الله ﷻ نے آدم علیہ السلام کو اپنی صورت پر بنایا؟
﷽
ایک مشہور حدیث ہے جسکے تحت معلوم ہوتا ہے کہ الله ﷻ نے آدم علیہ السلام کو اپنی صورت پر خلق کیا، اگر اس حدیث کو من و عن مان لیا جائے تو اس سے تشبیہ کا عقیدہ لازم آتا ہے اوریہ کہ انسان الله کی صورت پر بنا ہوا ہے (والعیاذ بالله)۔ اسلام سے پہلے یہ عقیدہ یھودیت میں رائج تھا، جیسے کہ تورات میں آیت ہے:
וַיִּבְרָ֨א אֱלֹהִ֤ים ׀ אֶת־הָֽאָדָם֙ בְּצַלְמֹ֔ו בְּצֶ֥לֶם אֱלֹהִ֖ים בָּרָ֣א אֹתֹ֑ו זָכָ֥ר וּנְקֵבָ֖ה בָּרָ֥א אֹתָֽם׃
یوں الله نے انسان کو اپنی صورت پر بنایا، الله ﷻ کی صورت پر۔ اُس نے اُنہیں مرد اور عورت بنایا۔ (1)
تو صدور اوّل تو تورات ہوئی، اور اس میں واضح تشبیہ کا عقیدہ نظر آتا ہے خدا اور بشر کا، مگر یہی بات بطور حدیث بھی بخاری شریف اور دیگر کتب میں موجود ہے، مثلا:
عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِذَا قَاتَلَ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ فَلْيَجْتَنِبِ الْوَجْهَ فَإِنَّ اللَّهَ خَلَقَ آدَمَ عَلَى صُورَتِهِ " .
نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ تم میں سے کوئی بھی جب اپنے بھائی سے لڑے تو اسکو چہرے پر مارنے سے اجتناب کرنا چاہئیے کیونکہ الله نے آدم علیہ السلام کو اپنی صورت پر بنایا ہے۔ (2)
یا یہ حدیث:
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا ضَرَبَ أَحَدُكُمْ فَلْيَجْتَنِبِ الْوَجْهَ، وَلَا يَقُولَنَّ: قَبَّحَ اللَّهُ وَجْهَكَ، وَوَجْهَ مَنْ أَشْبَهُ وَجْهَكَ؛ فَإِنَّ اللَّهُ خَلَقَ آدَمَ عَلَى صُورَتِهِ "
ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ رسول الله ﷺ نے فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی دوسرے کو مارے تو چہرے سے اجتناب کرے، اور یہ نہ کہے “الله تیرے چہرے کو بگاڑے (عربی میں بد دعاء ہے یہ) اور اسکے چہرے کو جو تجھ سے مشابہ ہے، کیونکہ الله نے آدم علیہ السلام کو اپنی صورت پر بنایا ہے۔ (3)
البانی نے کہا حدیث صحیح ہے، ارناووط نے کہا حسن ہے، احمد شاکر نے صحیح کہا ہے اور دوسری جگہ سند کو قوی کہا ہے، اسکا ایک طرق مصنف عبد الرزاق میں بھی ہے جو صحیح ہے بالکل، بظاہر یہ روایت ابو ہریرہ سے ہی نقل ہوئی ہے۔ مگر اس سے یہی تاثر آتا ہے کہ الله نے آدم علیہ السلام کو اپنی ہی صورت پر بنایا۔ شیعہ احادیث میں بھی حدیث تو موجود ہے مگر اس طرح سے نہیں، مثلا:
ہمارے کچھ اصحاب سے، جنہوں نے احمد بن محمد بن خالد سے، جنہوں نے اپنے والد سے روایت کی، جنہوں نے عبد الله بن بحر سے، انہوں نے ابو ایوب الخزاز سے، انہوں نے محمد بن مسلم سے روایت کی جنہوں نے کہا کہ میں نے امام الباقر علیہ السلام سے اس بارے میں پوچھا جو روایت کیا جاتا ہے کہ الله نے آدم علیہ السلام کو اپنی صورت پر بنایا۔ امام علیہ السلام نے فرمایا وہ ایک ایجاد کردہ اور خلق کردہ صورت ہے اور الله نے اسکو باقی مختلف صورتوں پر چُنا اور اختیار کیا، پھر اسکو اپنے ساتھ جوڑا کیا جیسے کعبہ کو اپنے ساتھ جوڑا اور روح کو اپنے ساتھ جوڑا اور کہا “میرا گھر”، اور “میں نے اس میں اپنی روح پھونکی ہے”۔ (4)
