⭕ مجسم خدا اور اہل سنت
پوسٹ نمبر 1
یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جسے بہت سے شیعہ مخالفین، خاص طور پر سلفی، "توحید" کے نام پر اُٹھاتے ہیں۔ تجربہ بتاتا ہے کہ جن مسائل میں یہ لوگ بڑے بڑے دعوے کرتے ہیں، وہیں پر ان کے اندر سب سے زیادہ کمزوریاں اور تضادات ہوتے ہیں۔ چنانچہ وہ ان خرابیوں کو چھپانے کے لیے ظاہری دعووں اور جھوٹی تشہیر کا سہارا لیتے ہیں تاکہ اپنی گمراہ کن عقیدوں کی حقیقت پر پردہ ڈال سکیں۔
ابن جوزی (اہل سنت کے مشہور حنبلی عالم) اہل حدیث کے حنبلیوں کو مخاطب کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
📜 "تم نے اس مذہب کو ایک قبیح و ناپسندیدہ داغ سے آلودہ کر دیا ہے، یہاں تک کہ اب جب بھی کوئی 'حنبلی' کہلاتا ہے تو فوراً مجسم (اللہ کے لیے جسم ماننے والا) سمجھا جاتا ہے۔ پھر تم نے تعصب میں اپنے مذہب کو یزید بن معاویہ کے ساتھ بھی آراستہ کر دیا، حالانکہ تمہیں معلوم ہے کہ اس مذہب کے بانی (امام احمد بن حنبل) نے اس پر لعنت کرنے کو جائز قرار دیا ہے۔
اور ابو محمد التمیمی تمہارے بعض ائمہ کے بارے میں کہا کرتے تھے: ’انہوں نے اس مذہب کو اتنی قبیح بدنامی سے آلودہ کر دیا ہے کہ قیامت کے دن تک بھی یہ دھبہ کسی پانی سے نہیں دھل سکتا۔‘"
📚 ابن الجوزی الحنبلی، جمال الدین ابو الفرج عبدالرحمن بن علی بن محمد (وفات: 597 ہجری)،
کتاب: دفع شبه التشبیه بأكف التنزيه،
تحقیق: حسن السقاف،
ناشر: دار الإمام الرواس،
چوتھی اشاعت: 1428ھ / 2007ء۔
یہ کلام اس بات کی دلیل ہے کہ ابن الجوزی کے زمانے میں حنبلی مذہب کے اکثر علما تجسیم کے قائل ہو چکے تھے اور یہی وجہ تھی کہ ابن الجوزی کو ان کے خلاف قلم اٹھانا پڑا۔
ابن الجوزی اسی کتاب میں ان علما کے بارے میں چند اشعار بھی لکھتے ہیں، جن میں وہ ان کے افکار پر سخت تنقید کرتے ہیں:
> ومالوا إلى التشبيه أخذا بصورة / لما نقلوه فی الصفات وهم غفل
وہ لوگ خدا کے لیے شکل مانتے ہوئے تشبیہ (یعنی خدا کو مخلوق جیسا کہنا) کی طرف مائل ہوئے، جو کچھ انہوں نے صفاتِ خدا میں نقل کیا، اس پر وہ غافل رہے۔
> وقالوا الذی قلناه مذهب أحمد / فمال إلى تصدیقهم من به جهل
انہوں نے کہا: "جو کچھ ہم کہتے ہیں، یہی احمد بن حنبل کا مذہب ہے" اور جو جاہل تھے وہ ان کی تصدیق پر مائل ہو گئے۔
> فقد فضحوا ذاك الإمام بجهلهم / ومذهبه التنزيه لكن هم اختلوا
انہوں نے اپنی جہالت سے اس امام (احمد بن حنبل) کو رسوا کر دیا، حالانکہ احمد بن حنبل کا مذہب تنزیہ (یعنی خدا کو ہر نقص و شبہ سے پاک ماننا) تھا، لیکن وہ (یہ لوگ) بگڑ گئے۔
> لعمري لقد أدركت منهم مشايخا / وأكثر من أدركتهم ما له عقل
قسم بخدا! میں نے ان کے کئی مشایخ کو دیکھا ہے، اور ان میں سے اکثر میں نے عقل سے خالی پایا۔
> وأكثر حساد لنا أهل مذهبي / فلو قدروا أفتوا بأن دمي حل
ہمارے مذہب کے حسد کرنے والے اکثر یہی لوگ ہیں، اگر ان کے اختیار میں ہوتا تو میرے قتل کا فتویٰ بھی دے ڈالتے۔
📚 حوالہ: "دفع شبه التشبيه"، ص 276–277
ان اشعار اور جملوں سے ابن الجوزی کی سخت تنقید واضح ہوتی ہے کہ حنبلی مذہب کے بعض بڑے علما خدا کو جسم مانتے تھے، اور وہ احمد بن حنبل کی نسبت سے غلط افکار پھیلاتے تھے
ایک کتاب جو "ادارۂ اوقاف دبئی" کے تحت باقاعدہ طور پر شائع ہوئی ہے، اس میں ہم پڑھتے ہیں:
📜 "رہی بات یہ کہ تجسیم اور حشو (خدا کو مخلوق جیسا ماننا) حنبلیوں کے عقیدے کا لازم نتیجہ ہے، تو اگرچہ یہ ان سب میں عام نہیں، لیکن ان کے ہاں یہ بات پھیلی ہوئی اور مشہور ہے۔ اور جو ہم کہہ رہے ہیں، اس کی صحت کے لیے ابن الجوزی الحنبلی کا قول، جو اس نے کتاب 'دفع شبه التشبيه' میں لکھا ہے، کافی ہے..."
📚 ردود ومناقشات على ما ورد في كتيبات "الشرک ووسائله عند فقهاء المذاهب الأربعة", ص180
#بدر_علی #التماس_دعا #تعلیمات_اہلبیتؑ #تبدیلی_ممنوع #اَلّٰلھُمَّ_لْعَنْ_قَتَلَۃَ_اَلحُسَیِنَؑ_وَ_اُولاَدِ_اَلحُسَیِنَؑ_وَ_اَصحَابِ_الحُسینؑ #اللھم_صلی_علی_محمد_وآل_محمد #invisibleislam
Gallery
Tap any image to view full screen