Back to عقیدہ توحید

عقیدہ تجسیم اور اہل سنت post-2

عقیدہ تجسیم اور اہل سنت post-2
عقیدہ تجسیم اور اہل سنت post-2
عقیدہ تجسیم اور اہل سنت post-2

⭕ مجسم خدا اور اہل سنت

 

پوسٹ نمبر 2

 

بن عثیمین (وهابی) اور تشبیہ کا عقیدہ

 

بن عثیمین وهابی ہے اور وہ یہ عقیدہ رکھتا ہے کہ خداوند کے ہاتھ، پاؤں، آنکھ، اور چہرہ ہیں اور وہ انسان کی مانند ہے!

وهابی ہمیشہ خود کو توحید کا علمبردار کہتے ہیں اور اپنے لیے "موحد" کا لقب اختیار کرتے ہیں، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ وہ جس خدا کا تصور پیش کرتے ہیں، اس میں تجسیم (جسمانی شکل دینے) اور تشبیہ (مخلوق سے مشابہت) کا تصور موجود ہے، جسے امتِ مسلمہ کے علمائے کرام نے کفر آمیز عقیدہ قرار دیا ہے۔

 

اگرچہ وهابی اس بات کی کوشش کرتے ہیں کہ وہ اپنے اوپر تجسیم و تشبیہ کا الزام نہ آنے دیں، لیکن ان کی تحریریں اور عقائد خود گواہ ہیں کہ وہ، چاہیں یا نہ چاہیں، اس عقیدے کو ماننے پر مجبور ہیں۔

 

اس مضمون میں ہم معاصر وهابیت کے ایک نمایاں عالم ابن عثیمین کے ایک قول کو پیش کرتے ہیں جو کہ سراسر تشبیہ ہے:

 

📜 "ہم کہتے ہیں: اللہ عزوجل کا چہرہ ہے، آنکھ ہے، ہاتھ ہے، پاؤں ہے... لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ یہ چیزیں انسان کی مانند ہوں۔ یہاں کچھ مشابہت ضرور ہے، مگر مماثلت (یعنی بالکل ویسا ہونا) نہیں ہے..."

 

📚شرح العقیدہ الواسطیة، ج1، ص110، طبع دار ابن الجوزی

 

سبحان اللہ! ابن عثیمین وهابی – خدا اسے ذلیل کرے – خدا کے لیے آنکھ، ہاتھ، پاؤں اور چہرہ ثابت کرتا ہے اور پھر صاف کہتا ہے کہ ان میں "کچھ مشابہت" ہے، اور یہی عقیدہِ مشبّہہ ہے، جو کف/ر ہے۔

 

مشبّہہ اور مجسّمہ کون ہیں؟

 

وہ لوگ جو خدا کو اس کی مخلوق کے مشابہ قرار دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ خدا بھی ایک جسم ہے، چاہے وہ عام اجسام کی مانند ہو یا کچھ مختلف – وہی مشبّہہ اور مجسّمہ کہلاتے ہیں۔

 

📜 "معطلہ، مشبہہ، اور مجسمہ سب بدعت اور گمراہی کے پیروکار ہیں، بلکہ ان میں سے بعض کا عقیدہ کفر تک پہنچ جاتا ہے۔"

 

📚 نقض کلام المفترین علی الحنابلہ السلفیین، ص14، طبع مکتبہ ابن تیمیہ

 

مشبّہہ کا انحراف:

 

📜 "یہ لوگ وہ سب کچھ خدا کے لیے ثابت کرتے ہیں جو اللہ نے اپنے لیے فرمایا ہے، مگر وہ اسے مخلوق سے پاک نہیں مانتے..."

 

📚 العقیدة فی الله، ص222، طبع دار النفائس

 

ان میں سے بعض کہتے ہیں:

 

📜 "اللہ انسان کی صورت پر ہے!"

📜 "اللہ شبِ عرفہ کے وقت اونٹ پر سوار ہو کر نازل ہوتا ہے!"

📜 "اللہ مصافحہ کرتا ہے، ملاقات کرتا ہے، گپ شپ کرتا ہے، اور گلے لگاتا ہے!"

 

تعالیٰ اللہ عما یقولون علواً کبیراً

(اللہ ان کے کہنے سے بہت بلند ہے!)

 

یہ سب مشبّہہ ک/فر ہیں کیونکہ انہوں نے اللہ کو مخلوق کے مشابہ قرار دیا، اس کے اسماء و صفات میں شرک کیا، اور جو اللہ کو مخلوق جیسا مانے، وہ درحقیقت اللہ کی عبادت نہیں کرتا بلکہ ایک ایسے بت کی عبادت کرتا ہے جو اس کے تخیّل نے گھڑا ہو، جیسے عیسائیوں نے اللہ کے سوا کو پوجا اور تثلیث کا عقیدہ بنایا۔

 

بن عثیمین وهابی: 

 

👈🏻 "اگر خدا جسم ہو تو بھی کوئی حرج نہیں!"

 

ابن تیمیہ کے گمراہ کن مکتب فکر کے پیروکار، جو خود کو "موحد" اور "اہلِ توحید" کہتے ہیں، توحید کے مسئلے میں اتنے آگے بڑھ گئے ہیں کہ یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ اگر خدا جسم بھی ہو، تو بھی کوئی قباحت نہیں!

 

بن عثیمین وهابی کہتا ہے:

 

📜 "اگر اللہ تعالیٰ کو دیکھنے کے لیے یہ لازم ہو کہ وہ جسم ہو، تو ایسا ہی ہو، لیکن ہمیں یقین کامل ہے کہ وہ مخلوق کے اجسام کی مانند نہیں ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: {لَیْسَ کَمِثْلِهِ شَیْءٌ وَهُوَ السَّمِیعُ الْبَصِیرُ} [الشوریٰ: 11]۔

 

علاوہ ازیں، خدا کے جسم ہونے یا نہ ہونے کا مسئلہ وہ چیز ہے جو متکلمین (علم کلام کے ماہرین) نے ایجاد کی ہے، اور قرآن و سنت میں نہ اس کے اثبات میں کچھ آیا ہے، نہ اس کی نفی میں۔"

 

📚 شرح العقیدة الواسطیة، جلد 1، صفحہ 458، طبع دار ابن الجوزی

 

لہٰذا بن عثیمین کے اس کلام کی روشنی میں:

 

الف) خدا ممکن ہے جسم ہو، لیکن اس کا جسم مخلوق کے جسموں جیسا نہیں ہے۔

ب)اللّه کے ہاتھ پاؤں آنکھ میں کچھ مشابہت ہے

ج) خدا کے جسم ہونے یا نہ ہونے کا موضوع ایک بدعت ہے جو متکلمین نے پیدا کی، اور قرآن و سنت میں اس بارے میں کوئی واضح بات موجود نہیں ہے۔

Gallery

Tap any image to view full screen

Gallery Image 1
Gallery Image 2
Gallery Image 3