علامہ مجلسی نے کہا کہ حدیث ضعیف ہے۔ (5)
ایک اور روایت ہے اس ہی طرح کی:
حَدَّثَنَا أَحْمَدِ بْنِ زِيَادِ بْنِ جَعْفَرَ الْهَمْدَانِیُّ رَضِيَ الله عَنْهُ قَالَ حَدَّثَنَا عَلِيِّ بْنِ إِبْرَاهِيمِ بْنِ هَاشِمٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَلِیِّ بْنِ مَعْبَدٍ عَنِ الْحُسَیْنِ بْنِ خَالِدٍ قَالَ قُلْتُ لِلرِّضَا علیه السلام یَا ابْنَ رَسُولِ اللَّهِ إِنَّ النَّاسَ یَرْوُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلی الله علیه و آله قَالَ إِنَّ اللَّهَ خَلَقَ آدَمَ عَلَی صُورَتِهِ فَقَالَ قَاتَلَهُمُ اللَّهُ لَقَدْ حَذَفُوا أَوَّلَ الْحَدِیثِ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلی الله علیه و آله مَرَّ بِرَجُلَیْنِ یَتَسَابَّانِ فَسَمِعَ أَحَدَهُمَا یَقُولُ لِصَاحِبِهِ قَبَّحَ اللَّهُ وَجْهَکَ وَ وَجْهَ مَنْ یُشْبِهُکَ فَقَالَ علیه السلام یَا عَبْدَ اللَّهِ لَا تَقُلْ هَذَا لِأَخِیکَ فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَ جَلَّ خَلَقَ آدَمَ عَلَی صُورَتِهِ.
ہم سے بیان کیا احمد بن زیاد بن جعفر الہمدانی رضی اللہ عنہ نے، انہوں نے کہا ہم سے بیان کیا علی بن ابراہیم بن ہاشم نے، انہوں نے اپنے والد سے روایت کی، جنہوں نے علی بن معبد سے، انہوں نے حسین بن خالد سے، جنہوں نے کہا کہ میں نے امام الرضاء علیہ السلام سے پوچھا، یا ابن رسول الله ﷺ! یقیناً لوگ روایت کرتے ہیں کہ رسول الله ﷺ نے فرمایا کہ الله نے آدم علیہ السلام کو اپنی صورت پر بنایا، امام علیہ السلام نے کہا، الله ان سے لڑے! انہوں نے اس حدیث کا پہلا حصہ حذف کردیا، یقیناً رسول الله ﷺ دو لوگوں کے پاس سے گذر رہے تھے جو ایک دوسرے کو گالیاں دے رہے تھے، تو نبی ﷺ نے ان میں سے ایک کو اپنے ساتھی کو کہتے سنا، الله تیرے چہرے کو بگاڑے اور اسکے چہرے کو جو تجھ سے مشابہ ہے۔ نبی ﷺ نے فرمایا اے عبد الله! اپنے بھائی کو یہ نہ کہو کیونکہ الله نے آدم علیہ السلام کو اسکی صورت پر بنایا ہے۔ (6)
اسکی سند بھی کمزور ہے، سند میں علی بن معبد ہے جو مجھول و مہمل ہے
📚 المفيد من معجم رجال الحديث، رقم: 8535)
اور وہ روایت کر رہا ہے الحسین بن خالد الصیرفی سے اور اسکی ثقاہت ثابت نہیں ہے۔
