قرآنِ کریم میں جو آیات بظاہر اللہ تعالیٰ کی تشبیہ مخلوق سے کرتی معلوم ہوتی ہیں ان کی اصل معنوی تفسیر مذہبِ اہل بیت ع کی زبانی
قرآنِ کریم میں جو آیات بظاہر اللہ تعالیٰ کی تشبیہ مخلوق سے کرتی معلوم ہوتی ہیں ان کی اصل معنوی تفسیر مذہبِ اہل بیت ع کی زبانی تاکہ اللہ کو مخلوق سے مشابہ نہ ٹھہرایا جائے۔
📜 كل شيء هالك إلا وجهه
📃 ترجمہ: ہر چیز فنا ہونے والی ہے سوائے اس کے چہرے کے۔
✅ تشریح: یہاں "چہرہ" سے مراد دینِ الٰہی ہے، یعنی وہ راستہ جس سے اللہ کی طرف رجوع کیا جائے۔
📜 يوم يكشف عن ساق
📃ترجمہ: جس دن پنڈلی کھولی جائے گی۔
✅ تشریح: یہاں "ساق" سے مراد معاملے کی سختی اور شدت ہے۔
📜 يا حسرتى على ما فرطت في جنب الله
📃 ترجمہ: افسوس مجھ پر کہ میں نے اللہ کے پہلو میں (حق) میں کوتاہی کی۔
✅ تشریح: "جنب اللہ" سے مراد اللہ کی اطاعت ہے۔
📜 ونفخت فيه من روحي
📃 ترجمہ: اور میں نے اس میں اپنی روح پھونکی۔
✅ تشریح: "روح" سے مراد ایک مخلوق ہے جو اللہ نے آدم اور عیسیٰ میں سے کسی میں رکھی۔ "میری روح" کہنا ایسے ہی ہے جیسے "میرا گھر، میرا بندہ" وغیرہ۔
📜 بل يداه مبسوطتان
📃 ترجمہ: بلکہ اس کے دونوں ہاتھ کشادہ ہیں۔
✅ تشریح: دونوں ہاتھوں سے مراد دنیا اور آخرت کی نعمتیں ہیں۔
📜 والسماء بنيناها بأيد
📃 ترجمہ: اور ہم نے آسمان کو طاقت سے بنایا۔
✅ تشریح: "أيد" یعنی طاقت، جیسا کہ حضرت داؤد کو "قوت والا" کہا گیا۔
📜 والأرض جميعا قبضته يوم القيامة
📃 ترجمہ: اور ساری زمین قیامت کے دن اس کی مٹھی میں ہو گی۔
✅ تشریح: یعنی سب کچھ اس کے اختیار اور ملکیت میں ہو گا۔
📜 والسماوات مطويات بيمينه
📃 ترجمہ: اور آسمان اس کے داہنے ہاتھ میں لپٹے ہوں گے۔
✅ تشریح: یعنی اس کی قدرت و اختیار میں ہوں گے۔
📜 وجاء ربك
📃 ترجمہ: اور تیرا رب آئے گا۔
✅ تشریح: یعنی تیرے رب کا حکم آئے گا۔
📜 إنهم عن ربهم يومئذ لمحجوبون
📃 ترجمہ: اس دن وہ اپنے رب سے حجاب میں ہوں گے۔
✅ تشریح: یعنی رب کی رحمت اور ثواب سے محروم ہوں گے۔
📜 أن يأتيهم الله في ظل من الغمام
📃 ترجمہ: کیا وہ اس بات کا انتظار کر رہے ہیں کہ اللہ ان کے پاس بادلوں کے سائے میں آ جائے؟
✅ تشریح: اس سے مراد اللہ کا عذاب آنا ہے۔
📜 وجوه يومئذ ناضرة * إلى ربها ناظرة
📃 ترجمہ: اس دن کچھ چہرے تروتازہ ہوں گے، اپنے رب کی طرف دیکھتے ہوئے۔
✅ تشریح: یعنی ثواب اور نعمت کی طرف دیکھ رہے ہوں گے، نہ کہ خود اللہ کو۔
📜 ومن يحلل عليه غضبي فقد هوى
📃 ترجمہ: اور جس پر میرا غضب نازل ہو جائے، وہ ہلاک ہو گیا۔
✅ تشریح: "غضب" سے مراد اللہ کا عذاب ہے۔
📚 الاعتقادات شیخ صدوق
یہ تمام آیات تفسیر بالمأثور اور اہل بیت و مفسرین کی آراء کی روشنی میں مخلوق پر قیاس سے بچاتے ہوئے معانی کو واضح کرتی ہیں تاکہ عقیدہ توحید اور تنزیہ (اللہ کو ہر نقص و تشبیہ سے پاک ماننا) برقرار رہے۔
بدر علی
#تعلیمات_اہلبیتؑ
Gallery
Tap any image to view full screen