Back to عقیدہ توحید

عقیدہ تجسیم اور اہل سنت post-3

عقیدہ تجسیم اور اہل سنت post-3
عقیدہ تجسیم اور اہل سنت post-3
عقیدہ تجسیم اور اہل سنت post-3

⭕ مجسم خدا اور اہل سنت

 

بن باز وهابی عالم کہتا ہے کہ خدا کے دو آنکھیں ہیں، اس سے زیادہ نہیں!

 

پوسٹ نمبر 3

 

وهابی ہمیشہ خود کو توحید کے عَلَم بردار سمجھتے ہیں اور اپنے لیے "موحد" کا لقب پسند کرتے ہیں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ جس خدا کو وہ بیان کرتے ہیں، اس پر ان کا ایمان تجسیم (خدا کو جسم والا ماننا) اور تشبیہ (خدا کو مخلوق جیسا ماننا) پر مبنی ہے، جسے مسلم علما کفر آمیز عقیدہ شمار کرتے ہیں۔

اگرچہ وهابی اس الزام سے بچنے کی کوشش کرتے ہیں، لیکن ان کی کتابیں اور عقائد خود اس بات کا ثبوت ہیں کہ وہ چاہیں یا نہ چاہیں، وہ تجسیم اور تشبیہ کے قائل ہیں۔

 

بن باز وهابی نے ایک سوال کے جواب میں اپنے اس باطل عقیدہ کو ظاہر کر دیا:

 

❓ سوال:

حدیث "إِنَّ رَبَّكُمْ لَيْسَ بِأَعْوَرَ" (یقیناً تمہارا رب کانا نہیں ہے) — کیا یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ خدا کی دو آنکھیں ہیں؟

✅ جواب بن باز: ہاں۔

 

❓ سوال:

کیا اس سے زیادہ (یعنی تین یا چار آنکھیں) کسی روایت میں ثابت ہوا ہے؟

❌ جواب بن باز: نہیں، بلکہ صرف دو آنکھیں۔

 

ماخذ:

📘 مسائل الإمام ابن باز (المجموعة الثانية)، ص 10، دار التدمریة

 

یہ ہے وهابیوں کا "توحید" — جس میں خدا کے لیے جسمانی اعضاء جیسے ہاتھ، پاؤں، آنکھیں، چہرہ وغیرہ ثابت کیے جاتے ہیں، اور پھر نرمی سے کہا جاتا ہے کہ "یہ آنکھیں انسان کی آنکھوں جیسی نہیں"۔

حالانکہ قرآن واضح طور پر کہتا ہے:

 

"لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَيْءٌ"

(اس جیسا کوئی بھی چیز نہیں ہے)

📚 سورۃ الشوریٰ، آیت 11

 

ایسے عقائد رکھنے والے لوگ، جو اللہ کے لیے انسانی صفات اور جسم ثابت کرتے ہیں، حقیقت میں خدا کو مخلوق کی طرح بنا دیتے ہیں، اور یہ عقیدہ اہل سنت، اشاعرہ، ماتریدیہ، اور شیعہ علما کے نزدیک باطل، فا/سد اور ک/فر کے قریب ہے۔

Gallery

Tap any image to view full screen

Gallery Image 1
Gallery Image 2
Gallery Image 3