنت اور مجسم خدا 🔴
پوسٹ نمبر 7
▪ وهابیوں کا خدا "آنکھ" رکھتا ہے
رسول اکرم ﷺ نے ایک دن لوگوں کے درمیان دجال کے بارے میں گفتگو فرمائی اور دورانِ گفتگو فرمایا:
📜 إِنَّ اللَّهَ لَيْسَ بِأَعْوَرَ، أَلاَ إِنَّ المَسِيحَ الدَّجَّالَ أَعْوَرُ العَيْنِ اليُمْنَى
📃 "بے شک اللہ کانا نہیں ہے، یاد رکھو! مسیح دجال کی دائیں آنکھ کانا ہے۔"
📚 صحیح بخاری، ج3، ص1269، باب 49، ح 3256
دار ابن کثیر، الیمامہ – بیروت، ط 3، 1407ھ / 1987ء، تحقیق: مصطفی دیب البغا
▪ وهابیوں کا خدا "پاؤں" بھی رکھتا ہے
پیغمبر اکرم ﷺ نے فرمایا:
📜 لَا تَزَالُ جَهَنَّمُ تَقُولُ: هَلْ مِنْ مَزِيدٍ، حَتَّى يَضَعَ رَبُّ العِزَّةِ فِيهَا قَدَمَهُ، فَتَقُولُ: قَطْ قَطْ وَ عِزَّتِكَ
📃 "جہنم برابر کہتی رہے گی: کیا اور بھی (عذاب کے لیے) ہے؟ یہاں تک کہ ربّ العزّت اس میں اپنا قدم رکھے گا۔ تب جہنم کہے گی: بس بس! تیری عزت کی قسم (اب اور نہیں)۔"
📚 صحیح بخاری، ج8، ص134، باب الحلف بعزة الله وصفاته وكلماته، ح 6661
ناشر: دار طوق النجاة، ط1، 1422ھ، تحقیق: محمد زہیر بن ناصر الناصر
▪ وهابیوں کا خدا "ہاتھ" بھی رکھتا ہے
ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ رسول خدا ﷺ نے فرمایا:
📜 إِنَّ يَمِينَ اللَّهِ مَلْأَى، لَا يَغِيضُهَا نَفَقَةٌ... أَرَأَيْتُمْ مَا أَنْفَقَ مُنْذُ خَلَقَ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضَ، فَإِنَّهُ لَمْ يَنْقُصْ مَا فِي يَمِينِهِ، وَبِيَدِهِ الأُخْرَى الفَيْضُ (أَوِ القَبْضُ) يَرْفَعُ وَيَخْفِضُ
📃 "اللہ کا دایاں ہاتھ بھرا ہوا ہے، اس کے انفاق سے کبھی کمی نہیں آتی۔ دیکھو! اس نے جب سے آسمان و زمین کو پیدا کیا ہے انفاق کیا ہے، لیکن اس کے دائیں ہاتھ میں کمی نہیں آئی۔ اور اس کے دوسرے ہاتھ میں فضل (یا قبض) ہے، وہ بلند و پست کرتا ہے۔"
📚 صحیح بخاری، ج6، ص2699، کتاب التوحید، باب وکان عرشه علی الماء، ح 6983
دار ابن کثیر، الیمامہ – بیروت، ط 3، 1407ھ / 1987ء، تحقیق: مصطفی دیب البغا
▪ وهابیوں کا خدا "اونٹ پر سوار" بھی ہوتا ہے!
