Back to عقیدہ توحید

عقیدہ تجسیم اور اہل سنت post-5

عقیدہ تجسیم اور اہل سنت post-5
عقیدہ تجسیم اور اہل سنت post-5
عقیدہ تجسیم اور اہل سنت post-5

مجسم خدا اور اہل سنت

 

پوسٹ نمبر 5

 

ابن عساکر (شافعی مذہب کے علما میں سے): کہتے ہیں 

حنبلی مذہب کے بعض لوگ اوباش اور جاہل ہیں، جو یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ایک نوجوان کی صورت میں، جو خچر پر سوار ہوتا ہے، زمین پر آتا ہے!

 

آج کل کے سلفی اور وہابی لوگ اس عقیدے کو اپنا مستحکم عقیدہ مانتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے لیے ہاتھ، پاؤں، آنکھ، سونگھنے کی حس وغیرہ ہے۔ باوجود ان باطل اور شر/ک آلود عقائد کے، یہ لوگ خود کو "اہلِ توحید" کہتے ہیں! دلچسپ بات یہ ہے کہ ان عقائد کی جڑیں بعض حنبلیوں کے ہاں پائی جاتی ہیں، جن پر ابن عساکر دمشقی (شافعی عالم دین) نے سخت تنقید کی اور ان کے عقائد کی حقیقت پر روشنی ڈالی۔

 

ابن عساکر لکھتے ہیں:

 

"بعض حشویہ اور اوباش، جنہیں حنبلی کہا جاتا ہے، انہوں نے بغداد میں ایسے بدترین بدعتی اور شرمناک عقائد ظاہر کیے جن کی اجازت کوئی ملحد بھی نہیں دیتا، چہ جائیکہ کوئی موحد دے۔ کسی بھی دین کو باطل قرار دینے والا یا عقلیت کو رد کرنے والا بھی ایسی باتوں کو جائز نہیں مانتا۔ انہوں نے اللہ تعالیٰ کے متعلق ایسی باتیں کہی جو اس کی ذات سے پاک و منزہ ہیں۔

 

وہ اللہ کو نقائص، عیب، حدوث (پیدا ہونے)، مشابہت، حلول، زوال، تغیر، حادثات میں داخل ہونے سے پاک نہیں مانتے۔ یہ سب اقوال کفر، سرکشی اور اہلِ حق و ایمان سے دشمنی کے مترادف ہیں۔

 

ان لوگوں نے سابقہ ائمہ، اہلِ حق، اور دین دار جماعت کو گالیاں دیں، ان پر لعنت کی، اور یہ سب کچھ مسجدوں، اجتماعات، بازاروں، راستوں، تنہائیوں اور مجالس میں کیا۔ پھر ان کی لالچ، غفلت، اور گمراہی نے انہیں اس حد تک پہنچا دیا کہ وہ اس شخصیت پر بھی طعن کرنے لگے جسے ائمۂ ہدیٰ اپنا سہارا سمجھتے تھے، جو شریعت کا مضبوط سہارا (عروہ وثقیٰ) تھا۔

 

انہوں نے اس کے دینی اعمال کو پست گناہ قرار دیا اور پھر امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ اور ان کے اصحاب تک پر طعن کرنا شروع کر دیا۔"

 

ابن عساکر مزید لکھتے ہیں:

 

"حشویہ نے اپنی گمراہی اور جہالت پر اصرار کیا، اور واضح طور پر کہا کہ معبود (اللہ) کے پاؤں، دانت، گلا، انگلیاں ہیں، اور وہ خود اپنی ذات کے ساتھ ایک جوان، بے ریش، گھنگھریالے بالوں والے کی صورت میں، جو چمکدار تاج پہنے اور سونے کی جوتیاں پہنے ایک خچر پر سوار ہو کر زمین پر اترتا ہے۔

 

انہوں نے اس عقیدے کو اپنے طور پر جواز دیا، کتابوں میں لکھا، اور عوام میں پھیلا دیا۔"

 

📚 تبیین کذب المفتری فیما نسب الی الامام ابی الحسن الاشعری، ص 310–311، ط دارالفکر

Gallery

Tap any image to view full screen

Gallery Image 1
Gallery Image 2
Gallery Image 3