مگر اگر سند کو ہم چھوڑ دیں تو اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ مکمل واقعہ نہیں بیان کیا جاتا اہل سنت میں بلکہ اسکو مسخ کردیا گیا، جس سے سارا سیاق و سباق بدل جاتا ہے اور لگتا ہے کہ ادھر الله کی صورت کی بات ہو رہی ہے۔ اگر ہم حدیث کے متن پر دقت کریں واقعہ کے ضمن میں تو الفاظ خلق آدم علی صورتە (آدم علیہ السلام کو اسکی صورت پر خلق کیا) میں “اس” سے مراد الله نہیں بلکہ وہ شخص مراد لیا جا سکتا ہے ھاء کے ضمیر میں یہ ضمیر واپس آدم علیہ السلام پر بھی جا سکتا ہے نہ کہ الله پر۔ اہل سنت (خصوصا سلفیوں) کی اس حدیث پر رائے ہے کہ الله کی ایک صورت ہے اور آدم علیہ السلام کو الله نے اس صورت پر بنایا یعنی سُننا بولنا دیکھنا عطاء کیا اور چہرا عطاء کیا جیسا الله کے پاس بھی چہرا ہے (جیسا اسکی شان کے لائق ہے)۔ اب ظاہر ہے ہم تو نہیں مانتےالله کا حقیقی چہرا ہے بلکہ اس سے مراد قوت و طاقت لیتے ہیں۔ تو ہمارے نزدیک ھاء کے ضمیر کا آدم علیہ السلام پر واپس جانا بھی ممکن ہے اگر مکمل روایت کو دیکھا جائے، یا یہ کہ وہ ضمیر اس شخص کی طرف جاتا ہے جسکو گالی دی جا رہی ہے کہ آدم علیہ السلام کو بھی اسکی ہی صورت پر بنایا گیا ہے جیسے یہ شخص ہے (جسکو تم گالی دے رہے ہو)۔ ورنہ تو روایت کی جڑ اسرائیلات بتائی سکتی ہے چونکہ تورات میں بھی بالکل یہی الفاظ ہیں اور کچھ مشکوک راویوں نے اسکو روایت کیا ہے شیعہ سنی کتب میں۔ یہ بات کہنا ضروری ہے کہ شیعہ مصادر میں یہ حدیث صحیح اسناد سے نہیں آئی جبکہ اہل سنت کی صحیحین (بخاری اور مسلم) اور دیگر کتب میں انکے رجال کے مطابق صحیح الاسناد موجود ہے۔ مگر ظاہر ہے حذف کے ساتھ اور بغیر واقعہ گالی والے واقعہ کے۔ تو ہم کہتے ہیں کہ اسکا ضمیر واپس اس شخص پر جاتا ہے تو ترجمہ یوں مناسب ہوگا کہ اے عبد الله! اپنے بھائی کو یہ نہ کہو کیونکہ الله نے آدم علیہ السلام کو اس (جسکو تم گالی دے رہے ہو) ہی کی صورت پر بنایا تھا۔ ورنہ تو یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ اس حدیث کا ظاہری مفہوم قرآن کی آیت لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَيْءٌ، یعنی اس جیسا کچھ نہیں سے متضاد ہے، اور الله صورت سے پاک، جسکی صورت ہوگی اسکو دیکھا بھی جا سکتا ہے مگر الله فرماتا ہے لَّا تُدْرِكُهُ الْأَبْصَارُ وَهُوَ يُدْرِكُ الْأَبْصَارَ، نگاہیں اسے نہیں دیکھ سکتیں اور وہ نگاہوں کو دیکھ لیتا ہے۔ ہم روایت کی مکمل تردید بھی نہیں کرتے بلکہ اسکی مناسب تاویل کرتے ہیں جیسا کہ اوپر کی ہے۔
أحقر: سيد علي أصدق نقوي
اللهم صل على محمد ﷺ وآله
مآخذ:
(1) تورات، کتاب التکوین، باب 1، آیت 27
(2) صحيح مسلم، رقم الحديث: 6655
(3) سلسلة الأحاديث الصحيحة، رقم الحديث: 862، مصنف عبد الرزاق، رقم الحديث: 17952، مسند أحمد، رقم الحديث: 7420، صحيح ابن حبان، رقم الحديث: 5710
(4) الكافي، ج 1، ص 134
(5) مرآة العقول، ج 2، ص 84
(6) التوحيد، ص 153، عيون أخبار الرضاء، ج 2، ص 110