ابو رزین روایت کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا:
📜 رَأَيْتُ رَبِّي بِمِنًى عِنْدَ النَّفْرِ عَلَى جَمَلٍ أَوْرَقَ عَلَيْهِ جُبَّةٌ
📃 "میں نے اپنے رب کو منیٰ میں دیکھا، جب لوگ مکہ کی طرف کوچ کر رہے تھے۔ وہ ایک خاکستری اونٹ پر سوار تھا اور اس پر ایک لمبا جبہ تھا۔"
📚 سیر أعلام النبلاء، ذہبی، ج18، باب أحمد بن محمد بن عبدوس الزعفرانی، ص16
ناشر: مؤسسة الرسالة – بیروت، ط 9، 1413ھ، تحقیق: شعیب الأرناؤوط و محمد نعیم العرقسوسی
📚 لسان المیزان، ابن حجر عسقلانی، ج2، باب من اسمه حسن، ص238
ناشر: مؤسسة الأعلمی للمطبوعات – بیروت، ط 3، 1406ھ / 1986ء
👈🏼 خداوند عمریه (طبق عقیدہ وهابیہ و اهلسنت)
بعد از خلقت، پشت کے بل لیٹا اور ایک پاؤں دوسرے پر رکھا
عبید بن حنین روایت کرتا ہے:
📜 "میں بیٹھا ہوا تھا کہ قتادہ بن نعمان میرے پاس آیا اور کہا: آؤ ابوسعید خدری کے پاس چلیں کیونکہ میں نے کچھ خبر سنی ہے جس سے میں پریشان ہوں۔ ہم ابوسعید خدری کے پاس گئے تو دیکھا کہ وہ پشت کے بل لیٹے ہوئے ہیں اور اپنی دائیں ٹانگ کو بائیں پر رکھے ہوئے ہیں۔ ہم نے سلام کیا اور بیٹھ گئے۔ قتادہ نے آگے بڑھ کر ابوسعید کی ٹانگ کو زور سے نیشگون لیا۔ ابوسعید نے کہا: سبحان الله! اے ابن آدم! تم نے مجھے اذیت دی ہے۔ قتادہ نے جواب دیا: ہاں، میں نے یہی کرنا چاہا۔
پھر قتادہ نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب اللہ عزوجل نے اپنی مخلوق کی تخلیق مکمل کی، تو وہ پشت کے بل لیٹ گیا اور اپنی ایک ٹانگ کو دوسری پر رکھا، اور فرمایا: میرے کسی بندے کے لیے یہ مناسب نہیں کہ ایسا کرے۔
ابوسعید نے کہا: بخدا! میں پھر کبھی ایسا نہیں کروں گا۔"
📚 المعجم الکبیر، طبرانی، ج19، ص13، حدیث 18
تحقیق: حمدی بن عبدالمجید سلفیا، مکتبہ ابن تیمیہ – قاہرہ، ط 2
👈 أبو یعلی کی تصحیح
ابو یعلی نے اس روایت کو نقل کرنے کے بعد لکھا ہے:
📜 قال أبو محمد الخلال: هذا حديث إسناده كلهم ثقات، وهم مع ثقتهم شرط الصحيحين.
📃 "ابو محمد خلال کہتے ہیں: اس حدیث کے تمام راوی ثقہ ہیں اور ان کی ثقاہت کے ساتھ یہ روایت صحیح بخاری اور صحیح مسلم کی شرط پر ہے۔"
📚 إبطال التأويلات لأخبار الصفات، أبو يعلی، ج1، ص188-189
دار الإمام الذهبي، کویت، 1410ھ
✅ اس روایت کو وہابی و سلفی محدثین نے بھی صحیح الاسناد کہا ہے، جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ان کے عقیدے کے مطابق خدا جسمانی ہے، لیٹتا ہے اور پاؤں پر پاؤں رکھتا ہے (معاذ الله)۔
⭕ نتیجہ
ان سب روایات سے ظاہر ہوتا ہے کہ وهابیوں کا عقیدہ خدا کو آنکھ، ہاتھ، پاؤں، جسم اور سواریاں دینے کا ہے، جبکہ قرآن و اہل بیتؑ کی تعلیم یہ ہے کہ اللّٰہ جسم و جسمانی صفات سے منزہ و پاک ہے۔
Invisibleislam.com
Gallery
Tap any image to view full screen